گھوٹکی وڈیروں کے شکنجے میں ، پیرس محص خواب

کراچی اور حیدرآباد کے بعد تیسرا بڑا انڈسٹیریل زون گھوٹکی آج جہالت ، بدامنی ، بیروزگاری ، بھوک و افلاس کا شکار ہے ۔ کئی عشرون سے تعلیمی تباہی نے عوام الناس کو جہالت ، احساس کمتری اور پسماندگی  کی بھٹی میں ڈال دیا۔

وڈیرا شاہی نے سیاسی اور شعوری سوچ کو پنپنے نہیں دیا۔ جہالت اور لاشعوری کا یے عالم ہے کہ ہر ذات اور برادری نے اپنا ایک آقا بنا لیا ۔ وہ آقا ان کی سیاہ اور سفید کا مالک ہے ۔ مگر آج کل سیاہ کا مالک ہے، مگر سفیدی کی عمل میں ان کا کوئی عمل دخل نہیں ۔ برادری ووٹ لینے والے وڈیروں کے اپنے اپنے عسکری ونگ ہیں ۔ برادری کے اندر بغاوت کو کچلنے کے لئی عسکری ونگ کو استعمال کیا جاتا ہے۔ سیاست میں بھی ان وڈیروں کا ایک دوسرے سے مقابلا ہوتا چلا آ رہا۔ برادری ووٹ کو کیش کرنا یا پھر دیگر برادریوں کے چھوٹے چھوٹے قبیلوں کے چھوٹے وڈیروں کو خرید کر ان برادریون کو اپنا ہم نوا بنا کر ووٹ بٹورنا صدیون سے  چلتا آ رہا ہے ۔ اور پھر یہی وڈیری قانون ساز اسیمبلیون میں جا کر پانچ سال اقتدار کی مسند پر بیٹھ جاتے ہیں۔ وہی ضلعی کے اندر بھی تمام سرکاری دفاتر بشمول تھانوں کو بھی کنٹرول کرتے ہیں۔ لوگوں کے قسمت کے فیصلے اعلی ایوانوں کے بجائے اپنے بنگلوں میں کرتے ہیں ۔

 اگر ایک نظر ضلعی کی مجموعی صورتحال پر ڈالی جائے تو یہاں ہر طرف بدحالی نظر آتی ہے۔ سڑکیں ٹوٹی پھوٹی ہوئی ، تعلیمی ادارے کھنڈر، اسپتال صرف ریفر سنٹر ، لوکل گورنمنٹ نظر نہیں آتی، امن امان کی بگڑتی صورتحال، اغوا برائے تاوان، اور دیگر کئی سماجی برائیاں، شہروں ، بازاروں میں تجاوزات کی بھرمار ، گلیوں میں گندگی کے ڈھیر، سڑکوں محلوں میں آلودہ پانی، ایسے لگتا ہے یہاں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں ، اور نہ ہی کوئی نمائندا ۔ 

سماجی شعور کو پنپنے سے پہلے کچلا جاتا ہے۔  یہی وجہ ہے کہ کوئی عام شخص انتخابی عمل میں حصا نہیں لیتا۔ یہی وڈیری ، یہی سردار، یہی جاگیردار آپس میں باری باری کھیل رہے ہیں۔ مگر جس کی بھی باری ہو عوام کے حالات بھتر ہونے کا نام نہیں لیتے۔ عوام کی دکھوں اور کرب میں کمی واقعی نہیں ہو رہی۔ 

گھوٹکی انڈسٹیریل اسٹیٹ ہونے کے باوجود بھی مقامی لوگوں کو روزگار میسر نہیں۔ انڈسٹری سے رائیلٹی کی مد میں ملنے والا پیسا بھی مقامی لوگوں کی فلاح اور بہبود کے بجائے کہیں اور جا کر بٹ جاتی ہے ۔ نام نہاد عوامی نمائندے آج تک گھوٹکی کو اچھا اسپتال اور یونیورسٹی نہ دلا سکے۔ ضلع ہیڈکواٹر اسپتال میں ہر آنے والے مریض کو رحیمیار ریفر کیا جاتا ہے۔ کروڑوں روپوں سے خریدی جانے والی ڈائیلاسس مشینیں زنگ آلود ہو چکی ہیں ۔ گردی کے مریضوں کو ہفتے میں تین دن ضلع بدر ہونا پڑتا ہے۔ دو یا تین مہینے کے اندر ان کی جمع پونجی علاج کے بجائے صرف آنے جانے میں لگ جاتی ہے ۔ اور تین مہینے کے بعد لواحقین اپنے پیاروں کو اللہ پاک کے آس پر چھوڑ دیتے ہیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ تعلیم ہمارے لئی لمحہ فکریہ ہے۔ ضلعی کی تمام پرائمری اسکول مسمار ہو چکے ہیں ۔ دیہی علاقوں میں کئی اسکول عدم توجہی کی سبب بند ہو چکے ہیں۔ اور چند اسکول ابھی باقی ہیں ان میں بھی بلنڈنگ زبون حال ، فرنیچر نایاب اور گھوسٹ ملازمین کا راج ہے ۔ سوچی سمجھی سازش تحت عوام کو تعلیم  سے دور رکھا جا رہا ہے تاکہ شعور ابھرنے نا پائے اور باقی مانندہ اسکولز میں تعلیمی معیار وہ نہیں جو ہونا چاہیے۔ 

