پاکستان میں سیاسی غیر یقینی، حکومت اور اپوزیشن ایک دوسرے سے خوف زدہ

تحریر : محمد عدنان ہاشمی

پاکستان کی سیاست دلچسپ مرحلے میں داخل ہوچکی ہے۔ سب سے زیادہ دلچسپ یہ ہے کہ کسی کو نہیں پتہ آگے کیا ہونے والا ہے، ملک میں غیر یقینی کی صورتحال ہے۔ حکومت اور اپوزیشن دونوں نے اپنے پتے چھپا کر رکھے ہیں اور کوئی کسی پر یقین نہیں کر رہا۔ دونوں فریقین جان بوجھ کر بعض غلط خبریں صحافیوں کو لیک کر رہے ہیں، اس لیئے اب صحافی بھی کسی پر اعتبار کرنے سے قبل دس بار سوچتے ہیں۔

وزیراعظم اور اپوزیشن دونوں ہی بظاہر مطمئن ہیں، جس کے باعث انہیں دیکھنے والے بھی الجھن کا شکار ہیں۔ ظاہر جو بھی ہو، مگر ایک بات تو طے ہے کہ دونوں فریق مطمئن ہونے کا ڈرامہ کر رہے ہیں۔ اپوزیشن رہنماء ایک طرف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کو یقینی قرار دے رہے ہیں تو دوسری طرف ناکامی کی صورت میں اسے سیاست کے حسن کا نام بھی دیتے ہیں۔ وزیراعظم کو دیکھیں تو وہ اپوزیشن تابڑ توڑ زبانی حملوں میں لگے ہیں اور بار بار یہ ظاہر کرتے ہیں کہ مجھے تو اسی دن کا انتظار تھا، میں تیار بیٹھا ہوں۔ یہ بیانات اپنی جگہ مگر انہوں نے لاہور جا کر چوہدری برادران سے بھی ملاقات کی اور وہ ایم کیو ایم کے دفتر تک میں چلے گئے۔ دونوں فریقین کے بیانات اور سرگرمیاں یہ بتاتی ہیں کہ دونوں کو ہی علم نہیں کہ جیت کس کا مقدر ہے۔

اپوزیشن کی غیر یقینی کی وجہ ماضی میں سینیٹ میں اکثریت ہونے کے باوجود چیئرمین سینیٹ کے خلاف عدم اعتماد کی ناکامی ہوسکتی ہے۔ اپوزیشن بار بار صحفہ پلٹنے کی خبر پر یقین کرتی رہی اور اسے بار بار سرپرائز ملتا رہا۔

پی ٹی آئی کی بات کریں تو انہیں سب سے بڑا مسئلہ پارٹی کے اندر سے ہے۔ جہانگیر ترین اور علیم خان کے گروپ کا اکھٹا ہونا اور اپنا وزیراعلیٰ لانے کی خواہش کا اظہار کرنا وزیراعظم کی غیر یقینی کی وجہ ہو سکتی ہے، کیونکہ عددی حساب سے اپوزیشن کو زیادہ سے زیادہ دس اضافی ووٹ درکار ہیں۔ اپوزیشن کو یہ بھی ڈر ہے کہ آخر وقت میں فون کالز کے ذریعے سارا گیم نہ بدل جائے، پی ٹی آئی کے ارکان توڑنا تو دور کی بات ان کے اپنے بندے ہی دوسرے کیمپ میں نہ چلے جائیں۔

میرے ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اسلام آباد کا ایک بڑا سِول ادارہ اس وقت متحرک ہے اور وہ اپوزیشن سمیت پی ٹی آئی کے مشکوک ممبران کے فون ٹیپ اور ان کی سرگرمیوں پر نظر رکھ رہا ہے۔

حکومت تحریک عدم اعتماد کے لیئے بلائے گئے اجلاس کے لیئے زیادہ سے زیادہ وقت لینے کی کوشش کرے گی، لیکن یہ بات بھی ممکن ہے کہ حکومت اچانک اجلاس بلا کر سرپرائز دے سکتی ہے اور وہ اسی صورت ہوگا جب انہیں عدم اعتماد کی ناکامی کا یقین ہو۔

