ہم حقیقت کا سامنا کیوں نہیں کرتے ؟

تحریر: خالد سعید

ہم متضاد رویوں میں پھنسے ہوئے لوگ ہیں ۔ماضی میں جی رہے ہیں اور حال میں بھٹکتے پھر رہے ہیں۔ تاریخ ہمارے لیے ایک بے معنی چیز ہے۔دنیا کی طرف دیکھتے ہیں مگر کچھ سوچتے نہیں ۔تہذیب کے ارتقائی نظریہ سے ہمیں چڑ ہے۔ ہمیں سائنس بھی اپنی پسند کی اور تاریخ بھی اپنی مرضی کی چاہیئے۔ زندگی کی حقیقتوں پر غور کرنے کے عادی نہیں۔ ہمارا ایک پاﺅں جدید دنیا اور دوسرا قرون وسطیٰ کی کشتی میں ہے اور آج تک یہ فےصلہ نہیں کر پائے کہ کس کشتی کو چھوڑیں اور کس میں سوار ہوں۔ پوری زندگی اس کشمکش میں گزاردیتے ہیں اور آخری عمر میں ” ذہنی الجھنوں کا یہ اثاثہ” اپنے بچوں کو منتقل کر دیتے ہیں تاکہ وہ بھی زندگی بھر بھٹکتے رہیں۔ کتابوں میں لکھے ہوئے پر یقین کرنا ہمیں سکھایا ہی نہیں گےا۔ ہم پڑھے لکھے نہیں سنے سنائے مسلمان ہیں۔کوئی بحران کیوں پےدا ہوا؟ خرابی کہاں سے شروع ہوئی؟ ہم اس کو ٹھیک کیوں نہ کر پائے؟ اس پر غور و فکر کو ہم ایک فضول حرکت اور وقت کا ضیاع سمجھتے ہیں۔

ہم نے اس ملک میں دو دنیائیں آباد کر رکھی ہیں۔ایک دنیا ان لوگوں کی ہے جنھیں اپنی دولت شمار کرنے کی فرصت نہیں اور ایک دنیا ان لوگوں کی ہے جو دوپہر کی روٹی اس فکر میں ڈوب کر کھاتے ہیں کہ رات کو پیٹ کےسے بھریں گے۔ ایک دنیا ان لوگوں کی ہے جو اپنے ذاتی محافظوں کے ساتھ گاڑیوں کے قافلے میں سڑک سے اس طرح گزرتے ہیں کہ کسی دوسری گاڑی کو ان کے قریب آنے کی اجازت نہیں ہوتی اور اگر کوئی دانستہ یا نا دانستہ اےسی حرکت کر بھی گزرے تو اس ” گناہ ِ کبیرہ” کی سزا اسے موقع پر مل جاتی ہے۔ شکایت کے لیے کون سا تھانہ اور کون سی کچہری؟ غریب آدمی یہ عیاشی کہاں کر سکتا ہے۔ دوسری دنیا ان لوگوں کی ہے جوپلاسٹک کی تھیلی میں دوپہر کا کھانا ہاتھ میں پکڑے صبح بس اسٹاپوں پر کھڑے ہر گزرتی بس کو اس امید سے دےکھتے ہیں کہ کہیں دروازے میں لٹکنے یا چھت پر چڑھنے کی جگہ مل جائے تو وہ اپنی دہاڑی لگا آئیں۔

اس مملکت خداداد مےں ایک دنیا ان لوگوں کی ہے جو محض یہ معلوم کرنے کے لیے کہ ان کے بچے کو چھینک کیوں آئی، پہلے سے وقت طے کر کے آغا خان یا اس معیار کے کسی دوسرے ہسپتال کے اسپشلسٹ ڈاکٹر سے مشورہ کرتے ہیں اور دوسری دنیا اُن بد نصیبوں کی ہے جو اپنے مریض کے ساتھ صبح سات بجے سرکاری ہسپتالوں کی او پی ڈی کے باہر ٹوکن لےنے کے لیے لائن میں کھڑے ہو جاتے ہیں۔ دوپہر ایک بجے ان کی باری آتی ہے اور ڈاکٹر کوئی بلڈ ٹےسٹ لکھ کر دو دن بعد دوبارہ آنے کا کہہ کر واپس بھیج دیتا ہے۔ یہ سلسلہ مہینوں چلتا رہتا ہے اور اگر اس دوران مریض مر جائے تو اس کی قسمت۔ آخر ایک دن تو اسے مرنا ہی تھا۔

