رواں سال کاجزوی سورج گرہن

تحریر:ماریہ اسماعیل

گذشتہ ماہ 26مئی کوہم سپرمون چاندگرہن کے بارے میں بتایاتھااب 10جون کوہونے والاسورج گرہن کے بارے میں کچھ بتائیں گے۔

سال دوہزار اکيس کے دوران چاند اور سورج دو دو مرتبہ گہنائیں گے۔محکمہ موسمیات کے مطابق سن 2021 کا پہلا چاند گرہن 26 مئی ہوگیا جبکہ دوسرا 19 نومبر کو ہوگا۔رواں سال میں سورج کو گرہن بھی دو مرتبہ لگے گا۔ پہلا سورج گرہن 10 جون جبکہ دوسرا 4 دسمبر کو ہوگا۔چاندگرہن اسلامی شروع کی تاریخوں کواورسورج گرہن آخری تاریغ کوہوتاہے۔اس میں سے دس سے پندرہ دن کاٹائم ہوتاہے۔محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ ان میں سے کوئی بھی گرہن پاکستان میں نظر نہیں آئے گا۔رواں  سال  کا پہلا سورج گرہن  10 جون بروزجمعرات 29شوال  کو ہوگا۔سورج گرہن پاکستان میں دکھائی نہیں دے گا۔ لیکن مختلف ممالک میں اس کا نظارہ کیا جا سکے گا۔پاکستانی وقت کے مطابق  سورج گرہن کا آغاز  دن ایک بج کر 12منٹ پر ہوگا۔۔۔مکمل سورج کوگرہن 3بج کر 41منٹ پر لگے گا۔  جبکہ  گرہن کا اختتام پاکستانی وقت کے مطابق  شام 4بج کر 33منٹ پر ہوگا۔۔۔اس سورج گرہن کا دورانیہ تقریباً 3گھنٹے سے زائد ہے۔۔۔سورج کو گرہن  روس، گرین لینڈ،شمالی کینیڈا شمالی ایشیا یورپ اور امریکہ میں لگے گا اور اس دوران سورج کے گرد اگ کی انگوٹھی جیسا دائرہ  ان ممالک میں واضح دیکھائی دے گا۔

سورج گرہن اس وقت لگتا ہے جب چاند دورانِ گردش زمین اور سورج کے درمیان آ جاتا ہے، جس کی وجہ سے سورج کا مکمل یا کچھ حصہ دکھائی دینا بند ہو جاتا ہے۔ اس صورت میں چاند کا سایہ زمین پر پڑتا ہے۔ چونکہ زمین سے سورج کا فاصلہ زمین کے چاند سے فاصلے سے 400 گنا زیادہ ہے اور سورج کا محیط بھی چاند کے محیط سے 400 گنا زیادہ ہے، اس لیے گرہن کے موقع پر چاند سورج کو مکمل یا کافی حد تک زمین والوں کی نظروں سے چھپا لیتا ہے۔ سورج گرہن ہر وقت ہر علاقے میں نہیں دیکھا جا سکتا، اس لیے سائنسدانوں سمیت بعض لوگ سورج گرہن کا مشاہدہ کرنے کے لیے دور دراز سے سفر طے کرکے گرہن زدہ خطے میں جاتے ہیں۔ مکمل سورج گرہن ایک علاقے میں تقریباً 370 سال بعد دوبارہ آ سکتا ہے اور زیادہ سے زیادہ سات منٹ چالیس سیکنڈ تک برقرار رہتا ہے۔ البتہ جزوی سورج گرہن کو سال میں کئی دفعہ دیکھا جا سکتا ہے۔

سورج گرہن یورپ میں دیکھا گیا 1999ء کا مکمل سورج گرہن تاریخ میں سب سے زیادہ دیکھا جانے والا سورج گرہن تھا۔

سورج گرہن کئی قسم کا ہو سکتا ہے:

مکمل سورج گرہن

حلقی سورج گرہن

مخلوط سورج گرہن

جزوی سورج گرہن

جب بھی زمین کے کسی خطے میں مکمل سورج گرہن لگتا ہے تو اس کے گردونواح میں چاروں طرف جزوی گرہن ہوتا ہے۔

