عورت مارچ، انتہاپسندی اور ہمارا معاشرہ

محمد عدنان ہاشمی

پاکستانی معاشرہ اس وقت کئی قسم کی انتہاپسندی کا شکار ہے۔ کوئی سب مسئلوں کی جڑ سیاستدانوں کو تو کوئی سلامتی کے اداروں کو سمجھتا ہے۔ کسی کے نظر میں ایک پارٹی کرپٹ اور دوسری غدار ہے تو کسی کی نظر میں ان پارٹیوں کی حمایت کرنے والے کرپٹ اور غدار ہیں۔

اسی طرح کی لمبی فہرست ہے، ہمارا پورا معاشرہ انتہاپسندی کا شکار ہے، مجھ سمیت پورے معاشرے میں برداشت اور درگزر کرنے کی صلاحیت تیزی سے ختم ہوتی جارہی ہے۔

تازہ انتہاپسندی کا واقعہ خلیل الرحمٰن قمر کی صورت میں نظر آیا، جب ایک ٹی وی پروگرام میں انہوں نے انتہائی اخلاق سے گری ہوئی گفتگو کی، جسے گفتگو کہنا بھی غلط ہے۔

جس انداز میں انہوں نے ماروی سرمد کو جواب دیا وہ کسی بھی طرح قابل قبول نہیں۔

مگر تصویر کا دوسرا رخ بھی ہے، یہاں بھی اگر آپ اس وائرل ویڈیو پر غور کریں تو آپ کو صاف نظر آئے گا کہ ماروی سرمد نے انہیں اشتعال دلایا۔ جب خلیل الرحمٰن بول رہے تھے تو بار بار بدنام زمانہ جملہ ’’میرا جسم میری مرضی‘‘ ادا کرتی رہیں اور اس کے بعد خلیل الرحمٰن نے جن الفاظوں کا استعمال کیا اس پر بطور مرد میرا سر شرم سے جھک گیا۔

عورت کو آزادی دینے سے کوئی انکار نہیں کرتا، مردوں کی اکثریت آزادی کی حمایت کرتی نظر آئے گی، اس آزادی کی مخالفت کرنے والے آپ کو زیادہ تر ان پڑھ یا کسی خاص طبقے سے تعلق رکھنے والے نظر آئیں گے۔

زیادہ تر افراد کو عورت مارچ کی نہیں، مارچ میں استعمال کیئے گئے نعروں پر اعتراض ہے، جس میں سے سب سے زیادہ اعتراض میرا جسم میری مرضی پر ہے اور یہ اعتراض اس جملے کے اصل مطلب سے نہیں، بلکہ اس جملے سے ملنے والے تاثر سے ہے۔

مردوں کا بہت بڑا طبقہ اپنے پاس حاصل طلاق کی طاقت کا غلط استعمال کرتا ہے، عورت کو مار پیٹتا ہے اور اسے واقعی پیر کی جوتی ہی سمجھتا ہے۔ ایسے لوگوں کو میں ذہنی بیمار سمجھتا ہوں، جنہیں علاج کی ضرورت ہے، انہیں ذہنی تعلیم دینی ہے۔

کیا اس نفسیاتی مریض کو اس کے سامنے ہی پاگل کہا جائے؟ کبھی کوئی نفسیاتی مریض اس بات کو تسلیم کرے گا کہ وہ کسی مرض کا شکار ہے؟

ظاہر ہے کہ نہیں، ہمیں ان کا علاج کرنا ہے، آہستہ آہستہ ایک ایک کرکے انہیں یہ احساس دلانا ہے کہ وہ جو کام کررہے ہیں دراصل وہ درست نہیں۔

اس عورت مارچ میں زیادہ تر ایسے بینرز تھے جن پر کسی عقل مند شخص کو اعتراض نہیں ہوسکتا ہے، مگر چند ان بینرز نے اس پوری جدوجہد کو متنازع بنا دیا ہے۔

مگر زیادہ معاملہ تب خراب ہوا جب بیمار لوگوں میں سے چند لوگوں نے ان بینرز پر اعتراض کیا تو انہیں جواب اس سے بھی زیادہ برے الفاظ میں دیا گیا۔ اس عورت مارچ کو دراصل عورت نے ہی خراب کیا تھا، جس بیمار لوگوں سے وہ حق چیھننے نکلیں تھیں، وہ خود بھی اسی بیماری کا شکار ہوتی نظر آرہیں ہیں۔

آج بھی اس مارچ میں قابل اعتراض جملوں پر مشتمل بینرز کا دفاع بار بار کیا جارہا ہے۔ عورت مارچ کے منتظمین یا حمایتی اس بات پر غور ہی نہیں کررہے کہ کس طرح اس معاملے کو جو رخ بیمار لوگ دے رہے ہیں، تبدیل کیا جائے۔

