بندش کے باوجود باریک جال(بولوگجوجال)کے استعمال کاانکشاف، آبی حیات کی نسل کشی کا سلسلہ جارہی ہے

کوسٹل بیلٹ میں قائم کارخانوں میں غیر مقامی افراد کے لیئے نوازشات ماہی گیر خواتین بے روزگار، نوجوان منشیات کا شکار

ماہی گیروں کے نمائندوں کا کہناہے کہ باریک جال (بولوگجوجال) استعمال سے آبی حیات کی نسل مکمل طور پر ختم ہورہی ہے۔ اس خطرناک جال پر پابندی ہونے کے باوجود اس کا مسلسل استعمال کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ کریکس اور ڈیلٹا ختم ہونے سے سندھ کی سر سبز زمین اور طوفانوں سے ساحلی شہر ڈوبنے کے خدشات میں مزید اضافہ ہو رہا ہے اگر ہم نے اپنے ڈیلٹا کو بحال نہ رکھا تو سندھ کو تباہی سے کوئی نہیں بچا سکتا ہے۔

ماہی گیر رہنماؤں نے ان خیالات کا اظہار عورت فائڈویشن اور ایچ آر سی پی کی توسط سے وفد کے ساتھ ملاقات کے دوران کیا۔ جس میں این جی اوز، سول سوسائٹی اور میڈیاکے لوگ شامل تھے۔

ابراھیم حیدری میں صدیوں سے آباد ماہی گیروں کی ڈیڑھ لاکھ آبادی اور 52 محلوں پر مشتمل ایک چھوٹی سی بستی جو مختلف مسائل میں گھری ہوئی ہے جہاں پر اسپتال اور اسکولز نہ ہونے کے برابر ہیں اور خواتین بے روزگار جبکہ نوجوان نشے کے عادی ہونے لگے ہیں۔

ماہی گیروں کے نمائندے اور فشرفوک فورم کے رہنماؤں فاطمہ مجید، ایوب شاھ، مجید موٹائی اور طالب کچھی سمیت دیگر نے کہا کہ 2010 میں سیلاب آیا تھا تب ہم نے اسی وقت وجوہات جاننے کی کوشش کی پتا لگا کہ کوسٹل بیلیٹ پر 70 ہزار باریک جال (بولو گجو جال) لگے ہوئے ہیں جبکہ 25 ہزارجال ایسی جگہ لگائے گئے ہیں جو دریائے سندھ کی گذر گاہوں پر موجود تھے جس کی وجہ سے سندھ ڈوب رہا ہے۔ مجید موٹانی کا کہنا تھا کہ تاریخ سے تربت ہے سندھ کے اندر ڈیلٹا میں 17 کریکس تھیں جس میں سے اب باقی گھوڑو، کاجر اور خوبر بچی ہیں، جبکہ واڑی مل، کانئر تلشان سمیت دیگر کریکس ختم ہوچکی ہیں۔

ایوب شان کا کہنا تھا کہ جھینگے اور دیگر آبی حیات کے انڈے اور بچے اس باریک جال (بولو گجو جال) میں پھنس جاتے ہیں جس سے ان کی نسل ختم ہوکر ناپہد ہو رہی ہے۔

مجید موٹانی نے کہا کہ کشیتوں اورلانچوں کی رجسٹریشن پر 5 سال کے لیئے پابندی عائد کی جائے اور تصدیق کا عمل صوبائی حکومت کو دیا جائے تا کہ وہ جو اصل ماہی گیر ہے ان کو مچھلی پکڑنے کی اجازت دی جائے۔ انہوں نے کہاکہ 18ویں ترمیم کے بعد یہ صوبائی حکومت کادائرہ اختیار ہے۔ انہوں نے کہاکہ بلوچستان کی حکومت ماہی گیروں کی رجسٹریشن خود کرتی ہے۔ مجید موٹانی کا کہنا ہے کہ ماہی گیروں کو بھی مزدورں میں شمار کیاجائے کیوں کہ نہ انکی سوشل سیکیورٹی ہے اور نہ ہی ہماری سیفٹی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش میں بھی باریک جال استعمال ہوتا تھا سیلاب زیادہ آنے کی وجہ سے اب وہاں پابندی لگا دی گئی ہے۔ل اب بنگالی ہمارے صوبے میں آکر یہ سوغات بھی اپنے ساتھ لائے تاکہ سندھ تباھ ہوجائے۔

طالب کچھی کاکہنا تھاکہ ہم خود ماہی گیر ہیں اور پوری زندگی سمندر میں گذرتی ہے ایسی صورتحال پہلے نہیں تھی۔ سمندر میں پورے شہر کا گند جاتا ہے جس سے ساحل گندا ہورہا ہے۔ انہوں کہاکہ ہم ماہی گیر دن کے وقت مچھلیاں پکڑتے اور رات کو خود اور سمندر کو آرام دیتے تھے مگر فیکٹریوں کے مالکان نے اپنی کشیتاں خریدی ہوئی جو رات دن مچھلیاں پکڑتے ہیں ۔

