عمران خان کی آخری کال! ایک ایسا پلان، جس سے وفاقی حکومت بے بس ہوجائے گی

تحریر : محمد عدنان ہاشمی

ملک میں ایک طرف تو سیلاب ہے اور دوسری طرف سیاسی طوفان ہے۔ ان دونوں نے ملک کے سارے نظام کو جکڑ رکھا ہے۔ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کسی بھی صورت اکتوبر تک اس حکومت کا خاتمہ چاہتے ہیں اور اسی سلسلے میں انہوں نے دباؤ بڑھانے کے لیئے جلسوں کا سلسلہ بھی شروع کردیا ہے۔

اگر عمران خان اس میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو پانچ سال سے زیادہ عرصے تک ان کی حکومت کسی نہ کسی طرح برقرار رہے گی۔ جس طرح ماضی میں انہیں اسٹیبلشمنٹ کی وجہ سے حکومت چلانے میں مدد ملتی رہی اسی طرح یہ سلسلہ جاری ہے گا، مگر وہ چاہتے ہیں کہ اکتوبر سے بات آگے نہ جائے بصورت دیگر پلان کامیاب نہیں ہوسکے گا۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ عمران خان کے حامیوں پر اس وقت توشہ خانہ، فارن فنڈنگ، القادر ٹرسٹ سمیت کسی بھی اسکینڈل کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ اس وقت ان پر عمران خان کی تقاریر کا سحر طاری ہے۔ جب یہ سحر اترے گا، تب انہیں بہت کچھ ایسا بھی نظر آئے گا، جو ابھی تک ان کی نظر سے اوجھل ہے۔

بہرحال اگر انتخابات ہوئے تو عمران خان کافی مضبوط پوزیشن میں ہیں، کیونکہ ان کا زیادہ تر ووٹ بینک نیا ہے، مگر یاد رکھیں کہ وہ نوجوان ہیں، اس ووٹ بینک میں ایسے لوگ بھی شامل ہیں، جنہوں نے کبھی دیگر کسی پارٹی کو ووٹ نہیں دیا۔ یہ ووٹ بینک بڑھ سکتا ہے کیوں کہ نئے رجسٹرڈ ہونے والے ووٹرز کی تعداد کو بھی ذہن میں رکھیں اور اگر بیرون ملک پاکستانیوں کو ووٹ کو حق ملا تو پی ٹی آئی دیگر جماعتوں سے بہت آگے ہوگی۔

دوسری جماعتوں کے ووٹ بینک کو تحریک لبیک اچھا خاصا نقصان پہنچا رہی ہے۔ کراچی اور پنجاب کے حلقوں میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں ووٹوں کے حساب سے تحریک لبیک نمایاں رہی ہے۔ یہی وہ وجہ ہے جس کی بنیاد پر میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ دیگر کے مقابلے میں پی ٹی آئی عام انتخابات کے بعد ایک اچھی پوزیشن میں ہوگی۔

آج ہری پور میں کیئے گئے جلسے میں انہوں نے اعلان کیا کہ میں اب جو میں کال دوں گا وہ آخری ہوگی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ آخری کال کیا ہوسکتی ہے؟

جواب سے پہلے یہ ذہن میں رکھیں کہ خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور پنجاب میں پی ٹی آئی کی حکومت ہے، انہیں وہاں کی سرکاری مدد بھی حاصل ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ انہوں نے عمران ٹائیگرز کے نام سے ایک مہم شروع کی ہے، جس میں نوجوانوں کو شامل ہونے کی دعوت دی گئی ہے، وہ ان نوجوانوں کو ضرور استعمال کریں گے۔

اسلام آباد کے ایک طرف تو خیبر پختونخوا ہے اور دوسری طرف پنجاب ہے، موجودہ حالات اور بیانات سے تو ایسا لگتا ہے کہ وہ اس بار دھرنا کچھ اس طرح دیں گے کہ اسلام آباد کا زمینی راستہ ملک کے دیگر حصوں سے کاٹ دیں گے۔ اگر ایسا ہوا تو وفاقی حکومت کچھ نہیں کر پائے گی۔ کیوںکہ یہ دھرنا 2014 کے نہیں 2022 کے عمران خان دے رہے ہیں۔ اس بار ان کے پاس عوامی طاقت کے ساتھ ساتھ ریاستی طاقت بھی ہوگی۔ تمام بڑے شہروں کو جام کرنے کی کال بھی دی جا سکتی ہے۔

