ہمارے ملک کی سیاست کا ماضی، حال اور مستقبل سب ایک جیسا

تحریر : محمد عدنان ہاشمی

ہمارا ملک ہر لحاظ سے دلچسپ ہے، آئے روز ہر شعبے سے نت نئی خبریں سننے میں آتی ہیں اور پھر پرانی خبر کہیں غائب ہوجاتی ہے۔ بحریہ ٹاؤن کا مسئلہ چھایا ہوا تھا کہ اچانک فردوس عاشق اعوان نے قادر مندوخیل کو تھپڑ مار دیا۔ ابھی ہمارے میڈیا پر ’’اخلاق کیا ہوتا ہے‘‘ کا سبق پڑھایا ہی جارہا تھا کہ پھر اچانک قومی اسمبلی میں بجٹ اجلاس کے دوران اخلاق کے نچلے درجے کی حرکات کو پوری قوم نے ٹی وی اور سوشل میڈیا پر دیکھا۔ اور اب ایک بار پھر ٹی وی، اخبارات اور سوشل میڈیا پر ’’اخلاقی سبق‘‘ پڑھائے جارہے ہیں۔ اب اس کا ملبہ کوئی اٹھانے کو تیار نہیں، حکومت اور اپوزیشن ہنگامہ آرائی اور گالم گلوچ کے الزامات ایک دوسرے پر لگا رہے ہیں۔

ملک کے دیگر باسیوں کی طرح مجھے بھی سیاسی تلخی پسند نہیں۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن نے جب ایک دوسرے پر ’’ہلکا ہاتھ‘‘ رکھا تو تسلی ہوئی کہ اب پاکستان کی بھلائی کے لیئے ترقی پسند سیاست ہوگی، پھر پی ٹی آئی کی انٹری ہوتی ہے اور سیاسی منظر نامہ یک دم بدل جاتا ہے۔

ہمارے ملک کا المیہ یہ ہے کہ ہماری یاداشت کمزور ہوتی ہے، ہم بھول جاتے ہیں کہ ماضی میں کیا ہوا تھا۔ ٹھیک اسی طرز پر تحریک انصاف بھی چل رہی ہے۔ وہ غلطیاں دہرائی جارہی ہیں جو اس سے قبل مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی ایک دوسرے کے خلاف کر کے سبق حاصل کرچکے کہ اس سے دونوں پارٹیوں کا نقصان ہے اور فائدہ کوئی اور اٹھا رہا ہے۔

اب ایک بار پھر ملک میں سیاسی مخالفین کو دبانے کے لیئے وہی پرانے طریقے آزمائے جارہے ہیں۔ اس سلسلے میں پی ٹی آئی کو ضرور یہ اعزاز حاصل ہے کہ انہوں نے نت نئے طریقے متعارف کروا دیئے۔ مخالفین کو دبانے کی روایت کو ایک بار پھر زندہ کیا گیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ ایک بار پھر ہمارا ملک آئندہ کئی سالوں تک انتقام کی سیاست کا شکار رہے گا۔

قومی اسمبلی میں پیش آنے والے حالیہ واقعے سے قبل میری نظر سے شاہ محمود قریشی کا بیان گزرا، جس میں ان کا کہنا تھا کہ ’’یکطرفہ ٹریفک نہیں چلے گی، اگر اپوزيشن ہماری نہيں سنے گی تو ہم بھی ان کی نہيں سنيں گے۔ قائد ایوان کو بولنے کا حق نہيں ديا جائے گا تو پھر قائد حزب اختلاف کو بھی یہ حق نہیں مل سکتا‘‘۔ جس سے صاف ظاہر تھا کہ پی ٹی آئی کی شہباز شریف کو نہ بولنے دینے کا پہلے سے طے شدہ پلان تھا۔ بعض ذرائع کا دعویٰ ہے کہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں اس حوالے سے بات چیت کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں : فردوس عاشق اعوان کا جذباتی رویہ اور پارٹی کارکنان

عمران خان وزیر اعظم بننے کے بعد قومی اسمبلی میں اپنے پہلی تقریر کے دوران ہونے والی ہلڑ بازی کو تین سال گزر جانے کے بعد بھی نہیں بھولیں ہیں۔ اپنی اکثر تقاریر میں اس بات کا ذکر کرتے ہیں، تب ہی سے ان کا اپوزیشن پر غصہ برقرار ہے جو لگتا نہیں کے ختم ہوگا۔

اسمبلی میں بھی جس طرح وزراء ایک دوسرے سے بازی لیجانے کی کوشش کررہے تھے اس سے بھی صاف ظاہر تھا کہ احکامات کہاں سے آئے ہیں اور یہ کیوں ماحول کو تلخ سے تلخ کرنے کی کوشش رہے ہیں۔

