عجائب گھر سے چرائی گئی قدیم تختی عراقی حکومت کو واپس مل گئی

امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں ایک تقریب میں 30 سال قبل عراق کے ایک عجائب گھر سے چرائی گئی قدیم تختی عراقی حکومت کو واپس کر دی گئی۔ یہ ایک قدیم بادشاہ کی لائبریری کے کھنڈرات میں دریافت ہونے والی 3500 سال پرانی مٹی کی تختی ہے۔ 1.7 ملین ڈالر مالیت کی یہ تختی1853 میں قدیم بادشاہ کی لائبریری سے ملنے والی 12 تختیوں کےذخیرے کا حصہ ہے۔

عہدیداروں کا خیال ہے کہ اسے 2003 میں غیر قانونی طور پر امریکہ میں درآمد کیا گیا تھا ۔ پھر اسے ہابی لابی کو فروخت کیا گیا اور بالآخر اسے ملک کے دارالحکومت میں بائبل کے میوزیم میں نمائش کے لیے پیش کیا گیا۔ ہوم لینڈ سیکورٹی انویسٹی گیشنز کے ساتھ وفاقی ایجنٹوں نے گلگیمش ڈریم ٹیبلٹ  نامی تختی  کو ستمبر 2019 میں میوزیم سے ضبط کر لیاتھا۔ کئی مہینوں بعد نیو یارک میں وفاقی پراسیکیوٹرز نے سول ضبطی کی عدالتی کارروائی شروع کی جس کے نتیجے میں عدالت نے تختی کو لوٹانے کا فیصلہ کیا۔گزشتہ ماہ بھی امریکہ نے17 ہزار قدیم نوادرات عراق کو واپس کی تھیں ۔ چوری کی گئی نوادرات میں قدیم عراقی تہذیب کی ہزاروں اشیا بھی شامل ہیں۔

امریکہ نے چوری کی گئی نوادرات کوغیر قانونی خریداروں سے بازیاب کیا تھا۔ تاریخی اشیا  2003 عراق جنگ کے بعد چوری کر کےاسمگل کر دیا گیا تھا

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.