انتہاپسندوں کی نرسریاں اور صوفیوں کا دیس

اسد ممتاز رڈ

اس وقت مذہبی انتہاپسندی اور دہشتگردی پوری دنیا کے چین و سکون کی بربادی کا سبب بنی ہوئی ہے ، اب تو نیوزی لینڈ جسے پرامن ملک بھی اس کے عتاب میں ہیں ، ہمارے جیسے ملک جنہوں نے باخوشی یہ مرض اپنایا تھا اب وہ مرض کینسر کی شکل اختیار کر چکا ہے ۔

  اس کا آغاز اس وقت ہوا  جب ہم نے امریکیوں کو خوش کرنے اور  سویت یونین کے بغض میں مرد مجاہد ضیا الحق کی خاص مہربانی کے طفیل مدرسوں کی شکل میں مجاہدوں کی نرسریاں بنائی اور ملک میں ان نرسریوں کا جال بچھا دیا ، ریاست کی سرپرستی میں ان نرسریوں سے جہادی جھتے افغانستان میں اسلام فتح کرنے نکلے ، عوام کو بتایا گیا کہ یہ ہمارا قومی مفاد ہے ،جو در حقیقت حکمراں ٹولے کا ذاتی مفاد تھا ۔

وقت گزرتا رہا مجاہد ریاست کی سرپرستی میں پلتے بڑھتے رہے ، اور پھر دن آیا 11/9 کا، امریکا کا سویت یونین کے بعد اب اگلا ٹارگٹ مڈل ایسٹ اور افغانستان تھا، کل کے ہیرو طالبان  آج کے ولن بن گئے، پاکستانی حکمرانوں نے بھی قومی مفاد تبدیل کیا ، پہلے قومی مفاد طالبان بنا اور اب  قومی مفاد ہے طالبان کو ختم کرنا، پہلے طالبان بنانے کے ڈالرز ملتے تھے اب طالبان کو ختم کرنے سے ڈالر آنے لگے ہیں، لیکن طالبان میں اچھے طالبان اور بڑے طالبان کا فرق کیا گیا ۔

پیسوں کے عیوض ہم نے سماج میں  اپنی صدیوں کی  ثفاقتی ، سیکولر اور صوفی روایات کا قتل کر کے مذہبی جنونیت کو پھیلا دیا ، بلھے شاہ کا پنجاب انتہاپسندوں کا گڑھہ بننے لگا ، پاکستان چپے چپے میں انتہاپسندی پھیلی اور پورا ملک اس کا شکار ہوا ، تو صوفیوں اور سیکولر لوگوں کا دیس سندھ کو بھی براہ راست اس مرض کی بیماری لگی ۔ بلکہ یوں کہنا  غلط نہ ہوگا کہ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت اس امن کی نگری میں مذہبی آگ لگا دی گئی ہے ، مذہبی انتہاپسندی کے حوالے سے حالیہ دونوں کچھ رپورٹس میری نظر سے گذری  جو حیران و پریشان کن تھی ۔

ساؤتھ ایشیا ء میں مذہبی اور دیگر معالات کو دیکھنے والے امریکی تھنک ٹینک کے ادارے PEW نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا کہ سندھ کے تین علاقے سکھر ، گھوٹکی اور شکارپور میں پچیس ہزار مذہبی انتہاپسند لوگوں نے مختلف علاقوں میں رہائش اختیار کر لی ہے ، محرم الحرام کے دوران شکارپور میں خودکش حملہ ہوا ، جس میں کئی انسانی جانیں ضائع ہوئیں۔

قلندرلال شہباز کے مزار میں بھی خودکش حملہ ہوا ، جس میں ایک سو سے زیادہ افراد کو موت کی نیند سُلا دیا گیا،  خبروں کے مطابق قلندر بم دھماکے کا حملہ آور  خیرپور سے ہوتا ہوا سیہو ں( شیو آستان )  پہنچا تھا ، اس خودکش بمبار کا سہولت کار خیرپور میں شہباز کالونی کی مسجد کاپیش امام تھا ،جس کو بعد میں سیکورٹی اداروں نے گرفتار کرکے اس سے مزید خودکش جیکٹس اور ہتھیار اپنی تحویل میں لیے تھے۔

عالمی خبر رساں ادارے الجزیرہ کی ایک رپورٹ کے مطابق خیرپور کے 93 مدرسے مبینہ طور پر مذہبی انتہاپسندی میں ملوث ہیں، ان مدارس میں دیگر شہروں و صوبوں سے ہزاروں بچے زیر تعلیم ہیں۔

