5جون یوم ماحولیات

ماریہ اسماعیل

اقوام متحدہ کی اہم سرگرمی ہونے کے ناطے ماحولیات کا عالمی دن دنیا بھر میں ہر سال 5جون کو منایا جاتا ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصدماحولیات کی اہمیت کی جانب دنیا کی توجہ مبذول کرانا اور ماحولیات کی بہتری کے لیے سیاسی سطح پر توجہ دلانا اور اس سلسلے میں کئے جانے والے اقدامات کو مزید فعال بناناہےاجاگر کرنا اور انہیں آلودگی اور وسائل کے بے دریغ استعمال سے محفو ظ رکھنا ہے۔ ماحولیات کاعالمی دن منانے کا مقصددنیاکو ماحولیاتی آلودگی کا سامنا ہےاور عالمی حدت میں روز بروزخطرناک حد تک اضافہ ہوتا جارہا ہے جس سے لوگوں میں مہلک وبائی امراض پیدا ہورہے ہیں۔ماحولیاتی آلودگی کے مسئلے پرقابو پانے کےلئے ماحولیاتی تنظیمیں برسرپیکار ہیں جبکہ سائنسدان بھی اپنا کردار بھرپور طریقے سے ادا کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ماحولیاتی تنظیموں اورسائنسدانوں کی مشترکہ کاوشوں سے ترقی یافتہ ممالک کی حکومتیں ماحولیاتی آلودگی کے مسئلے پرقابو پانے کےلئے قانون سازی کرنے پرمجبور ہوگئی ہیں۔جبکہ پاکستان سمیت سندھ میں اس حوالے پالیسی بنائی گئی ہے.

دوسری جانب پاکستان سمیت سندھ کےماحولیاتی ماہرین نے کہاکہ پرندوں، جانوروں، چرند پرند حشرت الارض کو شدید خطرات لاحق ہونے سے آگاہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ فطرت کو محفوظ کرنے کے لئے عوام اقدامات کرے،سرکاری ادارے نسل کشی میں آلہ کار بن گئے ہیں، اس لیے عالمی دن کے حوالے پاکستان بھرمیں مختلف ورکشاپس اورورک سمیت دیگرطریقوں سے منایاجاتاہے ۔تاکہ لوگوں کے اندر آگاہی آسکے۔عالمی ماحولیات کی گولڈن جوبلی کے موقع پرکراچی پریس اورسیپاسے تعاون سے پہلی بارایک سماجی تنظیم گرین میڈیاانیشیٹوصحافیوں کے لیے موسمیاتی تبدیلیاں اور میڈیا کاکردار کے حوالے سے ایک روزہ ورکشاب کااہتمام کیا۔جس میں مختلف اداروں کے صحافیوں نے شرکت کی۔ اس موقع پر ادارہ تحفظ ماحولیات سندھ (سیپا)کے ڈائریکٹر نعیم مغل نے اعتراف کیا ہے کہ واٹر بورڈ، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ سمیت دیگر سرکاری اداروں نے ماحولیاتی قوانین کی دھجیاں اڑادیں،کراچی کی ایئرکوالٹی بدترین ہوگئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا ہے کہ کیا نجی اور کیا سرکاری شعبہ، ہم سب مل کر اپنا ماحول آلودہ کررہے ہیں مگر آلودگی پھیلانے والے خواہ کسی بھی شعبہ سے ہوں اُن کے خلاف سندھ کے تحفظ ماحول کے قانون 2014کے تحت بلا تفریق کارروائی کی جائے گی۔ اُن کا کہنا تھا کہ جب بھی وہ آلودگی پھیلانے والی کسی بڑی مچھلی کے خلاف ماحولیاتی قوانین کے مطابق وہ کوئی سخت قانونی کارروائی کرتے ہیں تو اُنہیں بہت دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ تاہم وہ اپنے فرائض منصبی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرسکتے اور اپنی ذمہ داریاں کسی دباؤ میں آئے بغیر یونہی نبھاتے رہیں گے۔ نعیم مغل نےکہاکہ کراچی میں لگ بھگ دس لاکھ لوگ فضائی آلودگی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کا علاج کرانے ہسپتالوں کا رخ کرتے ہیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہر قسم کی آلودگی کے حوالے سے صورتحال کتنی سنگین ہوچکی ہے۔ نعیم مغل نے کہا کہ ایسی شعوری سرگرمیاں بڑے پیمانے پر کرنے کی ضرورت ہے تاکہ عوام میں ماحول اور اُس سے جڑے دیگر موضوعات پر شعور اُجاگر کیا جاسکے۔ ڈی جی سیپا نعیم مغل نے کہا کہ کراچی میں 570 ملین گیلن پانی ٹریٹ کرنے کے علاوہ سمندر میں خارج کیا جاتا ہے جس سے میرین لائف کو شدید خطرات ہیں،پانی ضایع کرنے کے بعد کہا جاتا ہے کہ پانی کی کمی ہے، سمندر کو آلودہ کیا جارہا ہے، کراچی ایک صحراء ہے جس میں درخت اور ہریالی نہیں، خراب پانی کی وجہ سے 10لاکھ لوگ اسپتال کارخ کرتے ہیں واٹربورڈ آلودہ پانی کوٹریٹ نہیں کرتا۔سالڈویسٹ کچرے کوآگ لگتاہے ۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف کے سندھ،بلوچستان کے کنٹری ڈائریکٹر طاہر رشید نے کہا کہ پاکستان میں اعلیٰ سطح کے اسپیشز موجود ہیں،پاکستان میں سینٹرل ایشیا کے ممالک سمیت دنیا کے دیگر ممالک سے ماضی میں نایاب اقسام کے جانور اور پرندے آتے تھے لیکن ماحولیاتی مسائل، آبادی میں اضافے، شکار کے باعث پرندے اور جانور پاکستان میں نہیں آ رہے، پاکستان میں اب بھی میملز کے 118اقسام، پرندوں کے 666نوع، رینگنے والے جانوروں کے 170 اقسام، کیڑے مکوڑوں کے 20 ہزار اقسام اور اس کے علاوہ لاتعداد چرند پرند موجود ہے جس کی شناخت نہیں ہوئی،ان کاکہناتھا ایک زمانی میں بنگالی چیتا کا مہمان سندھ تھا لیکن 1930 کے بعد بنگالی چیتا سندھ میں نہیں آیا، ایشیائی چیتے کا پاکستان میں آخری شکار صوبہ بلوچستان میں ہوا، گرین ٹرٹل، ماس کروکوڈائل بھی بہت کم تعداد میں موجود ہیں، سندھ، بلوچستان اور پنجاب میں تلور کے شکار کے باعث تلو ر کو شدید خطرات لاحق ہیں، بھارت میں بھی تلور موجود ہے لیکن وہاں پر شکار کی اجازت نہیں، بھارت میں مہمان پرندوں اور جانوروں کے لئے خوراک کی بوریاں کھول کر رکھ دی جاتی ہیں،انہوں نے کہاکہ اداکار سلمان خان پر ہرن کے شکار کا کیس سپریم کورٹ میں دائر ہوا لیکن افسوس ہمارے ہاں ایسا نہیں، نایاب اقسام کے جانوروں اور پرندوں کے تحفظ کے لئے لوگوں کو کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہاہماراجیسےناظم جوکھیونے خلاف آوازاٹھائی تواس کوقتل کردیاگیا۔

