سندھ کے پسماندہ علاقوں کو بدلنے والے منصوبے

حریر: ماریا اسماعیل

سندھ قدرتی وسائل سے مالامال ہونے کے باوجود پسماندگی کاشکار ہے اور سندھ کے کچھ اضلاع ایسے بھی ہیں جو21 ویں صدی میں بھی انتہائی پسماندگی کا شکارہیں اور ایسے اضلاع میں ٹھٹھہ بھی شامل ہے، جس کے علاقے کیٹی بندر، سجاول، میربھٹورو، ساکرو، گودھر، ۔شاھبندر اور کھاروچھارن ایسے علاقے ہیں، جنہیں دیکھ کر احساس ہوتا ہے کہ ان سے بہتر حالت تو افریقی علاقوں کی ہوگی۔

ان علاقوں میں جہاں حکومتی عدم توجہی کے باعث ہر طرٖف بھوک اور غربت جھلکتی دکھائی دیتی ہے، وہیں ان علاقوں میں ماحولیاتی تبدیلی نے بھی وہاں کی سماجی زندگی پر اثرات چھوڑے ہیں، مذکورہ علاقے انڈس ڈیلٹا کے کنارے پر ہونے کی وجہ سے ماحولیاتی آلودگی کے باعث بھی غربت کا شکار ہیں۔

اس ضمن میں ڈبلیو ڈبلیو ایف کے کنسلٹنٹ ایکولوجسٹ رفیع الحق نے بتایا کہ انڈس ڈیلٹا ایک عرصے تک ان علاقوں کی خوشحالی کا سبب تھا مگر اب وہاں کے ایکو سسٹم میں مسائل پیدا ہونے کی وجہ سے وہاں غربت کی جھلک دکھائی دینے لگی ہے، تاہم ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ گزشتہ چند سال میں وہاں  مینگروز کے جنگل کے تحفظ اوربحالی کے لیے مقامی افراد خصوصی کردار ادا کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ منیگروز ایکوسٹسم نہ صرف طوفان، سونامی سمیت دیگر قدرتی آفت سے بچاتاہے بلکہ مچھلی، کیکڑے اورجھینگے سمیت مختلف آبی حیات کی پناہ گاھ بھی بنتا ہے، جس وجہ سے ان علاقوں کے رہائشی افراد کو روزگار کا موقع میسر ہوتا ہے۔

رفیع الحق نے مزید بتایا کہ کوٹری بیراج سے پانی نہ آنے کی وجہ سے مینگروز کے درخت کم ہورہے ہیں، مچھلیاں بھی غائب ہو رہی ہیں اور ڈیلٹا تباھ ہورہاہے

ڈبلیوڈبلیو ایف کے ڈاکٹر رشید نے بتایاکہ مینگروز ایکو سسٹم نہ صرف طوفان  اور سونامی کا مضبوط دفاع کرتا ہے بلکہ یہ مچھلی، کیکڑے ، جھینگے اور علاقے کے دیگر جانوروں کے لئے بھی پناہ گاہ اور ہیچنگ اور نرسنگ رہائش فراہم کرتا ہے۔

ڈاکٹر رشید نے بتایا کہ اس منصوبے کے تحت  4000 ہیکٹر میں تخفیف شدہ مینگروز کی بحالی اور اپ گریڈیشن کے ساتھ 3000 ہیکٹر میں نئی مینگروز پلانٹ لگانے کی ضرورت ہے، انہوں نے مطلع کیا کہ 6 بندرگاہوں میں کیٹی بندر میں 4 اور کھارو چھان تعلقہ میں پودے لگانے کے لئے انتظامات کیے گئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ مقامی برادریوں خصوصا خواتین کو اس مقصد کے لئے تربیت دی گئی تھی اور وہ نرسریوں میں پودے لگانے کے لئے پودوں کی فراہمی کی جارہی تھی۔ انہوں نے دعوی کیا کہ نرسریوں کی وسیع شراکت سے ایک خاص علاقے میں زیادہ سے زیادہ مینگروز کاشت کرنے کا عالمی ریکارڈ قائم کرنے میں مدد ملی۔

ان کے مطابق مینگروز کے جنگلات پر ساحلی برادریوں کے انحصار اور شجرکاری اور تحفظ کی سرگرمیوں میں کیٹی بندر اور کھارو چھان تعلقہ کے 17 دیہاتوں میں رہنے والے لوگ اس منصوبے میں شامل تھے۔

انہوں نے مطلع کیا کہ اس منصوبے کے تحت مقامی آبادی کے روزگار کی فراہمی کے لئے مختلف مداخلتیں کی گئیں، انہوں نے مزید بتایا کہ موسمیاتی تبدیلی کے سخت اثرات نے سیکڑوں گھرانوں کوکراچی ، ٹھٹھہ اور ضلع کے دیگر شہروں میں نقل مکانی کرنے پر مجبور کردیا کیونکہ سمندر میں مچھلیاں کم ہوگئیں جس کی وجہ سے بیرروزگاری میں اضافہ ہوا۔

انہوں نے بتایا کہ مختلف دیہاتوں میں مچھلی اور کیکڑے کو چربی دینے والے فارم قائم کیے گئے تھے ، 25 خواتین کو سلائی کی تربیت دی گئی تھی اور ان میں سے 14 کو سلائی مشینیں دی گئیں اور 395 گھرانوں کو شمسی توانائی سے متعلق سامان مہیا کیا گیا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ اس کے علاوہ  نئے پودے لگانے سے مویشیوں کو چراہوں سے بچانے کے لئے مقامی برادریوں کو ان کے جانوروں کے لئے چارہ فراہم کیا جارہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ان کی جانب سے شروع کیے گئے ان منصوبوں سے اگرچہ مذکورہ علاقوں سے مکمل طور پر غربت اور بے روزگاری ختم نہیں کی جا سکتی، تاہم ان چھوٹے منصوبوں سے وہاں کے شدید خراب مالی و سماجی حالات میں تبدیلی ضرور لائی جا سکتی ہے۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.