بحریہ ٹاون کے سامنے دھرنے کی اصل کہانی

گذشتہ مہینے مقامی لوگوں  کی زمین پر بحریہ ٹاون قبضہ کرنے کے لئے نہ صرف مقامی لوگوں سمیت ان کی خواتین پر تشدد اور فائرنگ کی ، جسکی رپورٹس سندھی اور اردو اخبارات میں شایع ہوئیں۔۔بحریہ ٹاون انتظامیہ کی بربریت کا شکار ہونے والے مقامی افراد کےلئے سندھ انڈیجنس الائنس گذشتہ آٹھ سال سے جدوجہد کررہا ہے ۔۔بحریہ ٹاون انتظامیہ کی بربریت کے خلاف مراد گبول نے سندھ ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کروائی  جس پر سندہ  ہائی کورٹ نے بحریہ ٹاون انتظامیہ کو کسی  بھی قبضے اور کام کرنے سے روک دیا تھا ۔۔بحریہ ٹاون انتظامیہ اور سندہ حکومت کے خلاف سندھ ایکشن کمیٹی جس میں سندھ کے قومپرست رہنما شامل ہیں ، انہوں نے ایک پریس کانفرنس کرکے بحریہ متاثرین کا ساتھ دینے کا عندیہ دیا ۔۔اس موقع پر سندھ انڈیجنس الائنس نےآل پارٹیز کانفرنس طلب کی جس میں تمام قومپرست رہنماوں ، سول سوسائٹی ، ادیبوں ،شاعروں اور صحافیوں نے شرکت کی۔۔ اے پی سی میں فیصلہ کیا گیا کہ بحریہ ٹاون انتظامیہ کی مقامی لوگوں سے زیادتیوں کے خلاف  سات جون دو ہزا ر اکیس کو بحریہ ٹاون کے مین گیٹ کے سامنے پرامن دھرنا دیا جائے گا ۔۔دھرنے میں سندھ کے عوام ، سول سوسائٹی ، سیاستدانوں، ادیبوں ، شاعروں اور صحافیوں کو دعوت دی گئی ۔۔چھ جون کو بحریہ ٹاون کے سامنے دھرنے میں لاکھوں افراد شریک ہوئے جن میں سیاسی کارکنوں، ادیبوں، شاعروں اور صحافیوں سمیت تمام مکتبہ فکر کے لوگ شامل تھے ۔۔اس موقع پر عوامی آواز ٹی وی  سے بات چیت کرتے ہوئے سول سوسائٹی کی رہنما نے کہا کہ زمینیں چھین کر ترقی نہیں ہوسکتی ۔۔دھرنے میں سیاسی کارکنوں اور عوام کا جوش دیکھتے ہوئے قومپرست رہنماوں  کا کہنا تھا کہ امید سے زیادہ عوام کی طاقت قابل فخر ہے۔۔سندھ ترقی پسند پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر قادر مگسی نے عوامی آواز ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اگر بحریہ ٹاون اور سندھ حکومت اب سدھر جائے ۔۔بحریہ ٹاون کے سامنے دھرنے سے قومپرست رہنماوں کے خطاب کا سلسلہ ابھی جاری ہی تھا کہ  کچھ شرپسند بحریہ ٹاون کے اندر داخل ہوئے اور توڑ پھوڑ شروع کی  تو قومپرست رہنماوں نے بار بار ان کی نا صرف نشاندہی کی بلکہ صاف صاف کہہ  دیا کہ ان شرپسند عناصر سے ان کا کوئی تعلق نہیں ۔۔یہ دھرنے کو ناکام کرنے آئے ہیں ۔۔انہوں نے پولیس کو بھی اشارہ دیا کہ وہ ان شرپسند عناصر کو دیکھے ۔ لیکن ایسے میں اچانک آگ کے شعلے بھڑک اٹھے ۔۔جس کے بعد خاموش کھڑے ہوئے پولیس  اہلکار اچانک حرکت میں  آگئے اور وہ دھرنے پر ٹوٹ پڑے اور دھڑا دھڑ آنسو گیس کی شیلنگ اور لاٹھی چارج شروع کیا ۔۔قومپرست جماعتوں کے معمر اور بیمار سربراہان کو گاڑی میں بٹھاکر لے جایا گیا ۔۔جس کے بعد پولیس دھرنے میں آئی ہوئی فیملیز اور کارکنوں کو ان کی گاڑیوں سے اتار کر تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد اپنے ساتھ تھانے لے گئی جہاں پور ی  رات ان کو  پانی دیا گیا نہ ہی کھانا اور بغیر پنکھوں کے کمروں میں ایک ساتھ رکھ کر تشدد کیا گیا اور ایک سو بیس افراد پر ایف  آئی آرز درج کرائی گئیں ۔۔جن میں سے کئی افراد کو آج اے ٹی سی میں پیش کیا گیا  اور دو روز کے جسمانی رمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا گیا ۔۔

اس موقع پر سندھ انڈیجنس الائنس کے رہنما حفیظ بلوچ نے عوامی آواز ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایسے ہتھکنڈوں سے اپنی پرامن جدوجہد سے دستبردار نہیں ہوں گے ۔۔ان کا کہنا تھاکہ الائنس کے رہنما خالق جونیجو، گل حسن کلمتی ، مراد گبول سمیت  ایسے مقامی لوگوں کے خلاف ایف آئی آرز درج کی گئی ہیں جو وہاں موجود ہی نہیں تھے۔۔رات دیر گئے جسقم چیئرمین  صنعان قریشی کو گرفتار کیا گیا  جس کی سندھ ایکشن کمیٹی نے شدید مذمت کرتے ہوئےاس کی رہائی کا مطالبہ کیا ۔۔ ان تمام واقعا ت پر سندھ کے صحافیوں نے سوشل میڈیا پر سندھ حکومت سمیت پولیس  کی زیادتیوں پر شدید غم و غصہ کا اظہار کیا ۔۔دوسری جانب  پنجاب کے صحافیوں نے بھی بحریہ ٹاون  کے خلاف اپنا مورچہ سنبھالتے ہوئے واقعہ میں اردو میڈیا  پر بھی تنقید کی ۔۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.