انہوں نے مزید کہاکہ ماحولیاتی آلودگی کے باعث قطب شمالی و جنوبی میں موجود متعدد گلیشیئرتیزی پگھل رہے ہیں جس سے سمندری طوفان کے شدید خطرات لاحق ہیں، جبکہ گرین ہاس گیسز سے ماحول کو مسلسل پہنچنے والے نقصانات کے باعث پاکستان سمیت دنیا بھرمیں زلزلے، طوفان اور دیگر قدرتی آفات میں اضافہ ہوا ہے، جس سے موجودہ دنیا اورآنے والی نسلوں کو بھی خطرہ ہے۔

گرین میڈیا انیشیٹو کی روح رواں شبینہ فراز نے شرکاء کو بتایا کہ خواتین کو اپنے تربیتی پروجیکٹس میں فوقیت اس لیے دیتی ہیں کیونکہ موسمیاتی تبدیلی کے بیشتر منفی اثرات کا سامنا خواتین کو کرنا ہوتا ہے اس لیے خواتین کو بہتر انداز سے آگہی خواتین ہی دے سکتی ہیں۔

ڈائریکٹرٹیکنیکل سیپاوقار حسین پھلپوٹونےکہاکہ ماحول کو نقصان پہنچانے والے عناصر کا ذکر کیا اور ان کے حل پر بات کی اور سندھ کی موسمیاتی تبدیلی پالیسی کے مسودے کے خدو خال سے شرکاء کو آگاہ کیااور کہا کہ پالیسی پر عملد رآمد کے لیے ایک موزوں فریم ورک ضروری ہے جس کے ذریعے بہتر اقدامات اٹھائے جاسکتے ہیں۔

ڈپٹی ڈائریکٹرسیپاسنیلا عبد الواسع نے پریزینٹیشن کے ذریعے ماحولیات کے تحفظ سے شرکاء کو آگاہ کیا اور کہا آب و ہوا کی تبدیلی صرف پاکستان کے لیے نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے خطرہ بن چکی ہے۔ اُنہوں نے کہا اپنی بقاء کے لیے دنیا کو ہماری نہیں بلکہ ہمیں دنیا کی ضرورت ہے اس لیے اپنی بقاء کے لیے اِس کی حفاظت بھی ہمیں خود ہی کرنی ہوگی۔

معروف ماہر ماحولیات رفیع الدین نے اپنے وسیع ماحولیاتی تجربے کی روشنی میں ایک تصویری پریزنٹیشن کے ذریعے موسمیاتی بے یقینی اور نایاب جانداروں کی معدومی کے حوالے سے ایسے چشم کشا حقائق پیش کیے کہ حاضرین انگشت بدندان رہ گئے

ماہرین کے مطابق گرین ہاﺅسزگیسوں کے اخراج کی وجہ سے درجہ حرارت میں بتدریج اضافے اور موسمیاتی تبدیلیوں سے زراعت کا نظام بری طرح متاثر ہوا ہے، جس سے خوراک کی طلب پوری نہ ہونے اور بڑھتی ہوئی مہنگائی سے بالخصوص غریب ممالک کے عوام کی مشکلات میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ پاکستان میں ماحولیاتی آلودگی کے سبب پانی کی آلودگی میں بھی تیزی سے اضافہ ہوا ہے جبکہ ماہرین کے مطابق 80 فیصد بیماریوں کا تعلق آلودہ پانی کے استعمال سے ہوتا ہے، لہٰذا خوشگوار اور صحت مند معاشرے کی تشکیل کیلئے ماحولیاتی مسائل پر قابوپانا انتہائی ضروری ہے۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.