ماں کی آواز بھی بچوں کا درد کم کرتی ہے

ماں قدرت کا ایک انمول تحفہ ہے ،  ماں کی محبت کا مثال کوئی اور نہیں بن سکتا

ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ماں کی آواز بھی بچے میں تکلیف کے احساس کو کم کرتی ہے۔

بولونا، اٹلی:

معمول کی مدتِ حمل سے پہلے پیدا ہونے والے بچوں کو ماں سے الگ کرکے انکیوبیٹر اور دیگر نگہداشت میں رکھا جاتا ہے۔ جہاں ماں سے الگ اس بچے کو ٹیکے اور نلکیاں لگائی جاتی ہیں سے جن کے باعث بچہ درد سے بےحال ہوجاتا ہے اگر اس دوران والدہ کو بچے کے پاس لایا جائے اور وہ بچے سے باتیں کریں تو نومولود کی تکلیف کم ہوجاتی ہے۔

یونیورسٹی آف جنیوا کے سائنسدانوں کہنا ہے کے جب جب ماں بچے سے بات کرتی ہے تو اس میں آکسیٹوسِن کی شرح بڑھتی ہے جس سے درد کم  ہوجاتا ہے۔ آکسیٹوسِن ایک ہارمون ہے جو کسی سے لگاوٹ یا پھر تناؤ، دونوں میں ہی اہم کردار ادا کرتا ہے۔

اس کے علاوہ بچوں میں درد کا ایک پیمانہ ’پری ٹرم پین پروفائل ( پی آئی پی پی) استعمال کیا گیا ۔

اس دوران کئی بچوں کے مختلف اوقات میں خون کے ٹیسٹ کئے گئے جس دوران انکی مائیں انکے ساتھ تھی اور انسے اپنے بچوں سے بات کرنے کو کہا گیا اور بچوں کو گانا یا لوڑی سنائی گئی

معلوم ہوا کہ ماں غائب ہونے کی صورت میں پی آئی پی پی یعنے بچے جیں درد کی شرح 4.5 نوٹ ہوئی اور جیسے ہی ماں نے بچے سے بات کی تو پی آئی پی پی کی شرح تین درجے کم ہوگئی جو غیرمعمولی بات ہے۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ماں کی آواز بچے کے لیے قدرتی پین کلر کا درجہ رکھتی ہے۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.