ریاست نے نہ صرف اس طبقاتی نظام کو شعوری طور پر قبول کر رکھا ہے بلکہ وہ اسے فروغ بھی دے رہی ہے۔ اس لیے کہ حکومت بھی وہی لوگ کرتے ہےں جن کا تعلق غریبوں کی ہمدردی سے عاری سنگ دل اشرافیہ سے ہے۔ سرکاری اداروں میں سہولت اور عزت صرف ان لوگوں کو ملتی ہے جن کی جےبوں میں نوٹ ہوتے ہیں۔ نادرا میں جو لوگ شناختی کارڈ کے لیے تین ہزار روپے ادا کر سکتے ہیں وہ تین منٹ میں فارغ ، غریب دو دو سو لوگوں کی قطاروں میں کھڑے ہو کر اپنی قسمت پر آنسو بہائیں اور یقین رکھیں کہ قانون کی نظر میں صرف امیر برابر ہوتے ہیں۔ عام لوگ بھی شناختی کارڈ بنوانے کے لیے فیس ادا کرتے ہیں۔اگر حکومت ہر نادرا دفتر میں ایک کی جگہ چار کھڑکیاں کھول دے تو غر یب لوگ قطار میں گھنٹوں کھڑے ہونے کی زحمت سے بچ جائیں ،مگر عوام کے مصائب کم کرنا ریاست کی سوچ نہیں ہے۔ عوام نے بھی اپنے ساتھ ہونے والے اس” با عزت سلوک” کوکسی بادشاہ کی تابعدار رعایا کی طرح قبول کر رکھا ہے ۔

یہ کےسا تضاد ہے کہ ہم نے جوہری بم تو بنا لیامگر اپنی سےورج لائیں کھلی رکھنے کے قابل نہیں ہو سکے۔ شائد یہ سائنس ایٹم بم بنانے کی تھیوری سے زےادہ مشکل ہو گی۔ ایک طرف دعویٰ کیا جاتا ہے کہ ہمارے پاس دنیا کی بہترین فوج ہے اور دوسری طرف کہا جاتا ہے کہ ہمارے پاس دنیا کی ناقص ترین پولیس ہے۔ ہم نے دور تک مار کرنے والے جدید ترین میزائل توبنا لیے لیکن اہسی کو ئی ٹینا لوجی ایجاد نہیں کر سکے جو لاہور سے چلنے والی ٹرین کو مقررہ وقت پر کراچی پہنچا سکے۔

مقبوضہ کشمیر میں مودی سرکار کے مظالم پر دنیا کے ہر مہذب ملک نے آواز اٹھائی اور مطالبہ کےا کہ وہاں انسانی حقوق کی پاس داری کو یقینی بنایا جائے۔ کشمیری عوام کے دکھ درد میں پاکستان کے عوام بھی برابر کے شریک ہیں۔ اس انسانی مسئلہ کو حل کرانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنی چاہیئے۔ کسی بھی رےاست کو یہ حق نہیں دیا جا سکتا کہ وہ آبادی کے کسی طبقے کے بنیادی حقوق کو پامال کرے یا بے گناہ لوگوں کو قتل کرے۔

یا تو ہماری ریاست کی دور کی نظر کمزور ہے یا پھر ہم نے جان بوجھ کر اپنی آنکھوں پر مفاد کے پردے ڈال رکھے ہیں۔ چند روز قبل سعودی عرب کی قیادت میں اسلامی ملکوں کے فوجی اتحاد کے طیاروں نے یمن کے ایک حراستی مرکز پر بمباری کر کے ایک سو سے زیادہ لوگوں کو ہلاک کر دیایہ سب مسلمان تھے۔ کشمیریوں پر تو ہندو حکومت مظالم ڈھا رہی ہے مگر یمن پر بمباری تو مسلمان ملکوں کی فوج نے کی، جس کے کمانڈر ایک پاکستانی جنرل ہیں۔ یہاں ہمیں نہتے لوگوں کے قتل پر انسانی حقوق کی کوئی پامالی نظر نہیں آئی، اس لئے ہم نے چار سطروں کا احتجاجی بےان جاری کرنا بھی مناسب نہیں سمجھا۔

