شہید ذوالفقار علی بھٹو یونیورسٹی آف لا کراچی میں طلبہ اور انتظامیہ کے مابین تنازعہ شدت اختیار کرگیا

شہید ذوالفقار علی بھٹو یونیورسٹی آف لا کراچی میں طلبہ اور انتظامیہ کے مابین جاری تنازعہ شدت اختیار کرگیا  ، طالبعلموں کی جانب سے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج جاری رکھا گیا جبکہ انتظامیہ نے طلبہ کے چھ میں سے تین مطالبات مانتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ جب تک طلبہ اپنےرویے پر معافی نہیں مانگتے یونیورسٹی انہیں معاف نہیں کرے گی ، یونیورسٹی کے طلبہ نے احتجاج کرنے پر سسپینڈ کئے گئے طالبعلموں کی بحالی کا  مطالبہ کیا اور عندیہ بھی دیا  کہ جب تک ان کے معطل شدہ ساتھیوں کو بحال نہیں کیا جاتا  تب تک ان کی یہ تحریک جاری رہے گی ۔ دوسری جانب ترجمان شہید ذوالفقار علی بھٹویونیورسٹی   آف لا  اخگر انوار اعوان نے اپنا موقف دیتے ہوئے کہا  کہ ایڈیشنل کورس طلبہ کے کہنے اور ان کا وقت بچانے کے لئے کرارہے ہیں ۔۔طالبعلوں  کو اگرکوئی اختلا ف ہے تو ٹیچرز سے بات کرسکتے ہیں لیکن اس طرح احتجاج کا راستہ اختیار کرنا درست نہیں ۔۔انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی چھوٹی اور نئی ہے ہم اس قسم کے مظاہرے افورڈ نہیں کر سکتے ۔۔ان کا کہنا تھا کہ تین دن پہلے انہوں نے دھرنا دیا ، ٹیچرز  ان کے پاس گئے تو ان سے بدتمیز ی کی جو نہیں ہونی چاہیے ۔۔ترجمان نے بتایا کہ ان کے چھ مطالبات  میں سے 3 مطالبات اسکالر شپ،جاوید عزیز سعودی ، مجتبی ملک کو ہٹانے اور جن سبجیکٹس میں فیل ہوئے ہیں ان کی فوری سپلی لینے کے مطالبےیونیورسٹی انتظامیہ کے لئے قابل قبول ہیں۔۔ابھی بھی انہوں نے اسٹاف کو یرغمال بنایا ہوا ہے اور نکلنے نہیں دے رہے ۔۔ان کا کہنا تھا کہ یہ طلبہ جب تک معافی نہیں مانگیں گے ان کے ساتھی بحال نہیں ہوں گے ۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.