جو خواتین اس نعرے کی حمایت کررہی ہیں، انہیں اس قسم کے حقوق حاصل ہیں تو ہی وہ سامنے نظر آرہی ہیں، چاہے انہیں یہ حقوق ان کے شوہر نے دیئے ہوں یا ان کے والد نے یا انہوں نے چھینے ہوں۔

یہ بھی پڑھیں :

مگر یہاں لمحہ فکر یہ ہے کہ وہ خواتین جنہیں ان حقوق کی ضرورت ہے، ان کے لیئے ان متنازعہ بینرز نے کئی مشکلات کھڑی کردیں ہیں۔ مجھے اس بحث کے نقصانات کا اندازہ اس وقت ہوا جب میرے ایک دوست نے ہمارے پرانے پڑوسی جو ایک مولوی خاندان ہے کے بارے میں بتایا۔

مرحوم پیش امام کی بہو نے اپنے شوہر کو کسی طرح منانے کے بعد اپنی بیٹی کو اسکول داخل کروایا۔ سخت مذہبی گھرانے کی لڑکی اسکول جانے لگی مگر اس مارچ کے ان متنازعہ بینرز نے اس لڑکی کا اسکول جانا بند کرادیا۔ اس لڑکی کو میٹرک تک کی ہی آزادی ملی تھی، اس سے بھی وہ معصوم محروم ہوگئی۔ اس کے باپ کو ڈر تھا کہ میری بیٹی کہیں ان جیسی نہ ہوجائے۔

میری نظر میں آپ معاشرے سے الگ رہ کر معاشرے کو تبدیل نہیں کرسکتے۔ آپ کو معاشرے کی خامیوں کی نشاندہی اس طرح کرنی چاہیے کہ اس کا اثر ہو، نہ کہ ایک نیا تنازعہ کھڑا ہوجائے۔ آج قوم کی ایک بیٹی بنیادی تعلیم سے ہی محروم ہوگئی، اس کا ذمہ دار کون ہے؟ میری نظر میں اس کی ذمہ داری انتہاپسندی ہے۔ وہ انتہاپسندی جو ہر طرف ہے۔ چاہئے وہ میرے جسم میری مرضی والے ہوں یا پھر بیمار ذہنیت۔ نقصان تو بہرحال عورت کا ہی ہو رہا ہے۔

چند سالوں پہلے تک طالبان کو دہشت گرد کہنا ممکن ہی نہیں تھا، کاروکاری، ونی، کم عمری میں شادی اور جبری گمشدگی سمیت دیگر معاملات پر آج کھل کر بات ہوتی ہے۔ ان فردسودہ رسموں کے حمایتی بھی سامنے آکر بات کرنے سے گھبراتے ہیں۔

جس نعرے کی حمایت کی جارہی ہے وہ نعرہ ساؤتھ افریقہ میں حمل ضائع کرنے کی تحریک سے لیا گیا ہے، یہی نعرہ امریکہ میں میں بھی اسی مہم کے لیئے لگایا گیا۔ جو کہ ان کی مہم کی مناسبت سے درست ہے، مگر ہمارے ملک میں چلنے والی تحریک کا اس تحریک سے کوئی تعلق نہیں۔

تو پھر کیوں اسی نعرے پر اصرار کیا جارہا ہے، کیوں نہ ایک نعرہ جس کا تاثر غلط ابھر رہا ہے کو تبدیل کردیا جاتا۔ اس میں شامل لفظ ’’جسم‘‘ کو ’’جیون‘‘ سے بدل دیا جاتا یا بہت سے دوسرے الفاظ کا سہارا لیا جاتا۔ نعروں کا مقصد مثبت پیغام دینا ہی ہے تو پھر قابل اعتراض جملے کو تبدیل کرنے میں کیا قباحت۔

اب یہاں خواتین کے حقوق کے لیئے آواز اٹھانے والے ہی انتہا پسندی کا شکار نظر آرہے ہیں۔ ان کی باتوں سے ایسا نظر آتا ہے کہ جیسے اس نعرے کی مخالفت کرنے والا ہر شخص خواتین کی آزادی کے خلاف ہے، جو کے حقیقت کے برعکس ہے۔

یہاں قابل ذکر بات یہ ہے کہ مرکزی میڈیا پر چاہے کچھ بھی چل رہا ہو مگر اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کی اکثریت بشمول خواتین ان متنازع بینرز کی وجہ سے ہی مخالفت کررہی ہیں۔ مارچ تو اس سے پہلے بھی ہوئے، اس کے علاوہ بھی ہوئے، پورے ملک کے مختلف شہروں میں ہوئے، تو اگر مسئلہ عورت کی آزادی کی مخالفت کرنا ہوتا تو باقی شہروں کے احتجاج کی بھی مخالفت کی جاتی۔