مکمل سورج گرہن اس وقت لگتا ہے جب چاند کا فاصلہ زمین سے اتنا کم ہو کہ جب وہ سورج کے سامنے آئے تو سورج مکمل طور پر چاند کے پیچھے چھپ جائے۔ چونکہ چاند اور زمین کے مدار بیضوی ہیں اس لیے چاند کا زمین سے فاصلہ بدلتا رہتا ہے۔ اس لیے ہر دفعہ مکمل سورج گرہن نہیں لگتا۔ مکمل سورج گرہن کے وقت چاند کا فاصلہ زمین سے نسبتاً کم ہوتا ہے۔ اس میں سورج کے مکمل چھپ جانے کی وجہ سے نیم اندھیرا ہو جاتا ہے اور دن کے وقت ستارے نظر آنا شروع ہو جاتے ہیں۔ تاہم یہ زیادہ سے زیادہ ایک مقام پر سات منٹ چالیس سیکنڈ کے لیے ہو سکتا ہے۔ مگر دورانیہ اکثر اس سے کہیں کم ہوتا ہے۔ 3000 قبل مسیح سے 5000 عیسوی تک کے 8 ہزار سالہ عرصہ کا سب سے لمبا مکمل سورج گرہن 16جولائی 2186 عیسوی کو لگے گا جو سات منٹ اور انتیس سیکنڈ کا ہوگا۔ مکمل سورج گرہن زمین پر بہت چھوٹے علاقے میں نظر آتا ہے اور ایک ہی مقام پر دوبارہ 370 سال بعد ہی نظر آ سکتا ہے۔

ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ مکمل سورج گرہن ہمیشہ نہیں ہوتے  کیونکہ اس کے لیے ضروری ہے کہ چاند کا فاصلہ زمین سے نسبتاً کم ہو تاکہ وہ سورج کی ٹکی کو مکمل طور پر چھپا سکے۔ افزائش مدوجزری کی وجہ سے چاند ھر سال 3.8 سنٹی میٹر زمین سے دور ہو جاتا ہے۔ ساٹھ کروڑ سال کے بعد چاند کا کم ترین فاصلہ زمین سے اتنا بڑھ جائے گا کہ کبھی مکمل سورج گرہن نہیں لگے گا۔ اس کے ساتھ یہ بات بھی یاد رہے کہ اتنے سال بعدسائنسدانوں کے مطابق سورج کا حجم بھی کچھ بڑھ چکا ہوگا۔ یوں مکمل سورج گرہن پھر کبھی نہیں ہو سکے گا۔

حلقی سورج گرہن

حلقی(Annular) سورج گرہن اس وقت ہوتا ہے جب چاند سورج اور زمین کے درمیان میں آ جائے مگر اس کا فاصلہ زمین سے مکمل سورج گرہن سے نسبتاً زیادہ ہو۔ اس سے چاند کی جسامت زمین سے کم محسوس ہوگی اور وہ سورج کو مکمل طور پر چھپا نہیں سکتا۔ اس وقت اگر چاند سورج کے بالکل درمیان میں نظر آئے تو اس کا سایہ زمین پر پڑتا ہے اور ہمیں سورج کاصرف وہ حصہ نظر آئے گا جسے چاند نہیں چھپا رہا اور اس کی شکل ایک حلقہ کی طرح ہوگی۔ یوں سمجھئیے کہ روشنی کا ایک حلقہ نظر آئے گا جو بعض اوقات باریک ہوتا ہے ۔ سورج گرہن حلقی ہوگا یا مکمل، اس کا انحصار کئی عوامل پر ہے۔ مثلاً چاند کا زمین سے فاصلہ۔ چاند کا زمین سے فاصلہ افزائش مدوجزری کی وجہ سے وقت کے ساتھ ساتھ بڑھ رہا ہے جس سے ایک وقت کے بعد مکمل سورج گرہن نظر نہیں آ سکے گا۔ مگر حلقی سورج گرہن کا امکان کچھ زیادہ عرصہ تک رہے گا۔حلقی سورج گرہن میں چاند سورج کے آگے سے گذرتا ہوا۔یہ صرف چاند کے زمین سے فاصلہ پر منحصر نہیں بلکہ زمین سے سورج کے فاصلے پر بھی منحصر ہے۔ جولائی میں جب زمین سورج کے گرد اپنے بیضوی مدار میں جنوری کی نسبت دور ہوتا ہے تو سورج کی جسامت زمین پر کم نظر آتی ہے چنانچہ مکمل سورج گرہن کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ اسی طرح جنوری میں جب زمین اپنے مدار میں سورج کے قریب ترین فاصلہ پر ہوتا ہے تو سورج نسبتا بڑا نظر آتا ہے اور چاند کے لیے اسے مکمل طور پر چھپانا مشکل ہوتا ہے چنانچہ حلقی سورج گرہن کا امکان زیادہ ہوگا۔ حلقی، مخلوط اور مکمل گرہنوں کو مرکزی گرہن بھی کہا جاتا ہے۔ کیونکہ چاند تقریباً سورج کے بالکل درمیان آجاتا ہے۔ مرکزی گرہنوں میں سے ساٹھ فی صد کے قریب حلقی ہوتے ہیں۔ حلقی سورج گرہن مخلوط قسم کا بھی ہو سکتا ہے۔ یعنی کہیں حلقی نظر آئے تو زمین کے کسی حصے پر مکمل بھی نظر آ رہا ہو۔

