چاند پر جانے کا خواب، جیف بیزوس ایک بار پھر میدان میں آگئے

چاند پر جانے کا خواب، جیف بیزوس ایک بار پھر میدان میں آگئے۔

ایمازون کے بانی جیف بیزوس نے چاند گاڑی بنانے کے معاہدے پر دوبارہ غور کرنے کے لئے امریکی خلائی ایجنسی ناسا  کو 2 بلین ڈالرز کے ڈسکاونٹ کی آفر کر دی ہے۔

اپریل 2021 میں خلائی ایجنسی نے  جیف بیزوس کی کمپنی بلیو اوریجن کی بولی کو مسترد کرتے ہوئے ایلون مسک کے ساتھ 2.9 بلین ڈالرز کا خلائی معاہدہ کیا تھا۔

خلائی جہاز بنانے کا کانٹریکٹ نہ ملنے کی صورت میں بلیو اوریجن اس فیصلے کو بدلنے کی بھرپور کوششوں میں ہے۔ اسی وجہ سے سینیٹ نے ہیومن لینڈر سسٹم کے لیے 10 ارب ڈالر شامل کرنے کے لیے بل منظور کیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق جیف بیزوس کی اس نئی پیش کش پر اگست کے شروع میں فیصلہ کیا جائے گا، جس کی تصدیق امریکی خلائی ایجنسی نے کی، لیکن اس کے بارے میں مزید معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔

تاہم اسپیس ایکس کے بانی ایلون مسک کی طرف سے بھی ابھی تک جیف بیزوس کو کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے۔

ناسا کے آرٹیمز پروگرام  کے تحت وہ 2024 تک دوبارہ چاند پر جانے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں، جس کے لیے یہ کمپنیاں اپنی مہارانہ صلاحیتوں اور جدید ٹیکنالوجی سے چاند گاڑی تخلیق کریں گی۔

1969 اور 1972 کے درمیان امریکی اپالو ہیومن لینڈنگ سسٹم پروگرام کے تحت لونر ماڈیول کے ذریعے 12 افراد کو چاند کی سطح پر لے جایا گیا تھا۔

جیف بیزوس نے یہ آفر اپنے خلائی سفر کے چھ روز بعد دی ہے، بیزوس کی خلا میں بڑھتی دلچسپی خلائی سیاحتی دنیا میں اس دنیا کے امیر ترین شخص کی انٹری جبکہ انہیں ایک بڑا کھلاڑی  قرار دجا رہا ہے۔

مون لینڈر بنانے کے لیے ناسا نے کانگریس سے 3.3 ارب ڈالر کی درخواست کی تھی، اس میں سے اسے اب تک صرف 85 کروڑ ڈالر ہی موصول ہوئے ہیں

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.