تبدیلی سرکار کیا واقعی عوام کے لیے باعث اذیت بن چکی ہے؟

صدام ساگر

پاکستان تحریک انصاف کو اقتدار میں آتے ہوئے اب ایک سال مکمل ہونے والا ہے. ليکن پہلے دن سے لے کر آج تک عوام سے کیے گئے وعدوں اور دعوائوں کا ایک طویل سلسلہ ہے مگر ان دکهائے گئے سہانے خوابوں کا حقیقت میں بدلنا اب بھی باقی ہے.

ہمارے یہاں ملکی ۷۰ سالا تاریخ میں یہ ایک المیہ رہا ہے کہ حکمران الیکشن سے قبل عوام کو گمہراہ کرنے اور ووٹ لینے کے لیے بڑے بڑے خواب دکہاتے ہیں، دودہ اور شہد کی ندیاں بہانے کی تسلیاں دیتے ہیں، کبھی ووٹ کو عزت دو، کبھی روٹی، کپڑا اور مکان، تو کبھی "جب آئے گا عمران بنے گا نیا پاکستان” جیسی امیدیں دلائی جاتی ہیں. لیکن ہوتا ان تمام امیدوں کے برعکس ہے، چونکه تسلیاں بلند بانگ نعروں کی حد تک محدود رہ جاتی ہیں.

پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے ملک کو کیا دیا کیا لیا، وہ سب  کو معلوم ہے، مگر آج بات کریں گے تبدیلی سرکار "پاکستان تحریک انصاف” کی. اس سرکار نے عوام کو دیا تو کچھ نہیں ہے بلکہ لیا کچھ زیادہ هي ہے. مظلوم اور محکوم عوام سے دو اوقات کی روٹی کا حق چہینا گیا، لگے لگائے روزگار اور بنے بنائے مکانات سے محروم ضرور کیا گیا ہے. اس حکومت کی وجہ سے غربت اور مہانگائی نے لوگوں کی زندگی اجیرن کر رکھی ہے. یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ۲۲ کروڑ عوام کی اکثریت انسانی حقوق اور بنیادی سہولیات سے محروم ہے. یہاں حالت یہ ہے کہ، بقول شاعر

غریب شہر تو فاقے سے مر گیا عارف،

امیر شہر نے ہیرے سے خودکشی کر لی.

پاکستانی عوام نے اس بار تبدیلی کے چکر میں اپنا قیمتی ووٹ تحریک انصاف کو دے دیا مگر یہ سرکار بھی عوام کے لیے بجاء تبدیلی کے باعث اذیت بنی! ماضی کے کنٹینر مائینڈ سیٹ ماسٹر اور حال کے وزیراعظم عمران خان نے بھی اپنے خواب "تمہیں کون تکلیف دے گا میں ان کو رلاؤں گا” کو پایہ تکمیل تک ضرور پہنچایا. خیر، پهر بھی دیر کر دی تباہی کرتے کرتے!

تبدیلی سرکار کے طرف سے اقتدار میں آنے سے پہلے ہمیں یہ بتایا گیا تھا کہ اقتدار میں آتے ہی ملکی معیشت کو ٹھیک کردیں گے، تبدیلی لائیں گے بس عوام کو گهبرانا نہیں ہے! بالا آخر  خان صاحب نے  وزیراعظم کے عہدے پر حلف اٹھایا ۵۰ لاکھ گهر اور ایک کروڑ نوکریاں دینے کا اعلان بھی ہوا، پهر سے اچانک سب تدبیریں الٹی ہو گئیں! آئی ایم ایف کے پاس جانے سے پہلے خودکشی کو ترجیح دینے والا پیارے وزیراعظم عمران خان نوکریاں تو نہیں لائے البتہ آئی ایم ایف کا وفد پاکستان ضرور لایا، مگر پهر بھی بڑی دیر کردی مہربان لاتے لاتے.

. اچھے ہوم ورک کی دعوٰی باوجود وزیراعظم نے اپنی پارٹی کے اہم کهلاڑی اور وزیر خزانہ اسد عمر کو ۹ ماہ سے پہلے ہٹا دیا گيا اور اس اکہاڑ کے چھاڑ میں ملکی خزانے کی چابی نو منتخب مشير ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کے حوالی کر دی. تب تو محسن بھوپالی کے شکوئے جائز بنتے ہیں:

نیرنگی سیاست دوراں تو دیکھیے،

منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے!

حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیاں ہونے والے معاہدے کو اپوزیشن مسترد کر چکی ہے اور کہنا ہے کہ حکومت نے ملک کو آئی ایم ایف کے پاس گروی رکهه ديا ہے. اپوزیشن نے حکومت سے آئی ایم ایف سے معاہدے کے قبل مطالبا کیا تھا کہ معاہدے کی تفصیلات عام کی جائیں لیکن حکومت نے اس مطالبے په غور نہیں کیا اور پہر وہی ہوا جس کا اندازہ تھا. خیال کیا جاتا ہے کہ آئی ایم ایف نے جو جال پہینکا تھا اس میں وہ کامیاب ہو گیا. خیر، کہتے ہیں نہ جس کو اللہ رکھے اس کو کون چکھے.