اس ساری سیاسی صورتحال میں پیپلز پارٹی بہت ہی زیادہ مطمئن نظر آتی ہے۔ پی ٹی آئی کو مولانا فضل الرحمان اور شہباز شریف سے ڈر نہیں مگر ایک جملہ جو میں مختلف پی ٹی آئی کے حلقوں میں سن رہا ہوں وہ یہ کہ آصف زرداری کبھی گیلی مٹی پر پاؤں نہیں رکھتا اور آج ہی میرے ایک دوست جو کہ مبینہ طور پر پی ٹی آئی کا یوٹیوبر ہے اس نے بھی یہی جملہ ادا کیا، یعنی اگر آصف زرداری متحرک نہ ہوتا تو یہ اطمینان سے ہوتے اور شاید یہی وجہ ہے کہ حکومت ہارس ٹریڈنگ کا الزام لگا رہی ہے اور آج وزیراعظم نے آصف زرداری کو ٹارگٹ نمبر ایک قرار دیا۔

اتحادیوں کی طرف دیکھیں تو وہ بھی اب تک کوئی واضح مؤقف نہیں لینا چاہتے، شاید وہ بھی غیر یقینی کا شکار ہیں اور ڈر رہے ہیں کہ اگر عمران خان کے خلاف گئے تو اور وہ کامیاب ہوگئے تو ہم بھی ان کے عتاب کا شکار ہوں گے اور اگر اپوزیشن کامیاب ہوتی ہے تو آگے انہیں سیاسی طور پر کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

وزیراعظم کی بات درست ہے کہ اپوزیشن اس بار اگر ناکام ہوئی تو دوبارہ اٹھ نہیں سکے گی۔ وہ کس منہ سے عوام تو دور کی بات صحافیوں کے سوالات کا جواب دے سکیں گے اور وزیراعظم اور پی ٹی آئی میں نئی روح پیدا ہوگی تو کم از کم انتخابات تک تو برقرار رہے گی۔

اب پی ٹی آئی ذرائع میڈیا میں خبریں جاری کر رہے ہیں کہ اسپیکر ہاؤس میں اجلاس ہوا ہے، جس میں تحریک عدم اعتماد کی کارروائی بلڈوز کرنے کا پلان تیار کیا گیا ہے۔

پلان کے مطابق حکومتی ارکان کو پارلیمنٹ آنے کی اجازت نہیں ہو گی، جو آیا وہ منحرف تصور ہو گا، عمران خان اسپیکر کو لکھ کر دیں گے اسپیکر منحرف رکن کو پارلیمنٹ داخل نہیں ہونے دیں گے۔

مگر ماہرین کا کہنا ہے کہ آئین کے مطابق جرم سرزد ہوئے بغیر سزا نہیں ہو سکتی۔ جب جرم ہو جائے تو اس رکن کو پارٹی سربراہ شوکاز جاری کرے گا، جواب آنے پر پارٹی سربراہ اسپیکر کو بھیجے گا۔ دو روز میں اسپیکر الیکشن کمیشن کو بھیجے گا اور الیکشن کمیشن ڈکلیئریشن دے گا۔

یہاں قابل ذکر بات یہ ہے کہ وزیراعظم صرف اپنی پارٹی کے لوگوں کو جبری طور پر روک سکتے ہیں، اتحادی اور آزاد ارکان اس زمرے میں نہیں آتے۔

اور سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ تحریک عدم اعتماد ناکام ہو گئی تو کئی حکومتی رکن نااہل ہو جائیں گے، ایوان کی نشستیں کم ہو جائیں گی، اپوزیشن اکثریت میں آ جائے گی۔ تو یعنی خربوزہ چھری پر گرے یا چھری خربوزے پر بات ایک ہی ہے۔

اطلاعات ہیں کہ عمران خان کو ’’مبینہ طور پر‘‘ لانے والے بھی ’’مبینہ طور پر‘‘ ایک بند گلی میں پھنس چکے ہیں، انہیں خود نہیں پتہ کہ آخر کرنا کیا ہے، کیونکہ اس ایک شخص یعنی وزیراعظم کی وجہ سے ’’مبینہ طور پر‘‘ ان کے اندر بھی کچھ اچھے حالات نہیں ہیں۔

اتحادیوں کا ابھی تک کوئی فیصلہ نہ کرنا اس بات کی بھی گواہی ہے کہ انہیں سگنل نہیں مل رہا، کہ اونٹ کو بٹھانا کس کروٹ ہے۔ اگر سگنل ملا ہوتا تو یہ سیاسی طوفان کب کا ختم ہوچکا ہوتا۔

ایک بات تو طے ہے کہ نہ جانے کتنے پراجیکٹ سیاست میں متعارف کیئے گئے ہیں، مگر وزیراعظم عمران خان لانے والوں کیلئے وہ ہڈی بن گیا، جو نہ نگل سکتے ہیں نہ اُگل۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.