ایکویریم میں نر شارک کے بغیر ’بے بی شارک‘ کی معجزاتی پیدائش

بارسلونا: اٹلی کے ایک ماہی گھر (ایکویریم) میں مادہ ’’اسموتھ ہاؤنڈ شارک‘‘ والے ٹینک میں شارک کے بچے کی پیدائش کو ’معجزاتی واقعہ‘ قرار دیا جارہا ہے کیونکہ اس میں کسی نر شارک کا کوئی عمل دخل نہیں۔

واضح رہے کہ نر اور مادہ شارک میں ملاپ کے بغیر بچوں کی پیدائش اگرچہ بہت نایاب واقعہ ہے لیکن اس سے پہلے شارک کی تین اقسام یعنی بونٹ ہیڈ، بیک ٹپ شارک اور زیبرا شارک میں ایسے واقعات سامنے آچکے ہیں۔ سائنسی زبان میں یہ عمل ’’پارتھینوجنیسس‘‘ کہلاتا ہے۔

یہ واقعہ اٹلی کے مشہور جزیرے سارڈینیا پر قائم ’’ایکویریو سیلا گونون‘‘ نامی ایک ماہی گھر میں پیش آیا۔

شارک کے اس نوزائیدہ بچے کو ’’اسپیریا‘‘ کا نام دیا گیا ہے لیکن اطالوی اور عالمی میڈیا میں یہ ’’معجزاتی شارک‘‘ کے نام سے مشہور ہوگیا ہے۔

ایکویریم سے وابستہ ماہرین نے اسپیریا اور اس کی ماں سے لیے گئے خون کے نمونے تجربہ گاہ بھجوا دیئے ہیں۔

اگر وہاں سے بھی تصدیق ہوگئی تو یہ شارک کی چوتھی قسم ہوگی کہ جس میں پارتھینوجنیسس کا مشاہدہ ہوا ہے۔

واضح رہے کہ اب تک مادہ شارک میں نر سے ملاپ کے بغیر حمل ٹھہرنے میں ’’پولر سیل‘‘ کہلانے والے خلیوں کا مرکزی کردار سامنے آیا ہے جن میں مادہ شارک کے بیضے (انڈے) کے ڈی این اے کی بھی ایک نقل (کاپی) موجود ہوتی ہے۔

 

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.