جاپانی ماہرین کا کارنامہ ،کمرے کو وائرلیس چارجر بنادیا

ٹوکیو: یہ بات تو طئے ہےکہ اسمارٹ فون کا چارج ختم ہونا ہمارے عہد کا سب سے بڑا دردِ سر بلکہ خوف بن چکا ہے۔ اس کا حل اب جاپانی ماہرین نے ایک انقلابی کمرے کی صورت میں پیش کیا ہے جو حدود میں موجود ہر برقی آلے کو کسی تار کے بغیر(وائرلیس)چارج کرسکتا ہے۔اگرچہ وائرلیس چارجنگ والے فون، اسمارٹ واچ اورایئرفون عام ہوچکے ہیں لیکن ٹوکیو یونیورسٹی کے پروفیسر ٹاکویا ساساتانی نے ایک نئی طرح کی ٹیکنالوجی وضع کی ہے جسے ’ملٹی موڈ کواسی اسٹیٹک کیویٹی ریزوننس‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اس میں انہوں نے تین میٹر چوڑے، دو میٹر لمبے اور تین میٹر اونچے کمرے میں جگہ جگہ کیپیسٹر کوائلیں لگائی ہیں۔ اس طرح پورے کمرے میں ان دیکھا مقناطیسی میدان قائم ہوجاتا ہے۔ تاہم برقی میدان کیپیسٹر میں ہی پھنسا رہتا ہے۔ پھر کمرے کے عین درمیان بچھی ہوئی تانبے کے گول چھلے (دائرے) کو بچھایا جس سے نکلنے والا مقناطیسی میدان گھڑی وار اور مخالف گھڑی وار گھومتا ہے۔ یوں کمرے میں کوئی جگہ خالی نہیں رہتی اور ہرجگہ چارج پہنچتا ہے۔ اب وہاں فون سے لے کر ٹیبلٹ تک جو بھی شے رکھی جائے وہ بجلی پاتی رہتی ہے اور چارج ہوتی رہتی ہے۔ لیکن کمرے کے دو فیصد علاقے یا کونوں میں وائرلیس سگنل پہنچتے رہتے ہیں اور لگ بھگ 50 واٹ بجلی ملتی رہتی ہے۔ دوسری جانب کمرے میں موجود مقناطیسی میدان اتنا طاقتور نہیں کہ وہ انسان پر اثرڈال سکے اور یوں پورا بجلی بھرا کمرہ ہی انسانوں کے لیے بالکل بے ضرر ہے۔ اگرچہ چارج ہونے والے آلے کو درست زاویے پر رکھا جائے تو یہ بھرپور انداز میں چارج ہوتا ہے لیکن رخ سے ہٹنے پر بھی کچھ نہ کچھ چارجنگ جاری رہتی ہے۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.