فشر فوک فورم کے سعید بلوچ نے کہا کہ ہمارے پاس کوئی فشری پالیسی نہیں، ہم کس طرح کام کریں۔ ان کا کہنا ہے کہ فشر فوک فورم نے اس حوالے سے بہت کام کیا مگر پالیسی بنانا حکومت کا کام ہے۔ مجید موٹانی نے مزید بتایا کہ آبی حیات کی تباہی کے ذمہ دار صرف غیر مقامی افراد نہیں ہیں بلکہ مقامی ماہی گیر بھی ہے جو باریک جال استعمال کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ڈیپ سی فشنگ۔ مینگروز کے درختوں کی کٹائی بھی کی جارہی ہے۔ مجید موٹانی کا کہنا ہے کہ 35 قسم کے جھینگوں کی نسل اور مچھلیاں انڈے منیگروز میں دیتے ہیں، جب بچے بڑے ہوجاتے ہیں تو پھر سمندر میں جاتے ہیں باریک جال کی وجہ سے یہ انڈے اور بچے بھی سمندر سے باہر آجاتے ہیں۔

فاطمہ مجید نے بڑے افسردہ ہوکر بتایا کہ سندھ کے 150 ماہی گیر بھارتی جیلوں میں 20 سالوں سے قید ہیں، حکومت کی ناقص پالیسیوں اور سستی کی وجہ سے وہ آزاد نہ ہوسکے۔ انہوں کہا کہ غلطی سے وہ حد پار کر جاتے ہیں جس کے بعد بھارتی فورسز ان کی کشتیاں اور لانچز پر قبضہ کرکے ماہی گیروں کو جیل میں ڈالتی ہے۔ فاطمہ نے یہ بھی بتایا کہ بھارتی جیل میں 50 ایسے قیدی ہیں جو 1990میں مسنگ ہوئے تھے جن کا کچھ پتہ نہیں کہ زندہ ہیں کہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان ماہی گیروں کا تعلق بدین، ٹھٹھہ، سجاول اور کراچی سے ہے۔ حکومت نے کسی کی کوئی خبر نہیں لی کہ ان کے ورثا کی کیا حالت ہے۔

فاطمہ مجید نے کہا کہ ابراہیم حیدری میں سندھ حکومت کی ایک اسپتال ہے، سرکار کے کاغذوں میں 200 بیڈز لکھے ہوئے ہیں جبکہ وہاں حقیقیت میں صرف 20 بیڈز ہیں۔ ڈاکٹرز اور دوائوں کی کمی ہے۔ خاص طور پر لیڈی ڈاکٹر نہ ہونے کے برابر ہے۔ اکثر مریض علاج نہ ہونے کی وجہ چلے جاتے ہیں، اس طرح اسکولز بھی نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ناقص تعلیم دی جارہی ہے، جبکہ دوکالج ہیں ان میں تعلیم نہ ہونے کے برابر ہے۔ صاف پانی بھی میسر نہیں۔ جگہ جگہ پر گندگی کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں، جس سے محتلف بیماریاں پھیل رہی ہے۔ انہوں نے کہا 5 ڈسپنسریاں ہیں جس میں ایک حکومت کی بھی ہے

ابراہیم حیدری میں منشیات اور بے روزگاری کے حوالے سے  بتاتے ہوئے فاطمہ مجید نے کہا کہ پہلے ریڑھی گوٹھ منشیات کا اڈہ تھا پر اب یہاں کی صورتحال مزید خراب ہے۔ نوجوانوں میں ہیروئین، آفیم، شراب، گٹکے سمیت دیگر نشہ آور اشیاء کا استعمال زیادہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نشے کے عادی نوجوانوں کے باعث جرائم میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ادارے کسی بھی قسم کی کاروائی نہیں کررہے ہیں، ایک ہی تھانہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی ان کے خلاف آواز بلند کرتا ہے تو ان پر تشدد کیا جاتا ہے اور مختلف کیسز میں تھانے میں بند کردیا جاتا ہے فاطمہ نے بتایا کہ 30 سے 40 فیصد نوجوان منشیات استعمال کررہے ہیں۔ فاطمہ مجید نے کہا کہ خواتین کے بہت مسائل ہیں۔ سب سے بڑا مسئلہ بے روزگاری کا کہنا ہے پہلے مختلف فیکٹریوں میں جھینگوں کی صفائی کرتی تھیں مگر اب یہ 70 فیصد خواتین بنگلوں اور گھروں میں کام کرتی ہیں۔ فاطمہ نے وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ فیکٹری مالکان غیر مقامی لوگوں کو بھرتی کر رہے ہیں جس میں بنگالی۔ل، برمی اور بہاری شامل ہیں۔صرف 10 فی صد افراد مقامی ہیں جو فیکٹریوں میں کام کررہے ہیں۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.