ملکی تاریخ میں دیکھا جائے تو سواء جنرل ضیاء الحق کے باقی سب حکمرانوں نے آئی ایم ایف کی حاضری بھری اور ۷۰ والی ڈہائی میں پہلے بار قرضہ لیا گیا.

پاکستان تحریک انصاف کی حکومتی کارگردگی کا اگر جائزہ لیں گے تو پتا لگے گا کہ اس ۹، ۱۰ ماہ میں مہانگائی بے تحاشہ بڑھی، بی روزگاری کی شرح میں اضافہ ہوا، پاکستانی روپیہ بے بس ہوا، ڈالر پروان چڑھا، پچہلے تمام حکومتوں کا رکارڈ توڑا گیا اور کیا کیا نہیں ہوا، بس سانس لینے پر ٹیکس نہیں لگایا باقی سب کچھ کیا، اب بھی مزید مہانگائی کرنے کے لیے تمام اقدامات تیزی سے اٹھائے جا رہے ہیں، ٹیکس کے نام عوام کو لوٹا جا رہا ہے، حکومت خلاف بات کرنے پر مقدمے قائم کیے جا رہے ہیں، غداری کے سرٹیفکیٹ بانٹے جا رہے ہیں، بڑے طریقے سے زبان بندی کی جارہی ہے، لفظوں کو قید کیا جا رہا ہے، حرف کی حرمت پر ضرب لگائی جا رہی ہے. یہی وجہ ہے کہ عوام مخالف اور دشمن اقدامات سے تبدیلی سرکار اندرونی طور بھی تیزی سے مقبول ہو چکی ہے.

دیکھا جائے تو ملک میں مہانگائی کا سبب ڈالر کی اوچی اڑان ہے جو ہر چڑہتے سورج  کے ساتھ اپنی نئیں حدیں عبور کرتا جا رہا ہے. پچھلے کچھ ماہ کے دوراں ڈالرکي قيمت ميں جتنی بار اضافہ ہوا ہے، ۳۵ فیصد پاکستان پر قرضہ بیٹھے بٹھائے مزید بڑھ گیا ہے یہ وہ ۳۵ فیصد قرضہ جو کسی ملک سے پاکستاں نے نہیں لیا صرف ڈالر کی قیمت بڑھنے کی وجہ سے اضافہ ہوا ہےـ دوسری بات پچھلے ۷،۹ ماہ کے دوراں ۵۰ فیصد روپے کی قدر گر گئی ہے. یہ بھی کہا جا رہا کہ اس سال کی آخر تک ڈالر کی قیمت ۱۶۰ سے ۱۷۰ تک چلی جائے گی، اب کوئی اندازہ نہیں ہے عوام مہانگائی کی اس سونامی میں کیسے سانس لے گا! ؟

ملک میں جب سے تحریک انصاف کی حکومت آئی ہے اس دن سے عوام کی امیدیں آسماں  سے چھونے لگ گئیں تھیں، مگر عوام کے حصے میں وہ صبح نہ آیا جس صبح کا انتظار تھا. تبدیلی سرکار اقتدار میں آتے ہی عوام کی کوکهه میں منی بجیٹ کا خنجر مارا، جس کے زخم مرہم کے مرحلے میں تب تک بجیٹ کا بم گرایا گیا جس کی وجہ سے غریب عوام کا جینا مزید محال ہو چکا ہے!

سوال یہ ہے کہ آخر کب تک ملک میں مہانگائی کے بادل چھائے رہیں گے؟ اور کتنے دن ۲ روٹیوں کے بجاء ایک روٹی پر اتفاق کرنا پڑے گا؟ مہانگائی کے اس عالم میں غریب خودکشی کرے یا کچھ اور؟ کیا اب بھی گہبرانے کی اجازت بهي نہیں ہے؟ جبکہ ملک کی اکثریت کو دو اوقات کی پیٹ بھر روٹی اور پانی نہ ملے تو انقلاب ناگریز ہو جاتا ہے. بقول ندا فاضلی

ہر ایک گهر میں دیا بھی جلے اناج بھی ہو،

اگر نہ ہو کہیں ایسا تو احتجاج بھی ہو،

رہے گی وعدوں میں کب تک اسیر خوشحالی،

ہر ایک بار ہی کل کیوں کبھی تو آج بھی ہو.

اب تو عوام کو بی روزگاری اور مہانگائی کے سونامی کا سامنہ ہے، اگر وہ بھی اٹھ کھڑے ہوتے تو اس حکومت کا کیا بنے گا؟ کیا حکومت عوامی دباؤ برداشت کر سکے گی؟ اگر نہیں تو یہ وقت ہے سارا ملبہ پچھلے حکومتوں پر گرانے کے بجاء اپنا رویا تبدیل کرنے کے ساتهه کنٹینر مائینڈ سیٹ بهي ٹھیک کرنا پڑے گا، بس بہت ہو گیا، ورنہ عوامی بغاوت کے نتیجے میں مزید ایسی صورتحال نہ بن جائے کہ "نہ رہے بانس نہ بجے بانسری”.

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.