مذہبی ہم آہنگی کی مثال کراچی کی بستی

کراچی میں غیرمسلموں کی بہت بڑی تعداد صدیوں سے رہائش پذیر ہے، شہر کراچی کے قدیم علاقے، ‘رنچھوڑ لائن’ کے ’نارائن پورہ کمپاؤنڈ’ میں ایک ایسی ہی قدیم بستی آباد ہے، جہاں تین مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد برسہا برس سے ایک ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔

یہ تینوں مذاہب کے افراد قیام پاکستان سے قبل یہاں آباد ہوئے، یہاں آج تک کبھی کوئی مذہبی اختلاف سامنے نہیں آیا اور تو اوراس بستی میں تینوں مذاہب کی اپنی عبادتگاہیں بھی قائم ہیں، جہاں اپنے اپنے طور پرعبادت کا اہتمام بھی ہوتا ہے۔

چھوٹی چھوٹی تنگ گلیاں اور بمشکل ایک سے ڈیڑھ کمرے کے چھوٹے چھوٹے مکانات ان افراد کا سر چھپانے کا سرمایہ ہیں۔

یہاں بسنے والے لوگوں کی زمین چاہے کم ہو مگر ان کے دل آپس میں ایک ساتھ دھڑکتے ہیں، جہاں ہندوعیسائی اورسکھوں کی کئی نسلیں جوان ہو رہی ہیں، کراچی کی یہ بستی پاکستان میں بین المذاہب یگانگت کی اپنی مثال آپ ہے۔

ایک اندازے کے مطابق کراچی میں اس وقت ڈھائی لاکھ سے زیادہ ہندو آباد ہیں، قیام پاکستان کے بعد بیشترہندواورسکھ انڈیا چلے گئے  تھے، تقریبا ڈھائی لاکھ ہندو اب بھی باقی ہیں جس میں مارواڑی اور راجستھانی نسل کے غریب لوگ نارائن پورہ  اورلیاری میں رہتے ہیں جبکہ دولت مند سندھی ہندوکلفٹن اورصدرمیں رہتے ہیں۔

نارائن پورہ بستی کی پنچائیت کمیٹی کے سربراہ، کالی داس سے بات کی توانہوں نے بتایاکہ نارائن پورہ بستی بہت قدیمی بستی ہے، یہ سنہ1924 میں بنی تھی۔ اس سے قبل، غیر مسلم 150 سال سے یہاں رہ رہے ہیں، اس سے قبل، یہاں چھوٹی چھوٹی جھگیاں تھیں، یہاں کے مندر اور دیگرعبادت گاہیں بھی دہائیوں پرانی ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ اس بستی میں ہندو مذہب کے افراد کی اکثریت ہے جبکہ دیگرمذاہب کے لوگ بھی یہاں آزادانہ طریقے سے رہتے ہیں،حکومت  کی جانب سے ہمیں یہاں مکمل آزادی اور سکون ہے، کسی قسم کی کوئی روک ٹوک نہیں، یہاں کئی سالوں سے تینوں مذاہب کے افراد اپنے مذہبی عبادات اور تقریبات اور اپنی مذہبی رسومات بھرپور طریقے سے مناتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہاں اکثر پہچان کرنا مشکل ہے کہ کون ہندو، کوعیسائی اور کون سکھ ہے، یہاں سب ایک ساتھ، ایک ہی ماں باپ کی اولاد کی طرح برسوں سے رہتے چلے آرہے ہیں۔

اسی بستی میں آباد وکٹر مسیحی نے بتایا کہ میں یہیں پیدا ہوا، پلا بڑھا، یہاں کبھی کسی قسم کا کوئی تعصب دیکھنے میں نہیں آیا، میرے بچے بھی یہاں کھیلتے رہے ہیں، انھیں کبھی کوئی فرقہ نا سمجھا، نا کبھی ایک دوسرے میں چھوت جیسی بات سمجھی۔

نارائن پورہ میں عیسائیوں کی عبادت گاہ گرجا گھر کے پادری، ملٹن مسیح نے کہا ہے کہ یہاں عیسائی، ہندو اور سکھ سب امن و سلامتی سے رہ رہے ہیں۔

اس بستی میں عیسائیوں کے 250 سے 300 خاندان ہیں، یہ ایک گنجان آبادی والا علاقہ ہے، کہنے کو یہاں تین مذاہب کے لوگ ہیں لیکن اس کے باوجود امن اور سلامتی کے ساتھ رہتے ہیں اور ایک بھائی چارے کی فضا نظر آتی ہے۔‘

مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد کی اس بستی میں سکھ برادری کا ایک بڑا ‘گردوارہ’ بھی ہے جو تقریباً 100 سال پرانا ہےجس کے ارد گرد 50 کے قریب سکھ خاندان آباد ہیں۔

گردوارے کے مذہبی پیشوا کرشن سنگھ نے بتایا کہ نارائن پورہ میں سکھ برادری کے 40 سے 50 خاندان آباد ہیں،ان کا دوسرے مذہب کے لوگوں سے اچھا تعلق ہے، مذہبی رسومات بھی مل کر مناتے ہیں کیونکہ یہاں رہنے والے سکھ رشتے داروں میں بی بندھے ہوئے ہیں، کبھی کوئی اختلاف نہیں ہوا۔

ان کے مطابق ہمارے جو مذہبی تہوار ہیں وہ ہم سکھ گردوارے کی باؤنڈری میں ہی مناتے ہیں، عبادات کے بعد جو لنگر کا اہتمام ہوتا ہے جس میں دیگر برادری کے افراد بھی شریک ہوتے ہیں‘۔

کراچی کی اس قدیمی بستی کا وجود قیام پاکستان سے قبل 1924ء میں وجود میں آیا تھا، نارائن پورہ کمپاؤنڈ ماضی میں کراچی کے مشہور لیبر لیڈر نارائن داس کی یاد میں بنایا گیا تھا۔

نارائن داس اس وقت کے مزدور طبقے کے نمایاں رہنما سمجھےجاتے تھے، جن کے نام سے یہ بستی منسوب کردی گئی تھی، اس وقت بستی کی آبادی لگ بھگ 10 ہزار ہے۔

قیام پاکستان کے بعد1951میں جب پہلی مردم شماری ہوئی تو اس میں سب سے بڑی اقلیت ہندو مذہب کی تھی مگرہندووں کے مقابلہ سکھوں کو زیادہ سمجھا جاتا ہے، ہندووں اورمسیحوں  کے مندر اورچرچ توسب کونظرآتے ہیں مگر سکھوں کے گردوارے کسی کونظر نہیں آتے ہیں۔

سندھ میں اس وقت سکھوں کی تعداد 32 ہزار ہے اور دارالحکومت ان کی تعداد کااندازہ کسی کونہیں ہے ۔

آرام باغ کے گردوارے کے چیئرمین سبرسنگھ نے کہا کہ آرام باغ 25 سال کے بعد سنکھ  گردوارے کی حیثیت سے بحال ہوگیا ہے، انہوں نے کہا کہ ہندواورسنکھ کمیونٹی میں تنازع اورمقدمے کے سبب یہ گردوارہ 1993سے 2016 تک عبادت کے لیے بند کیا گیا تھا۔

کرشن سنگھ نے بتایاکہ کراچی شہرمیں 6 گردوارے موجود تھے مگر اب 3قدیم اورایک نیا تعمیرشدہ گرودارہ کام کررہا ہے، ان میں گردوارہ سنگ رنچھوڑلائن، گردوارہ منوڑا، گردوارہ آرام باغ،  گردوارہ گلشن معمارجبکہ سوامی نارائن مندر کے احاطے میں بھی ایک حصہ گرونانگ گرودارے کے لیے ہے۔

سرسنگھ نے کہا کہ سکھوں کی ایک اہم قدیم گردوارے رتن تلا کو تاحال بحال نہیں کیا گیا جس کے احاطے میں نبی باغ سکینڈری اسکول اورمسجد ہے۔

سندھ کے دارالحکومت میں ہندووں کی آبادی کے حوالے سے سینئرصحافی اور ہندوکمیونٹی کی رہنما سینتا اوڈھونے بتایا کہ کراچی کے میں ہندووں کی تعداد 0.86 فی صد ہے انہوں نے کہاکہ کراچی میں لگ بھگ  300مندر ہوگئے مگر اس میں صرف  8سے 10مندرایسے ہیں جن میں ہندولوگ بڑی آزادی سے اپنی عبادت کرتے ہیں۔

انہوں نے بتایاکہ ایک کلفٹن پر شیوارام کا مندرہے،صدراورلائٹ ہاؤس کے علاقے میں بھی مندرموجود ہیں جبکہ سولجربازار، جوڑیا بازار، ائیرپورٹ اور ملیرمیں بھی مندر ہیں جہاں ہم ہولی اور دیوالی جیسے تہوار بڑی خوشی سے مناتے ہیں، وہاں کسی بھی قسم کی بندش نہیں ہے بلکہ رینجرز کی سیکیورٹی دی جاتی ہے۔

 

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.