سندھ کی بہادر بیٹی ام رباب چانڈیو

ورثا پيرزادو

سندھ میں کئی بہادر عورتوں نے جنم لیا جن میں اب ام رباب چانڈیو کا نام بھی لیا جائے گا۔اب تو ام رباب چانڈیو کو سب جانتے ہیں لیکن پھر بھی جو لوگ نہیں جانتے ان کے لیئے ایک چھوٹا تعارف کرواتی چلوں۔ ام رباب چانڈیو وہ مظلوم لڑکی ہے جس کے والد،دادا اور چاچا کو قتل کردیا گیا ہے۔

اس حوالے سے میڈیا نے ام رباب کو انصاف دلوانے کی بڑی کوشش کی ہے۔پر یہ معاملہ بھی فلموں ڈراموں جیسا ہے جہاں ہیروئن طاقتور دشمن کے خلاف لڑتی ہے اور انتہا کے ظلم اور تکلیفوں کے بعد کامیابی حاصل کرتی ہے پر یہاں حقیقت میں ایسا ہورہا ہے جہاں زیادہ تر مظلوم کو انصاف نہیں ملتا۔  پھر بھی ان کی ہمت کو سلام کہ ابھی تک جدوجہد میں مصروف ہیں اور عدالت کے ہر بلاوے پر حاضر ہوتی ہیں۔

اس کیس کے سامنے آتے ہی سندھی میڈیا میں تہلکا مچ گیا اور تمام صحافی ان سے ملاقات کرنے کے لئے گئے اور دشمنی کی وجہ پوچھنے کے لئے حاضر ہو گئے ام رباب نے ایک سوال کے جواب میں کہا ہے کہ ان کے والد،دادا اور چاچا کے قتل کے پیچھے بغاوت تھی۔ سندھ کے فیوڈل نظام کے خلاف بغاوت جو ان کے والد،دادا اور چاچا نے شروع کی۔ چانڈیو  ذات سے تعلق رکھنے والے تمام لوگوں نے ان کی جدوجہد میں ہاتھ بڑھایا تاکہ سردارانہ  نظام ختم ہوجائے اسی خوف سے کہ کہیں یہ نظام ختم نہ ہوجائے چانڈیو سرداروں  نے ام رباب کے خاندان کے ان افراد کا قتل کروادیا جو اس سسٹم کے خلاف سربراہی کر رہے تھے۔

ام رباب چانڈیو کے مطابق کچھ لوگ ام رباب کے ساتھ انصاف کروانے کے لیئے ان کا ساتھ اس وجہ سے بھی نہیں دے رہے کہ کہیں ان لوگوں کے خاندانوں کو کوئی نقصان نہ پہنچے،کیونکہ آخرکار یہ سردار ایک مشہور سیاسی جماعت کےایم پی ای ہیں اور کافی با اثر بھی ہیں۔ 17 جنوری 2018 میں ام رباب کے والد،دادا اور چاچا کو قتل کروادیا گیا ہے۔اس کے بعد ام رباب انصاف مانگنے کے لیئے در در کی ٹھوکریں کھا رہیں ہیں اور اسی جدوجہد میں لگی ہوئی ہیں۔اس کیس کے آغاز میں وہ اکیلی عدالتوں کے چکر کاٹتی رہیں لیکن اب بہت لوگوں نے ان کو انصاف دلوانے میں مدد کرنے کا واعدہ کیا ہے۔

ام رباب چانڈیو اس  وقت میڈیا میں بہت نظر آئیں جب چیف جسٹس کے سامنے بینر لیکر ان کی گاڑی کے سامنے آگئی۔پھر ایک پیشی کے دوران وہ بغیر جوتوں کے احتجاج کے طور پر عدالت میں گئیں اور ان کی وہ تصاویر وائرل ہوگئیں۔اس کے بعد انہوں نے کئی احتجاج کیئے جس میں  بہت لوگوں نے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے حصہ لیاان تمام وائرل وڈیوز اور تصاویر کے بعد ان کو کئی ٹی وی چینلز میں بلایا گیا اور سوالات کئے گئے جہاں وہ مخصوص پارٹی پر تنقید کرتے ہوئے بھی نظر آئیں۔

ان تمام کوششوں کے پیچھے ان کا ایک ہی مقصد ہے انصاف حاصل کرنا لیکن جس طرح ہمارے معاشرے میں مظلوم کو تکالیف کا سامنے کرنا پڑتا ہے۔ اسی طرح اس وقت ام رباب پر الزامات لگا کر تکالیف دی جا رہی ہیں۔پہلا الزام ہی کردار پر لگایا جاتا ہے۔حال میں ان کی ملاقات وزیر داخلا اعجاز شاہ اور ایم این اے نزہت پٹھان سے ہوئی۔اس پر ام رباب کو سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا لیکن بہرحال انصاف کے حصول کے لئے رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ام رباب جس طرح اکیلی ان مشکلات کو عبور کرتی آئی ہیں اس پر ان کو سلام۔

ہمیں ہر مظلوم کا ساتھ دے کر انصاف دلوانے کی کوشش کرنی چاہئے کیونکہ اگر آج اس مظلوم کے ساتھ انصاف نہیں ہوگا تو کل ہم بھی اس کی جگہ ہوسکتے ہیں۔ میری دعا ہے کہ ام رباب چانڈیو کو جلد انصاف ملے تاکہ آئندہ لوگ جرم نہ کریں۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.