کاپی کلچر جیسی نہوست و ناسور  باقی مانندہ کو بھی دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے۔ گو کہ جو ان وڈیروں اور سرداروں کی خواہش تھی سب کچھ عین اسی طرح ہوتا چلا آ رہا ہے ۔ ہزاروں بچے اسکولوں سے باہر ہیں ، جو آنے والے وقت میں ڈاکٹر ، انجنیئر، وکلا،اور ٹیچر بننے کے بجائے ان وڈیروں کا آلائے کار بنیں گے، ان وڈیروں کے لئی کام کریں گے۔ یہی لوگ شعور کو کچلنے کے لئی وڈیروں اور آقاوں کے اشاری پر ہونگے۔ کیونکہ کہ ابھی تک ناخواندگی کی شرح پڑھے لکھے باشعور لوگوں سے کہیں زیادہ ہے ۔ اور پھر یہی وڈیرے جعلی ڈگریوں پر انہی لوگوں کو مقامی اداروں میں نوکریاں دلوا کر ان اداروں کو کنٹرول کرتے چلے آ رہے ہیں گے۔ اور اپنا ووٹ بینک بڑھانے کے لئی ان کو استعمال کریں ۔ انھی کے ذریعی مقامی اداروں کو لوٹتے ہیں۔  بلکل اسی طرح تھانے میں جائیں تو وہاں سرکاری ملازم کم اور وڈیروں کے ملازم زیادہ نظر آتے ہیں، جو وڈیروں کی حکم کے بغیر این سی بھی نہیں کاٹ سکتے ۔ تعلیمی میں اداروں بھی ہزاروں ڈمی استادذہ بھرتی کئے گئے جو کوئی اچھا لاب دینے سے قاصر ہیں ۔ ان میں سے اکثر گھوسٹ ہیں ، ان کو پڑھانا بھی نہیں آتا۔ یے بات ثابت کرنے کے لئی تیار ہوں ۔ اس کے ساتھ ساتھ اسپتالوں اور لوکل گورنمنٹ کے اندر بھی ڈمی اور گھوسٹ ملازم بھرتی کئے گئے جو سسٹم کو روک کر رکھے ہیں ۔ یے تمام ملازمتیں ان وڈیروں کی عطا ہیں۔ جس کی وجہ سے پورا ڈھانچہ زنگ آلود ہو چکا ہے۔ یے کھلواڑ نہ دائیں بازو والے وڈیروں نے کیا نہ بائیں بازوں والوں نے مگر دونوں نے مل کر شعور کو کچلا ، دونوں نے مل کر گھوٹکی کو لوٹا اور دونوں باری باری آنے والے وقت میں بھی لوٹیں گے اور گھوٹکی فقط نام کا پیرس رہے گا۔ اس وقت تک، جب تک تعلیمی اداروں میں خاطر خواہ اصلاحات نہیں ہوتی ، شعور کو آگے آنے نہیں دیا جاتا ۔ یے وڈیرے ہر سڑک بے دھڑک کھاتے رہیں گے ۔ اسپتالوں کی فنڈز سے بھتہ لیتے رہیں گے۔ ہر ٹھیکیدار ان کا اپنا ہوگا۔ پروجیکٹ پورا ہو نا ہو ، پیسے سرکار سے وصول کئے جائیں گے۔ نوکریاں برائے فروخت ہونگی، مقامی انڈسٹری سے ملنی والی رائیلٹی پر بھی ان کا ہاتھ ہوگا اور سیاست میں بھی وہ ہونگے ، ان کی اولادیں ہونگی ۔ بس ہر طرف مایوسی ہوگی ۔ گھوٹکی محص نام کا پیرس ہوگا۔

تحریر:شمس بوزدار

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.