الٹرا سائونڈ اور ایکسرے کی دنیا میں اہم قدم!

الٹرا سائونڈ اور ایکسرے کی دنیا میں اہم قدم!

انسانی صحت میں ایسے کئی امراض پائے جاتے ہیں جن کی تشخیص الٹراساؤنڈ اور ایکس رے کے بغیر نہیں کی جا سکتی اور دنیا بھر میں لگ بھگ چارارب افراد ایسے ہیں جنہیں یے سہولت میسر نہیں۔

ییل یونیورسٹی کے سائنسداں نے اس مسئلے کا بھترین حل نکالا ہےاور دنیا کا سب سے چھوٹا، کم خرچ اور مؤثر ترین الٹراساؤنڈ نظام پیش کیا ہے۔

جینیات داں پروفیسر جوناتھن روتھبرگ اور ان کی ٹیم نے بٹرفلائی آئی کیو نامی ایک آلہ بنایا ہے۔ جو اس مقصد کے لئے بڑا مددگار بن سکتا ہے۔

پہلے مرحلے میں خردبرقیات(مائیکروالیکٹرانکس) کو آزمایا گیا ہے اور بڑے سرکٹ کو بہت چھوٹا کرکے ایک ایسے آلے میں سمویا گیا ہے جو ہاتھ میں سما سکتا ہے۔

یہ آلہ اس وقت 150 ایسے ممالک کو فروخت کیا جارہا ہے جو اس کی قیمت ادا کرسکتے ہیں جبکہ بل گیٹس فاؤنڈیشن کے تعاون سے 53 غریب ترین ممالک کو بلاقیمت فراہم کیا جائے گا۔

پروفیسر جوناتھن کے مطابق اگرچہ یہ روایتی الٹراساؤنڈ نظام کی جگہ تو نہیں لے سکتا لیکن عین ممکن ہے کہ اس سے الٹراساؤنڈ عکس بندی عام ہوگی اور اس سے فوائد حاصل ہوں گے۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.