اناج کو ترستے ماضی میں تجارت کا مرکز رہنے والے علاقے کھارو چھان کے مکین

کھارو چھان کے ساحلی علاقے مصری جٹ جاتے ہوئے کشتی میں ونود نے بتایا کہ اب ان کے ہاں گزرے وقتوں کی کوئی نشانی نہیں بچی کیوں کہ دریائے سندھ کے میٹھے پانی کی جگہ سمندر نے لے لی ہے۔

انہوں قدرے مایوس ہوتے ہوئے بتایا کہ اب میٹھا پانی تب آتا ہے جب ملک میں زیادہ بارشیں ہوں یا پھر پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش ختم ہونے پر کوٹڑی سے نیچے پانی چھوڑا جاتا ہو۔

ان کے مطابق وہ کافی عرصے بعد اپنے ہاں میٹھے پانی کے آنے پر تالاب بھر لیتے ہیں، اگر اوپر سے میٹھا پانی نہ آئے تو بارشوں کے موسم میں آسمان پر آنکھیں گاڑے بیٹھے ہوتے ہیں کہ بارش آئے تو ہم اپنے تالاب بھر سکیں، پھر جب بالکل بھی پانی نہ ہو تو ہینڈ پمپ یا چھوٹے چھوٹے کنویں کھود کر پینے کا پانی حاصل کرتے ہیں۔

ونود کا کہنا تھا کہ زمینیں تو اب نام کی آباد ہوتی ہیں، لوگ سمندر سے مچھلی کا شکار کرکے یا کیکڑے پکڑ کر گزارا کرتے ہیں، اب ایسی حالت میں انسان زیادہ نہیں رہ سکتا، سمندر مسلسل اس جزیرے کو کاٹ رہا ہے اور روز بروز یہ جزیرہ سمندر کے پیٹ میں جا رہا ہے، لوگ نقل مکانی کرنے پر مجبور ہیں۔

قحط سالی اور مصیبت کا شکار یہ علاقہ ہمیشہ سے ایسا نہیں تھا بلکہ دستیاب شدہ ریکارڈ سے معلوم ہوتا ہے کہ 19ویں صدی میں یہاں پانی کا بہاؤ 150ملین ایکڑفٹ تھا لیکن اب صرف 2 فٹ ایکڑرہ گیا ہے، اس صورتحال میں صرف انسانی آبادی خطرے میں ہی نہیں بلکہ ماحولیاتی توازن بھی شدید خطرے میں ہے۔

جیسے مسٹر ہڈسن جس نے 1905ء کی سروے رپورٹ میں کہا تھا کہ’’1848 سے یہ ٹھٹے کے ساحلی علاقے درآمد و برآمد کا مرکز رہے ہیں، یہاں سے اس وقت بھی کراچی، حالیہ بھارتی علاقے کچھ، کاٹھیا واڑ اور صوبے گجرات تک اناج جاتا تھا مگر اب حالت یہ ہے کہ وہاں کے مقامی لوگ اناج کے دانوں کو ترس رہے ہیں۔

یہ علاقہ صوبہ سندھ کے ضلع ٹھٹے میں ساحلی علاقے کھاروچھان، کیٹی بندر اور شاہ بندر سمیت دیگرعلاقوں پر مشتمل ہے، یہاں کی خاص بات یہ ہے کہ یہاں مختلف آبادیاں دریائے سندھ کے اندرواقع ہیں، جسے کریک بھی کہا جاتا ہے جبکہ مچھلی کے اعتبار سے یہ صوبہ سندھ کا مہشور علاقہ ہے مگراس وقت وہاں تشویشناک صورتحال پیدا ہو چکی ہے کیوں کہ وہاں سمندر سطح زمین سے بلند ہوتا جا رہا ہے یا پھر یوں کہیں کہ سمندر زمین نگلتا جا رہ اہے۔

ڈبلیوڈبلیوایف کے ونود نے یہ بتایا کہ یہ علاقہ وہ ہے یہاں سمندراوردریا کا سنگم ہوتا ہے مگر ہم نے دو گھنٹے کا سفر کیا تو ہمیں صرف کھارا سمندر ہی نظرآیا۔

یہاں کے لوگ ماضی میں دریائی پانی سے کھیتی باڑی کرتے تھے مگراب لاکھوں کی تعداد میں لوگ نقل مکانی کررہے ہیں مگر اس کے باوجود بہت سی آبادیاں مجبوری کے تحت آباد ہیں جن میں ایک مصری جٹ کے لوگ یعنی جٹ برداری کے لوگ بھی ہیں۔

سمندر کی سطح بلند ہونے کی وجہ سے یہاں کئی آبادیوں کا نام ونشان بھی باقی نہیں ہے مزے کی بات یہ ہے یہاں ساحلی علاقے کے لوگ پیپلزپارٹی کے ووٹرز ہونے کے باوجود ان سے متعلق مقامی انتظامیہ کے پاس کوئی ڈیٹا ہی نہیں۔

سندھ کے ان ساحلی علاقوں میں واقع 42 آبادیوں میں سے 28 آبادیوں کوسمندرنکل چکاہے، کھارو چھان میں میٹھے پانی کے 200سے زائد ذخائر ختم ہو گئے ہیں۔

