مرکز اور سندھ کی لڑائی، ایک نیا سرکس

تحریر : سید طلعت حسین

 د یکھنے میں مرکز اور سندھ کی لڑائی جاری ہے۔ وزیر اعظم عمران اپنے وزراء کے ذریعے آصف علی زرداری کی حکومت کو معیشت کی تباہی اور غریبوں کی نوکریاں چھیننے کے مسلسل طعنے دے رہے ہیں۔ کہتے ہیں کہ اگر مکمل لاک ڈاؤن ہوا تو لاکھوں لوگ بے روزگار ہو جائیں گے اور معاشی بدحالی سے پھیلنے والی بربادی کی ذمہ داری زرداری خاندان اور ان کے سیاسی نمائندگان پر ہو گی۔

بلاول بھٹو خود کو غصے میں لا کر سخت ترین الفاظ میں مرکز کی اس پالیسی کی مزمت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اس کے ساتھ آزاد کشمیر میں طالبان کے ایک پرانے ساتھی کو اسمبلی میں لانے کا گولہ بارود بھی بنی گالا کی طرف داغ رہے ہیں۔ ہر روز خبروں میں مرکز بمقابلہ سندھ حکومت کا چرچہ ہوتا نظر آتا ہے۔ پاکستان کے عوام بھولے اور سادہ ہیں۔ بہت سے اس سیاسی منہ ماری کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے اس پریشانی کا شکار ہو گئے ہیں کہ کہیں یہ لڑائی بڑھ نہ جائے اور وفاق کے صوبوں کے ساتھ تعلقات مزید خراب نہ ہو جائیں۔

ان تمام اہالیان بھولستان سے درخواست ہے کہ اپنا خون نہ جلائیں ۔ یہ لڑائی اتنی ہی حقیقی ہے جتنی پاکستان میں جمہوریت یا کسی زمانے میں ایم کیو ایم حقیقی تھی۔ دونوں پارٹیاں اندر خانے باہمی مفادات کے طے شدہ پلان کے تحت کام کر رہی ہیں۔ حالیہ تاریخ کو یاد کر لیں پتہ چل جائے گا کہ ہر اہم سیاسی موڑ پر دونوں نے کیسے ایک دوسرے کو سہارا دے کر کھڑا رکھا۔

پی ڈی ایم کا پلیٹ فارم کیسے ایک کھٹارا گاڑی میں تبدیل ہو گیا۔ دھرنوں اور احتجاج کی دھمکیاں کیسے ریت کی دیوار کی طرح ڈھ گئیں۔ سینیٹ کے انتخابات میں کیا ہوا؟ اور آج کل ن لیگ کے ساتھ پیپلز پارٹی کی نوک جھونک سے کس کا فائدہ ہو رہا ہے؟ عمران خان کے لیے آصف علی زرداری جیسی اپوزیشن منتیں مانگ کر سامنے آتی ہے۔ اختلاف رکھنے والے ایسے ہوں تو دوستوں کی کیا ضرورت ہے۔ مگر یہ یکطرفہ معاملہ نہیں۔

مرکز نے بھی نباہ ٹھیک کیا ہے۔ دوستی کا حق ادا کیا ہے۔ کہاں پر فریال صاحبہ کو اسپتالوں سے نکال کر تحویل میں لیا جا رہا تھا اور کہاں وہ دوبارہ سے اپنے بھائی کے ساتھ تخت سندھ کی باگ ڈور پھر سے سنبھالے ہوئے ہیں۔آزاد کشمیر میں دوسرے نمبر پر آنا کوئی حادثاتی عمل نہیں تھا۔ ایک دوسرے کا خیال رکھنے کی پالیسی کا ہی نتیجہ تھا۔

کچھ سنکی مزاج پڑھنے والے یہ کہہ سکتے ہیں کہ کہ کورونا اور لاک ڈاؤن پر تلوار بازی کے مظاہرے بالآخر کیوں کیے جا رہے ہیں؟ یہ بے فائدہ توانائیوں کا ضیاع کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ ان کی خدمت میں عرض ہے کہ محلے میں سرکس کی آمد سے ہی ہر طرف ایک جوش و خروش اور خوشی کا سماں بندھ جاتا ہے۔ کوئی چھلانگیں لگاتے ہوئے بندروں یا لمبے جوتوں والے مسخروں کو دیکھے یا نہ دیکھے ہر گھر میں سرکس کے حوالے سے کوئی نہ کوئی بات ضرور ہو تی ہے۔

وہ وقت جو زندگی کے مسائل کو جلی کٹی سنانے میں صرف ہونا ہوتا ہے وہ سرکس کی خیالی دلچسپیوں سے بنی ہوئی خوش گپیوں میں استعمال ہونے لگتا ہے۔ محلے کے رہائشی سمجھتے ہیں کہ کچھ ہو رہا ہے۔ بھلے بندر اور مسخرے ہی کیوں نہ ناچ رہے ہوں۔ سیاسی تھیٹر کے فوائد اب ناقابل تردید شواہد کے ساتھ ہم دیکھ چکے ہیں۔ پہلا سال گھروں نوکریوں کی امید دلواتے ہوئے گزار دیا۔

دوسرا سال احتساب کے لچھے بنا کر بیچنے میں گزرا۔ تیسرا سال کورونا، معیشت کی بدحالی اور مبینہ خوشحالی کے ڈھول بجاتے ہوئے گزار دیا۔ چوتھے سال میں چھوٹے چھوٹے تماشے جیسے سندھ سے لڑائی اور کورونا کی نئی لہر کی دہائی وغیرہ میں گذر جائے گا۔

پانچواں سال انتخابات، ترقیاتی فنڈز اور خود کو تمغات حسن کارکردگی دیتے ہوئے نکال لیں گے۔ اس دوران جنرل قمر جاوید باجوہ کے 6 سال مکمل ہوں گے اور نیا آرمی چیف اپنی منزل پا لے گا۔ اس دور میں ملک کے ساتھ کیا ہوا؟ عوام نے کتنے عذاب دیکھے؟ بالکل ایسے ہی بھلا دیا جائے گا جیسے ٹوکیو اولمپکس میں 22 کروڑ ٹیلنٹڈ عوام کی کھیلوں میں 3پی ایچ ڈیز رکھنے والے وزیر اعظم کی سربراہی میں کاکردگی۔

اس کے بعد ایک نیا سرکس آئے گا اور ایسے ہی ماہ و سال کٹتے جائیں گے۔ سیاسی تھیٹر کی مجبوری یہ ہے کہ اس کو ہر روز کوئی نہ کوئی تماشہ کھڑا کرنا ہوتا ہے۔ اس وقت مرکز بمقابلہ سندھ والا آئٹم چل رہا ہے۔ مفت کا شو ہے ضرور دیکھئے مگر گھبرائیے نہیں۔ گھبرانے کا وقت ختم ہو چکا ہے۔ اب پچھتانے یا قبر میں جا کر سکون حاصل کرنے کی سوچیں۔ تب تک بس یہ یاد رکھیئے یہ ایک سرکس ہے اور کچھ نہیں اور جہاں تک رہی ن لیگ کی بات اس کے لئے شہباز شریف ہی کافی ہے۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.