فردوس عاشق اعوان کا جذباتی رویہ اور پارٹی کارکنان

  تحریر : محمد عدنان ہاشمی

وزیر اعلیٰ پنجاب کی معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان نے کل جو عمل کیا وہ انسانی معاشرے میں کسی بھی طرح قبول نہیں کیا جاسکتا ہے، لیکن ایسا پہلی بار نہیں ہوا۔ اس سے قبل ڈہرکی ٹرین حادثے پر ان کا متنازعہ بیان اور اسسٹنٹ کمشنر سونیا خان کے ساتھ ان کی ’’بات چیت‘‘ اخبارات، ٹی وی اور سوشل میڈیا کی زینت بنی۔

فردوس عاشق اعوان تقریباً روزانہ ہی اپنے دفتر سے جاری بیان میں مخالفین پر کئی قدم آگے جاکر تنقید کرتی نظر آتی ہیں، اس کے ساتھ ساتھ دن میں ایک سے زیادہ مرتبہ بھی اگر میڈیا سے بات ہو، تو اس وقت بھی ان کا لہجہ انتہائی تلخ ہوتا ہے، لیکن اگر مخالفین سے جواب آئے تو اسے برداشت نہیں کرتیں۔

فردوس عاشق اعوان مسلم لیگ ن پنجاب کی ترجمان عظمیٰ بخاری کے ساتھ بھی پروگرام ختم ہونے کے بعد لڑ چکی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کے ماضی کے متنازع بیانات کا ذکر کرنا شروع کروں تو کئی صفحات بھر سکتے ہیں۔

فردوس عاشق اعوان پر بھی کرپشن کے کئی الزامات ہیں، کہا جاتا ہے کہ پیپلز پارٹی دور میں انہوں نے اپنی وزارت چھوڑی تو اپنے ساتھ سرکاری کراکری کا سامان بھی ساتھ لے گئیں۔ یاد رہے کہ اس الزام کا ثابت ہونا باقی ہے۔

 یہ بھی پڑھیں : ہم سب انتہا پسندی کے کسی نہ کسی درجے پر فائز ہیں

مگر مجھے حیرت ہوئی کہ قادر مندوخیل کے ساتھ ہونے والے واقعے پر پی ٹی آئی کارکنان یا پھر ہم خیالوں نے فردوس عاشق اعوان کے اس رویے پر انتہائی خوشی کا اظہار کیا، مختلف قسم کی میمز بننے کا سلسلہ بھی شروع ہوچکا ہے۔

میرے ایک عزیز جو پی ٹی آئی کے ووٹر بھی ہیں، جب ان سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے ہنستے ہوئے کہا کہ ’’فردوس عاشق نے کیسا کمال کیا‘‘، یعنی وہ انتہائی فخر سے اس واقعے کو بیان کررہے تھے۔ ایک واٹس ایپ گروپ میں پڑھنے کو ملا کہ ’’ان کے ساتھ ایسا ہی ہونا چاہیے‘‘۔

اس بات سے اندازہ لگائیں کہ ہماری نوجوان نسل یا پھر ایک جماعت نے اپنے کارکنان کی تربیت کس طرح کی ہے کہ کارکنان یا ہم خیال اپنے مخالفین کے ساتھ ہونے والے برے سلوک پر خوشی کا اظہار کرتے ہوں۔

اور زیادہ دکھ اس بات کا ہوتا ہے کہ لوگ فردوس عاشق اعوان کے اس عمل کو پسند نہیں کرتے مگر پھر بھی خاموش ہوتے ہیں، سوشل میڈیا پر اس جماعت کی جانب سے چلائے گئے ٹوئٹر ٹرینڈ کا استعمال کرکے ان کی تربیت کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔

مخالفین ایک دوسرے کو تنقید کا نشانہ بنانے چاہتیں ہیں تو ضرور بنائیں مگر اپنے اوپر ہونے والی تنقید کو برداشت کرنا بھی سیکھیں۔ سیاسی جماعتوں کو اپنے کارکنان کی تربیت اچھے انداز میں کرنی چاہیے کیونکہ اگر ایسا نہیں کیا تو کل انہیں بھی اسی قسم کے حالات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔بلکل اسی طرح جیسا انہیں تحریک لبیک کے دھرنے کی صورت میں سامنا کرنا پڑا۔

انہوں نے پروگرام کے دوران ہونے والے واقعے پر سماجی میڈیا کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری اپنے وضاحتی بیان میں سنگین الزامات لگاتے ہوئے قادر مندوخیل کے خلاف قانونی کارروائی کا اعلان بھی کیا۔

تحریر : محمد عدنان ہاشمی

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.