پی ٹی آئی کے رہنماؤں کے بیانات اور حرکات میں خوش آمد کا تاثر صاف نظر آتا ہے، ہر کوئی ایک دوسرے سے بڑھ کر اپوزیشن پر تنقید کرنے کی کوشش کرتا ہے، اخلاقیات کے تمام دائروں کو توڑا جاتا ہے، تاکہ وزیر اعظم کی نظروں میں سرخرو ہو۔ دوسری طرف پی ٹی آئی میں وزیراعلیٰ پنجاب بننے کی دوڑ بھی لگی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ان دنوں شاہ محمود قریشی اور فواد چوہدری میں مقابلہ جاری ہے، شاید وزارتوں اور عہدوں کی چاہت ہی انہیں ان دائروں کو پھلانگنے کی ہمت دیتی ہے۔

وزیر اعظم اور پی ٹی آئی ارکان کی تقاریر کا موازنہ کریں تو وہ ایک جیسی ہی ہوتیں ہیں۔ اکثر تقاریر یا بیانات میں وہی الفاظ دہرائے جاتے ہیں اور پھر اپوزیشن سے کہا جاتا ہے کہ وزیراعظم کو سنیں۔ وزیراعظم جس توہین آمیز لہجے کو اختیار کرکے اپوزیشن رہنماؤں کی موجودگی میں تقاریر کرتے ہیں، ظاہر ہے کہ کوئی بھی رہنماء ایسی بے عزتی برداشت کرنے کی ہمت نہیں رکھتا ہوگا۔

قومی اسمبلی میں ہونے والی ہنگامہ آرائی یا گالم گلوچ کا منفی اثر شاید پی ٹی آئی پر نہ ہو، کیوں کہ نہ تو وہ اپنے اس عمل کو غلط سمجھتے ہیں، بلکہ ان کے چاہنے والے بھی اس عمل کی بھرپور پذیرائی کرتے نظر آرہے ہیں۔

جب بھی حکمران جماعت میں سے کسی کی غلطی ہوتی ہے تو پی ٹی آئی کے ورکر اور ہمدرد اینکر پچھلے دور کی ویڈیوز اور بیانات کا تذکرہ کرنا شروع کردیتے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ اس سے قبل ایک جماعت ایسا کرچکی ہے۔ حکمراں جماعت کے یہ بیانات خود ان کے نیا پاکستان والے بیانیے کی مخالفت ہے۔ اگر آپ کو ووٹ دیا گیا ہے کہ تو اس کا مطلب ہے کہ عوام وہ پرانی سیاست یا حکمراں نہیں چاہتے، تو حکومت کو پھر اپنے رویے پر نظر ثانی کرنی ہوگی۔

برائی کا دفاع کسی برائی سے نہیں کیا جاسکتا ہے۔ اگر پچھلی حکومتیں غلط تھیں تو آپ کو ٹھیک بن کر دکھانا ہوگا۔ اگر پچھلی حکومتوں میں عدلیہ پر حملے ہوئے تو آپ کو بھی جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس پر ریفرنس بھیجنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر پچھلی حکومتوں میں میڈیا زیادہ پابند تھا اور اب آزاد ہے تو پھر آپ کی حکومت میں بھی کسی ابصار عالم کو گولی، مطیع اللہ جان کو اغواء، اسد طور کی پٹائی، عاصمہ شیرازی اور حامد میر کو غدار نہ کہا جائے۔ اگر پچھلی حکومتیں کرپٹ اور نااہل تھیں تو آپ کی حکومت میں بھی رنگ روڈ اسکینڈل، سلائی مشین معاملہ، بنی گالہ اراضی معاملہ، بہنوئی کے پلاٹ پر قبضہ چھڑانے کے لیئے آئی جی کی تبدیلی، وزارت صحت میں کرپشن، بی آر ٹی، چینی اسکینڈل، آٹا اسکینڈل سامنے نہیں آنا چاہیے۔

میں نے اپنی یادداشت میں جنرل پرویز مشرف جیسا طاقتور نہیں دیکھا، آج بھی ان کے 12 مئی کے واقعے پر مکے لہرانا سب کو یاد ہے۔ اب وہ سیاسی منظر نامے سے غائب ہیں اور ان کی ہاں میں ہاں ملانے، واہ واہ کرنے، اپوزیشن کو گالیاں دینے والے آپ کے ساتھ ہیں۔ کل کوئی اور پرویز مشرف یا عمران خان ہوگا اور پھر یہ لوگ ان کے ساتھ ہوں گے، ایسا نہ ہو کہ آپ اکیلے رہ جائیں اور آپ کو بھی ملک چھوڑ کر جانا پڑے۔ طاقت کبھی کسی کے پاس بھی ہمیشہ نہیں رہتی، ان کے پیچھے تو مضبوط قوتیں تھیں، کل آپ کے ساتھ کون ہوگا؟

کاش پاکستان کی سیاست کا ماضی، حال اور مستقبل سب ایک جیسا نہ ہوتا۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر : محمد عدنان ہاشمی

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.