عورت مارچ کے منتظمین کو ہی اگر ٹی وی پروگراموں میں بلایا جاتا تو شاید معاملات اس نہج پر نہیں پہنچتے۔ ہمارے میڈیا کے کچھ تیسرے درجے کے لوگوں نے خلیل الرحمٰن کو ریٹنگ کے چکر میں بلایا اور ان کے سامنے طاہرہ عبداللہ اور ماروی سرمد جیسی شخصیات کو بٹھایا، جس کا نتیجہ یہی نکلنا تھا تو آج آپ سب کے سامنے ہے۔

خلیل الرحمٰن کی سوچ چند لوگوں تک محدود رہتی مگر آج پاکستان کی تاریخ میں اس سے پہلے کسی کو مسلسل 4 دن سے سوشل میڈیا پر راج کرتے نہیں دیکھا، جیسا آج خلیل الرحمٰن یا ان کی سوچ کررہی ہے۔ عورت مارچ کے منتظمین اپنے سوشل میڈیا اکاؤٹنس پر اسے اپنی کامیابی قرار دیتے ہیں مگر سوشل میڈیا جائزہ لیں تو نہ صرف خلیل الرحمٰن بلکہ ان کی سوچ کی جیت ہوئی ہے۔ آج وہ ہیرو بن چکے ہیں، آج ہر کوئی انہیں جانتا ہے۔ پہلے خواتین کا مقابلہ مذہبی انتہاپسندوں سے ہوتا تھا مگر آج ان کا مقابلہ پاکستان کی اکثریت سے ہورہا ہے۔

ان سب معاملات کا نقصان عورت مارچ کے منتظمین، نعروں کے حمایتی یا مخالفوں کا نہیں۔۔۔۔ صرف اور صرف عورت کا ہورہا ہے۔

مردوں کی نمائندگی نہ تو خلیل الرحمٰن کرتے ہیں اور نہ ہی عورت کی نمائندگی ماوری سرمد یا عورت مارچ کے منتظمین کرتے ہیں۔ معاشرے کی اکثریت خواتین نہ تو مغربی لباس پہنتی ہیں اور نہ ہی اس قسم کے متنازعہ بینرز کو تھامیں گیں۔ ہمیں تبدیلی انہی خواتین کی زندگیوں میں لانی ہیں، جن کے مسائل مارچ میں شامل خواتین کی سوچ سے کئی گناہ زیادہ سنگین ہیں۔

پاکستان میں خواتین کے حقوق کے حوالے کوئی بہتر حالات نہیں، مگر اتنے بھی برے نہیں، ورنہ اسلامی دنیا کی پہلی وزیر اعظم کا اعزاز پاکستان کے پاس نہ آتا اور اس بات کو بھی نہ بھولیں کہ یہاں مردوں نے ہی محترمہ فاطمہ جناح اور بینظیر بھٹو کے خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ دیا۔ آج یہاں خواتین تعلیم، سیاست، فوج اور زندگی کے ہر شعبے میں اپنا نام بنا رہی ہیں، جو ہمارے لیئے قابل فخر ہیں۔

دوسری طرف ایسی خواتین کی بھی بہت بڑی تعداد موجود ہے، جو کم عمری میں شادی، شوہر کے مظالم، تیزاب گردی، ریپ اور نہ جانے کتنے مظالم کا شکار ہیں۔ ہمیں ان کے لیئے آواز اٹھانی ہے۔

اگر عورت مارچ یا خواتین کی تنظیموں کا کوئی بیرونی ایجنڈا نہیں تو ہمیں نعروں سے نکل کر اصل مسائل کو اجاگر کرنا ہے۔ ان متنازعہ نعروں کے باعث خواتین کے اصل مسائل پر کسی کی دور دور تک نظر نہیں۔

اس عورت مارچ کے روکنے کے لیئے دھمکیاں دی گئیں ہیں۔ اس وجہ سے حکومت کو مارچ کو ممکن بنانے اور شرکاء کی حفاظت کے لیئے ہر قسم کے انتظامات کرنے چاہیے۔ خواتین کو پورا پورا حق ہے کہ وہ اپنے مطالبات دنیا کے سامنے لا سکیں۔

اس کالم پر اپنی رائے دینے کے لیئے [email protected]   پر ای میل کریں، یا پھر  0334-0361446 پر واٹس ایپ کریں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.