دفاعی اخراجات میں مسلسل اضافہ، ہم کس طرف جارہے ہیں ؟

اسد ممتاز رڈ

میں نے جب سے ہوش سنبھالا ہے، ایک جملہ بار بار اخباروں اور ٹی وی چینلز پر پڑھتا اور سنتا آ رہا ہوں کہ پاکستان نازک دور سے گزر رہا ہے۔ اس جملے کو بار بار دہرانے کا واحد مقصد یہ ہے کہ عوام کے ذہنوں جنگ کےجنون کا خیال زندہ رکھا جاسکے، اس چیز کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمارے حکمراں (فوجی ، سول) اور کچھ کریں یا نہ کریں پرایک کام وہ سب بڑی ایمانداری اور فرمابرداری سے کرتے آ رہے ہیں اور وہ یہ کہ ہر سال دفاعی بجٹ میں اضافہ اور وہ بھی ہر صورت میں ۔

دفاعی اخراجات پر تحقیق کرنے والے عالمی ادارے اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ (سیپری) نے اپنی حالیہ رپورٹ میں یہ بتایا ہے سال 2009 سے 2018 تک پاکستان کے دفاعی اخراجات میں 77 فیصد اضافہ ہوا ہے ۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پاکستان اور بھارت مسلسل اپنے دفاعی بجٹ میں اضافہ کر رہے ہیں۔ اس رپورٹ میں عالمی سطح پر ہونے والے دفاعی اخراجات کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ سال 2018 میں پوری دنیا میں دفاعی اخراجات پر 1822 بلین ڈالرز خرچ کئے گئے ہیں، جو 2017 میں خرچ کیے جانے والے 1739 کے مقابلے میں 2.6 فیصد زیادہ ہیں ۔

 

1822 بلین ڈالرز کو اگر دنیا کی مجموعی آبادی کے حساب سے دیکھا جائے تو یہ 239 ڈالرز فی کس بنتے ہیں۔ گذشتہ بیس برسوں میں عالمی سطح پر دفاعی بجٹ میں 76 فیصد اضافہ ہوا ہے ۔ سیپری کے مطابق دنیا میں گذشتہ تیس برسوں میںِ ہر سال دفاعی بجٹ میں اضافہ کیا جا رہا ہے ۔ اس وقت دنیا میں سب زیادہ دفاعی بجٹ والے دنیا کے پانچ ملک ہیں جو دنیا کے ساٹھ فیصد اخراجات کے ذمہ دار ہیں ۔ اس میں امریکا 649 بلین ڈالرز سے پہلے، چین 250 بلین ڈالر سے دوسرے ، سعودی 67.6 بلین ڈالر سے تیسرے، بھارت 66.5 بلین ڈالر سے چوتھے اور فرانس 63.8 بلین ڈالر سے پانچویں نمبر پر ہے، پاکستان اس لسٹ میں بیسویں نمبر پر ہے۔ دوسری طرف ہم اگر پاکستان اور بھارت کو دیکھیں تو ان دونوں ملکوں کی حالات غربت افلاس، مہنگائی ، بیروزگاری سے لپٹے ہوئے ہیں۔ پاکستان کی نصف آبادی غربت کی لکیر سے نیچے کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

 

ساٹھ فیصد آبادی کی ایک روز کی کمائی 2 ڈالر سے بھی کم ہے ۔ پاکستان کی خواتین کا شمار افریقہ اور سومالیہ کے بعد دنیا کی غریب ترین خواتین میں ہوتا ہے۔ 80 فیصد آبادی کو صاف پانی تک میسر نہیں ہے۔ ایک کروڑ سے زیادہ بچے اسکولوں سے باہر ہیں ۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن نے یونیورسٹیوں کو دی جانے والی اسکالرشپ میں پچاس فیصد بجٹ میں یہ کہہ کر کٹوتی کی ہے کہ ملک میں معاشی بحران ہے۔ پاکستان میں سرکاری ادارہ برائے شماریات نے اپنی 2 مارچ 2019 کو جاری ایک میں رپورٹ اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ بیروزگاری کی شرح میں دس فیصد اضافہ ہوا ہے اور بیروزگار افراد کی تعداد 60 لاکھ سے زیادہ ہے۔ ایک اورعالمی ادارے انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ فار اسٹریٹجک اسٹڈیز کے مطابق 2018 میں انڈیا نے اپنی 14 لاکھ سرگرم فوج کے لے 4 ٹریلین روپے خرچ کئے جو جی ڈی پی کا 2.1 فیصد بنتا ہے۔ اسی طرح پچھلے سال پاکستان نے 1.26 ٹریلین روپے ( 11 ارب ڈالر) خرچ کیئے جو جی ڈی پی کا 3.6 فیصد بنتا ہے ۔

جب کے تعلیم کے لے 2.3 جی ڈی پی ( 10.789) بلین رپے خرچ کئے گئے، صحت کے شعبے کا حال بھی کچھ ایسا ہی ہے .

دونوں ایٹمی ممالک کے پاس انسانیت کا خاتمہ کر دینے والے ان ہتھیاروں کی ترسیل کے لیے دور تک ہدف کو نشانہ بنانے والے میزائل بھی موجود ہیں۔

جس طرح ہمارے حکمران ہر بار قومی مفاد نے نام پر دفاعی بجٹ کا اضافہ کرتے ہیں، اسی طرح اگر حقیقت میں قومی مفاد کو مدنظر رکھ کر دونوں ملکوں کے حکمراں دفاعی پروگرام پر ہونے والی رقوم کو اگر تعلیم ، صحت اور سماجی بہبود کے شعبوں میں لگائیں تو کوئی بچہ اسکول سے باہر نہیں ہوگا، دوران حمل عورتوں کی اموات، شیر خوار بچوں کی اموات سمیت ناخواندگی کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے۔ لوگوں کو صاف پانی کی فراہمی سمیت عوام کی دیگر ضروریات پوری کی جاسکتی ہیں، جسے پورا کرنا ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.