خیرپور  پاکستان سے پہلے ایک شیعہ ریاست کے طور پر جانی جاتی تھی کیوں کہ اس وقت کے حکمراں ٹالپر خاندان کا تعلق شیعہ فرقے سے تھا،  تو اس لیے  خیرپور پر  شعیت کا اثر رہا ہے ۔ وہاں صدیوں سے ماتم کے پرامن جلوس نکلتے ہیں،  لیکن کچھ سال پہلے تاریخ میں پہلی مرتبہ خیرپور میں محرم دوران  کرفیوں لگادیا  گیا تھا۔

سندھ میں سب سے زیادہ ہندؤں کی آبادی تھر میں ہے ، مٹھی میں تقریباً ستر فیصد اور باقی تھر میں پچاس فیصد  آبادی ہندؤں کی ہے اور یہ صدیوں سے اس دھرتی پر آباد ہیں ، گذرشتہ چند برسوں سے تھر کے اندر چار سو زائد  نئے مدارس  کھولے گئے ہیں، جن میں  چند تو ان علاقوں میں کھولے  گئے ہیں ، جہاں زیادہ تر آبادی ہندؤں کی ہے ، یہ تمام مدرسے  حافظ سعید کی فلاح خدمت انسانیت نامی تنظیم نے بنائے ہیں ۔

مٹھی میں پہلی مرتبہ پٹھان کالونی قائم ہوئی ہے، تھر سندھو تہذیب کا پرامن خطہ ہے ،جہاں آج بھی لوگوں کے گھروں کو کوئی دیوار نہیں، وہاں چوری کا تصور بھی گناہ سمجھا جاتا ہے، لیکن گذشتہ سال دو مہشوری برداری کے بھائیوں کو دن دھاڑے قتل کیا گیا، جس کے بعد اب ان علاقوں میں خوف کی فضا ہے ۔

 ایک طرف ہندو آبادی میں مدارس قائم ہو رہے ہیں تو دوسری طرف ہندو کم سن بچیوں کو مبینہ طور پر اغوا ء کر کے جبری طور پر ان کا مذہب تبدیل کرایا جا رہا ہے۔

گزشتہ تین سالوں میں چار سے زیادہ ہندو اور عیسائی لڑکیوں کا مذہب تبدیل کیا گیا ہے ، گھوٹکی کے میاں مٹھو اور ٹنڈو محمد خان کے پیر جان سرہندی پر جبری طور پر مذہب کی تبدیلی کے الزامات ہیں، اس قسم کے واقعات میں کمی ہونے کے بجائے روز بہ روز اضافہ ہو رہا ہے۔

ضیاالحق کا دیا ہوا انتہاپسندی کا مرض فقط مدرسوں تک محدود نہ رہا اس مرض نے اعلی تعلیمی اداروں تک اپنا لنک بنایا ۔ کراچی میں سبین محمود کو قتل کرنے اور آغا خانیوں کی بس پر حملے میں کراچی کی اعلیٰ تعلیمی ادارے میں پڑھنے والے طلبہ گروہ ملوث تھا، جن کا نیٹ ورک دیگر تعلیمی اداروں میں بھی موجود ہے ، گذشتہ سال جامشورو کی لیاقت یونیورسٹی کی طلبہ نورین لغاری کا کیس بھی اسی  نیٹ ورک  کی کڑی ہے۔

سرکاری تعداد شمار کے مطابق اس وقت پاکستان میں  35 ہزار مدار رجسٹرڈ ہیں، جن میں 25 لاکھ بچے ذیل تعلیم ہیں، ڈی جی آئی ایس پی آر نے اپنی گزشتہ پریس بریفنگ میں اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ ماضی میں ان مدارسوں کو مجاہد بنانے کے طور پر استعمال کیا گیا ، ریاست نے اب اپنی پالیسی تبدیل کی ہے اور یہ مدارس شعبہ تعلیم کے سپرد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

بنیادی سوال یہ ہے کہ اگر ریاست حقیقی معنی ٰمیں مدارس کے حوالے اپنی پالیسی تبدیلی کرنا چاہتی ہے، تو چند اقدامات فوری طور پر لینے ہوگے،  سب سے پہلے نصاب میں تبدیلی کرنا ہوگی،  نفرت پر تشدد پسند نصاب کو  ختم کرکے  نیا انسان دوست اور جدید نصاب نافذ کرنا ہوگا ۔

دہشتگردی یا انتہاپسندی میں ملوث  مدارس کو فوری طور پرختم کرنے اور ملوث لوگوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرنی ہوگی۔ ریاست کو غیر ریاستی عناصر سے الگ ہونا ہوگا ۔