دو گھنٹوں کا کشتیوں کا سفر طے کرتے ہوئے جب ہم کھاروچھان کے علاقے مصری جٹ پہنچے توہمیں اس وقت سخت حیرت ہوئی کہ 21 ویں صدی میں بھی انسان بنیادی سہولیات سے محروم زندگی بسرکرنے پرمجبور ہیں، وہاں زندگی بسر کرنے والے مرد اورخواتین کے چہروں سے مایوسی جھلک رہی تھی ۔

یہاں پرہماری رہنمائی کے لیے ڈبلیوڈبلیوایف کے ونود موجود تھے جہنوں نے بتایا کہ یہاں مصری جٹ میں آپ لوگ دیکھ رہے ہیں نہ اسکول ہیں نہ ہسپتال ہے اورنہ ہی خواتین اورمرد کے لیے واش روم موجود ہیں حتیٰ کہ روڈ راستے بھی نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہاں ہر ایک کے پاس کشتی نہیں ہے اگر ضرورت کے تحت کشتی میں جائے توکشتی والے بھی کرایہ منہ مانگا لیتے ہیں یہ لوگ غریب ہے کہاں سے لائیں گے۔

ان کاکہنا ہے کہ بدقسمتی سے یہ لوگ پیپلزپارٹی کے ایم پی اے محمدعلی ملکانی کے ووٹرز ہیں جو گزشتہ حکومت میں ماہی گیری محکمہ کے وزیر تھے پرانہوں نے ان کو کسی بھی قسم کی سہولیات نہیں دیں۔

ونود کا کہنا ہے سب سے مشکل وقت تب ہوتا ہے جب ایک حاملہ خاتون کوسمندرکے راستے اسپتال پہنچایا جاتا ہے کیونکہ یہاں اسپتال نہیں ہے ان کو بگھان یا گاڑھو لایا جاتا ہے مگروہاں پربھی لیڈی ڈاکٹرنہیں ہے۔

ونود نے مزید بتایا کہ بچوں کی پیدائش میں پیچیدگی یا پھر ایسی ایمرجنسی ہوتومریض کوکراچی لے جاتے ہیں جس کے لیے مسلسل چارگھنٹوں کا سفرطے کرنا پڑتا ہے جبکہ کیٹی بندرٹاؤن کا بھی سفر ایک گھنٹے کا کشتی میں ہے، یہ سارے مسائل بہت پیچیدہ ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اس کے علاوہ جب بارش ہوتی ہیں توان علاقوں میں نکلنا مشکل ہوجاتا ہے، انہوں نے کہاکہ یہ مصری جٹ کے لوگ بہت آگے آگئے ہیں ان کی اصل زمین سمندرنگل گیا ہے، انہوں نے کہا کہ پانی کا بحران شدت اختیار کر گیا ہے اور یہ لوگ غربت کے باعث نقل مکانی بھی نہیں کر سکتے۔

ونود کے مطابق کھاروچھان جہاں دریا کا میٹھا پانی سمندر میں گرتا ہے اور جب میٹھا پانی وافر مقدار میں آجائے توکھارو چھان میں قدرتی طور پر 200 سے زائد قدرتی تالاب بنے ہوئے ہیں جہاں یہ پانی ذخیرہ ہو جاتا ہے اور علاقے کے عوام اس پانی کو اپنے استعمال میں لاتے ہیں مگر طویل عرصے سے دریائے سندھ میں پانی کی کمی کی وجہ سے سمندر میں پانی بھی برائے نام ہی پہنچ پا رہا ہے اور مذکورہ تالاب بھی خشک ہو چکے ہیں اب صرف ایک تالاب میں پانی رہ گیا ہے جس سے پانی حاصل کرنے کے لیے علاقے کی عوام کی طویل قطاریں لگ جاتی ہیں اور تمام دن لوگ اپنی ضروت کے مطابق پانی حاصل کرتے ہیں اس کے بعد پھر مویشیوں کے لیے پانی لینے والوں کی طویل قطاریں لگ جاتی ہیں اور علاقے کے عوام کو یہ فکر لاحق ہے کہ جب یہ تالاب خالی ہو جائے گا تب کیا بنے گا ۔

مصری جٹ کے لوگوں کاکہناہے کہ بدقسمتی یہ ہے کہ وہ غربت کے باعث وہ اس علاقے سے کسی دوسرے مقام پر نقل مکانی بھی نہیں کر سکتے۔

ڈبلیوڈبلیوایف کے ونود نے کہا کہ ہم نے سرکاراور نیوی اورکچھ غیرسرکاری تنظمیوں سے مل کران کو تالاب بناکردیے ہیں تاکہ ان کچھوؤں کی افزائش ہوسکے اور یہ اپنی زندگی بہتر بناسکیں، دوسری بات یہ ہے کہ یہاں ماحولیات کی وجہ سے تمرکے درخت کم ہورہے ہیں مگر ہم یہ کوشش کررہے کہ یہاں زیادہ سے زیادہ منیگروز کے درخت لگائے جائیں کیونکہ ان میں مچھلیوں کی پرورش ہوتی ہیں تاکہ ماہی گیروں کا اپنا گذربسر ہوسکے ۔

ایک سوال کے جواب میں ونود نے کہا کہ ہم نے مصری جٹ کے لوگوں کو کہا ہے کہ آپ یہاں سے دوسرے لوگوں کی طرح نقل مکانی کرجائیں تویہاں کے لوگوں کا کہنا ہے ہم کہاں جائیں۔

تحرير:ماریہ اسماعیل

CEJ-IBA (Centre for Excellence in Journalism)

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.