اب وقت آگیا ہے کہ ضلع مہمند میں تعلیمی اصلاحات کیے جائین

سعید خان صافی

ضلع مہمند سابقہ مہمند ایجنسی جنت نظیر خوبصورتی اور بے پناہ قدرتی وسائل سے مالامال ضلع جہاں کے بازار کی رونقیں ہر وقت بحال رہتی تھی اور ان بازاروں کی زینت وہاں کے باسی سادہ اور خوشحال زندگی گزار رہے تھے لیکن پھر اچانک وہاں کے لوگوں کی مسکراہٹیں ماتم میں بدل گئی جب یہ خوبصورت ضلع دہشتگردی کی نظر ہوگیا جہاں  ایک طویل عرصے تک جنگ کا سماں رہا مقامی لوگ گھروں سے دربدر ہوگئے قدرتی وسائل جو کہ اس ضلع کی باسیوں کے گزربسر کا ذریعہ تھیں بارود کی نظر ہوگئے دہشتگردی کی اس جنگ میں ضلع کا تعلیمی ساخت بے حد متاثر ہوا لیکن پھر افواج پاکستان کے آپریشن اور لاتعداد قربانیوں کے نتیجے میں اللہ کے فضل وکرم سے تمام اضلاع میں مکمل طور پر امن قائم ہوا اور سن 2018ء میں تمام قبائلی اضلاع خیبر پختون خواہ میں ضم ہوئے جہاں پہلی بار قبائلی اضلاع کے لوگوں کو خیبر پختون خواہ کی اسمبلی میں نمائندگی کرنے کا موقع ملا جوکہ خوش آئند بات ہے .

لیکن تعلیمی ساخت کو بہتر بنانے کی طرف خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی تعلیم وہ ذریعہ ہے جس سے کسی بھی قوم کی ذہن سازی کی جاتی ہے ضلع مہمند کے باسی طویل عرصے تک جنگی کیفیت میں رہے گھر سے دور تعلیمی آخراجات ناقابل برداشت تھے دہشتگردی کی اس جنگ سے ضلع مہمند کے  کئی نوجوانوں کا مستقبل تباہ ہوا کہا جاتا ہے کہ نوجوان کسی بھی قوم کا قیمتی سرمایہ ہوتا ہے لیکن بہت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہمارا قیمتی اثاثہ نوجوان نسل کا مستقبل کافی حد تک متاثر ہوا کیونکہ ضلع مہمند میں دہشتگردوں نے سب سے زیادہ  تعلیمی اداروں کو  نقصان پہنچایا ہیں اب وقت آگیا ہے کہ ضلع مہمند میں تعلیمی ساخت کی بہتری پر خصوصی توجہ دی جائے کیونکہ ضلع مہمند وہ ضلع ہے جس نے مشہورومعروف شخصیت تجزیہ نگار سلیم صافی اور ننھا پروفیسر حماد صافی جیسے ہیرے اس قوم کی خدمت کے لیے پیدا کیئے ہیں اب وقت ہے کہ ضلع مہمند میں تعلیمی اصلاحات کیے جائے کیونکہ اب اس ضلع کے نمائندے خیبر پختون خواہ کے ممبر ہیں اپنے مسائل حل کروانے کے لیے اس سے بہتر کوئی پلیٹ فارم نہیں جہاں نمائندے حقیقی معنوں میں اپنے ضلع کی لوگوں کی ترجمانی کرسکے خدا راہ منتخب نمائندے اپنے عہدے سے مخلص ہوجائے اور سنجیدگی  سے  قوم کے مسائل کو ایوان میں زیر بحث لائے ضلع مہمند کے لوگوں نے دہشتگردی کی اس جنگ میں بے پناہ قربانیاں دی اور بہت زیادہ نقصانات اٹھائے ہیں اب مزید کسی نقصان کے متحمل نہیں ہوسکتے ہیں منتخب نمائندے سنجیدگی اور مخلصی سے ضلع مہمند کی تعلیمی ساخت کی بہتری کے لیے فرنٹ پہ آئے اور اپنے فرائض ادا کریں

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.