شمسی نظام کے سب سے بڑے چاندپر آبی بخارات دریافت

سائنسدانوں نے سیارہ نظام شمسی کے سب سے بڑے چاند جینی میڈ پر آبی بخارات کی دریافت کا اشارہ دیا ہے
اس سے قبل کہا گیا تھا کہ اس پر زمین کے تمام سمندروں سے زائد پانی موجود ہے۔ لیکن درجہ حرارت اتنا سرد ہے کہ وہ پانی منجمد ہوچکا ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کے پانی کے بخارات اس وقت وجود پاتے ہیں جب چاند کی سطح سے برفیلے ذرات ٹھوس سے گیس میں بدل جاتے ہیں۔
1998 میں ہبل خلائی دوربین نے عکسی طیف نگاروں کی بدولت جینی میڈ کی اولین تصاویرلی تھیں مزید تحقیق کے ساتھ 2018 میں ناسا کے جونو مشن کے مشاہدات کے بعد یے انکشاف کیا گیا تھا کے جینی میڈ کا درجہ حرارت بدلتا رہتا ہے اور دن کے اوقات میں خطِ استوا پر اتنی گرمی ضرور ہوتی ہے کہ منجمد برف کا کچھ حصہ پگھل کر بھاپ کی شکل اختیار کرلیتا ہے
اور فلکیات کے ماہرین گذشتہ سال سے جینی میڈ پر پانی کے بخارات کی تلاش میں ہیں
تاہم اس مقصد کے لئے 2022 میں یورپی خلائی ایجنسی کا "جوس”نامی جدید ترین خلائی جہاز روانہ کیا جائے گا جو 2029 میں مشتری اور اس کے چاندوں تک پہنچے گا جس سے اچھے نتائج کی امید کی جار رہی ہے

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.