ہم نے کشمیر کے مسئلہ پر پوری قوم کو ہسٹریا مےں مبتلا کر رکھا ہے۔کبھی کہتے ہیں اب مذاکرات کی گنجائش نہیں ہے،دو دن بعد مطالبہ کرتے ہیں کہ بات چیت کے لیے دنیا بھارت پر دباﺅ ڈ الے۔کبھی کہتے ہیں کہ ہم اےٹم بم استعمال کرنے مےں پہل نہیں کریں گے۔اگلے دن کہتے ہےں کہ اےٹم بم کے استعمال میں پہل نہ کرنا ہماری پالیسی نہیں ہے۔ کہا جارہا ہے کہ ہم آخری فوجی اور آخری گولی تک لڑیں گے۔

جذباتی مسلمان قوم یہ باتیں سن کر اپنا سینہ چوڑا کر لیتی ہے ۔کوئی یہ سوال بھی تو پوچھے کہ مشرقی پاکستان میں ابھی بہت سی گولیاں اور فوجی باقی تھے، پھر ہم نے اپنے ہاتھ اوپر کیوں اٹھا دیئے تھے۔جنگی جنون پیدا کر کے ہم کےا حاصل کرنا چاہتے ہیں؟ یہی کہ اصل مسائل سے عوام کی توجہ ہٹی رہے۔ مگر یہ مختصر مدت کا نسخہ ہوتا ہے، زیادہ دیر تک نہیں چلتا۔

ہم دو عملی کا شکار ہیں۔ کشمیر کے تنازع کا مذہب سے صرف اس حد تک تعلق ہے کہ وہاں رہنے والے مسلمان ہیں۔ ہم اس مسئلہ کو پوری امت مسلمہ کا مسئلہ نہیں بنا سکتے اور یہ بات متحدہ عرب امارات کی حکومت نے بھی پاکستان کو سمجھائی ہے جس کے وزیر خارجہ نے حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے۔ اگر ہمیں واقعی مسلمانوں کا درد ہے تو پھردنیا کے ہر خطے میں آباد مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کے خلاف احتجاج کرنا چاہیئے۔ شنکیانگ تو ہمارے پڑوس میں ہے، سرحد سے سرحد ملی ہوئی ہے، وہاں بھی مسلمان بستے ہیں۔ کبھی ان کی حالت زار کا بھی ذکر ہوا؟ کبھی چین سے اس بارے میں بھی کوئی بات ہوئی؟۔ میانمار کے روہنگیا بھی مسلمان ہیں، کیا ان سے یک جہتی کے اظہار کے لیے ہم نے کبھی میانمار کی حکومت سے احتجاج کیا؟ یا حکومتی سطح پر بات چیت کے لیے اپنا کوئی وفد یانگون بھیجا؟ حقیقت یہ ہے کہ ہر ملک سب سے پہلے اپنے معاشی کو دیکھتا ہے اور پھر دوسروں کے جھمیلوں میں پڑتا ہے ۔ہمیں اس حقیقت کو سمجھنا چاہیئے۔

بنیادی حقوق کا احترام ہمیں اپنے ملک میں بھی کرنا چاہیئے۔انسانی حقوق کی تنظیموں کے اس دعوے کی نفی کے لیے کتنے جھوٹ بولے جائیں گے کہ پاکستان میں ریاستی اداروں کی تحویل میں لوگوں پر تشدد معمول کی بات ہے اور پاکستان نے اس کے خاتمہ سے متعلق اقوام متحدہ کے کنونشن کی کسی ایک شق پر بھی پوری طرح عمل نہیں کیا۔ کیا کسی کو معلوم ہے کہ ہم نے انسانی حقوق کمیشن پاکستان کی درجنوں رپورٹوں کو سرکاری الماری کے کس خانے میں چھپا رکھا ہے؟ کےا کوئی بتا سکتا ہے کہ تحریر و تقریر کی آزادی کے لیے کام کرنے والی مختلف بےن الاقوامی تنظیموں نے حکومت پاکستان کو جو خط لکھے ان کی فائل کچرے کے کس ڈھیر میں پڑی ہے؟ کیا کسی کو علم ہے کہ ماورائے عدالت قتل کے سےنکڑوں واقعات کی تحقیقات کے لیے بنائے جانے والے عدالتی کمیشنوں کی رپورٹیں کس سرد خانے مےں محفوظ کر دی گئیں؟ کشمیر کے عوام سے ہمیں مکمل ہمدردی ہے مگرجنگ پرستی اور جنونی حب الوطنی کسی مسئلہ کا حل نہیں بلکہ خود ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔

 

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.