اگر یہی صورتحال رہی تو میرا نہیں خیال کہ وفاقی حکومت کے پاس عمران خان سے مذاکرات کے علاوہ کوئی آپشن باقی رہے گا، کیوں کہ وفاق صوبوں کے خلاف چڑھائی نہیں کرسکتا ہے۔ اس صورت میں پاکستان میں ایک خطرناک صورتحال پیدا ہوسکتی ہے۔

اب تک بظاہر حکومت عمران خان کو قابو کرنے میں ناکام رہی ہے، وہ اپنے ہر داؤ میں کامیاب نظر آرہے ہیں۔ وہ کسی انکوائری کا حصہ نہیں بن رہے۔ اپنے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو دبا رہے ہیں۔

پی ٹی آئی اپنے بیانات کی وجہ سے مشکل میں آتی رہی مگر یہ ماننا ہوگا کہ انہوں نے ہر مشکل کو دودھ سے مکھی نکالنے جیسا باہر نکالا ہے۔ شہباز گِل کے بیان کے بعد دباؤ میں آنے والی پارٹی نے شہباز گِل پر مبینہ تشدد کی خبر کو بہت ہی کامیابی سے کیش کیا، اب شہباز گِل کے بیان سے زیادہ، ان پر مبینہ تشدد کی بات کی جاتی ہے۔

اب دیکھتے ہیں کہ اصل طاقت کا مرکز کیا سوچ رہا ہے، ہو سکتا ہے کہ جیسے عمران خان ایک پلان کے تحت آگے بڑھ رہے ہیں، ٹھیک اسی طرح اس سے بہتر پلان میں وہ بھی ہو، مگر موجودہ صورتحال میں عمران خان سب پر بھاری نظر آرہے ہیں اور انہیں خود بھی اس کا بہت اچھی طریقے سے اندازہ ہے، اسی وجہ سے انہوں نے ابھی تک مزاحمتی سیاست جاری رکھی ہوئی ہے۔

عمران خان کی سب سے بڑی طاقت پنجاب حکومت ہے۔ اگر تخت لاہور پر راج پی ٹی آئی کا رہا تو انہیں کوئی مشکل نہیں ہوگی۔ پنجاب سے اختلافات کی خبریں باہر آئیں ہیں۔ فواد چوہدری نے بغیر نام لیئے ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ پرویز الہٰی اور عمران خان میں فاصلوں کی خبریں بھی گردش میں ہیں۔ عمران خان اپنی آخری کال تک پرویز الہٰی کو برداشت کریں گے، اگر اس میں ناکام بھی ہوئے تو، شاید انہیں پنجاب میں رہنے یا نہ رہنے کی پرواہ نہیں ہوگی۔ پرویز الہٰی اپنا راستہ الگ کرلیں یا پھر پی ٹی آئی کے کچھ ممبران باغی ہوجائیں تو پھر صورتحال تبدیل ہوسکتی ہے۔

ان تمام باتوں میں مسلم لیگ ن کی خاموشی ضرور سوال کھڑے کر رہی ہے، پارٹی میں اختلافات ہیں، عمران خان کے دباؤ میں ہیں یا پھر انہیں پتہ ہے کہ آگے کیا ہونے جا رہا ہے جس کے باعث وہ دیکھو اور انتظار کرو کی پالیسی پر ہیں۔

اس وقت سیاسی کہانی میں ہر گزرتے دن ایک نیا موڑ آ رہا ہے۔ کبھی ہیرو وِلن اور کبھی وِلن ہیرو بن جاتا ہے، جو بھی ہونا ہے وہ اب کلائمکس کی جانب ہے، جس کے بعد اصل صورتحال سامنے آئے گی۔

خبریں آرہی ہے کہ عمران خان قانونی طور پر ستمبر کے مہینے میں ہی وزیر اعظم کی دوڑ سے باہر ہوجائیں گے۔ اگر ایسا ہو بھی گیا تو بھی وہ حکومت کو لوہے کے چننے چبواتے رہیں گے۔ اگر اکتوبر تک کچھ نہ ہوا تو آگے بھی کچھ نہیں ہوگا اور اگر طاقت کے تمام مرکز اس مزاحمتی سیاست کے آگے ڈھیر ہوگئے تو پھر وہی ہوگا جو اوپر بیان کیا جاچکا ہے۔

 

 

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.