مخلوط سورج گرہن

بعض اوقات سورج گرہن اس طرح لگتا ہے کہ دنیا کے بعض حصوں میں مکمل سورج گرہن نظر آتا ہے اور بعض حصوں میں حلقی۔ اسے مخلوط سورج گرہن(Hybrid Solar Eclipse) کہتے ہیں جو مرکزی سورج گرہن کی ایک اور قسم ہے۔ اس صورت میں حلقی سورج گرہن کا حلقہ بہت باریک ہوگا۔ مخلوط قسم کے سورج گرہن بہت کم ہوتے ہیں۔

جزوی سورج گرہن

جزوی سورج گرہن ایسی صورت حال کو کہتے ہیں جب دورانِ گرہن چاند سورج کے بالکل درمیان میں نہ نظر آئے بلکہ صفر جزوی طور پر سورج کو زمین والوں کی نظروں سے چھپا رہا ہو۔ یہ ممکن ہے کہ زمین کے ایک مختصر حصے پر تو مرکزی سورج گرہن ہو مگر ایک بڑے حصے پر جزوی گرہن نظر آئے ۔ یہ بھی ممکن ہے کہ دورانِ گرہن کہیں بھی مرکزی گرہن نظر نہ آئے اور گرہن صرف جزوی ہو۔ زیادہ تر گرہن جزوی ہوتے ہیِں۔ جزوی سورج گرہن کو ننگی آنکھ سے دیکھنا خطرناک ہوتا ہے۔ اس سے بصارت کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اس کے لیے فلٹراستعمال کرنا چاہیے۔ صرف دھوپ کے چشمے کافی نہیں کیونکہ ان سے روشنی سے تو بچت ہوگی مگر زیریں سرخ شعائیں نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ جزوی سورج گرہن کے دوران مکمل اندھیرا نہیں ہوتا

چاند زمین کے اور زمین سورج کے گرد گردش کررہی ہے اور چاند زمین کے گرد اپنے مدار میں اسی مقام پر تقریبا 29 دنوں میں واپس آجاتا ہے، یوں کہہ لیجیے کہ چاند ہر ماہ سورج اور زمین کے درمیان سے گزرتا ہے لیکن یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ایسا ہے تو پھر تو سال میں 12 یا 13 سورج اور چاند گرہن ہونے چاہئیں۔ کیونکہ چاند زمین کے گرد ایک سال میں 12 یا 13 چکر لگاتا ہے لیکن ایسا نہیں ہوتا۔اس سوال کا جواب چاند کے مداری جھکاؤ (جسے فلکیاتی اصطلاح میں "اربیٹل اِنکلینیشن” بھی کہا جاتا ہے) میں ہے۔ قمری مدار زمین کے مدار کی سیدھ میں نہیں بلکہ تقریبا5 ڈگری جھکا ہوا ہے جس کی وجہ سے چاند کا مدار زمینی مدار کو صرف ‘دو’ مقامات پر ہی کاٹتا ہے جنہیں فلکیاتی اصطلاح میں "نوڈز” یعنی "مقام انقطع” کہتے ہیں، اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر چاند اپنی ابتدائی منازل میں یا مکمل چاند کی حالت میں ہونے کے ساتھ ساتھ ان مقامات پر یا ان کے قریب ہوگا تو اس وقت سورج، چاند اور زمین کے ایک سیدھ میں ہونے کی وجہ سے عین ممکن ہے کہ سورج گرہن یا چاند گرہن وقوع پذیر ہو لیکن ذرا ٹھہریے کیونکہ یہ مدار اتنا سادہ نہیں!

کائنات میں ہر چیز منظم تو ضرور ہے لیکن اگر اس کائنات کو باریکی سے دیکھا جائے تو ہر طرف بےترتیبی دیکھنے کو ملے گی جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ کائنات میں کسی بھی سیارے، ستارے یا چاند کا مدار مکمل دائرہ نہیں ہوتا بلکہ بیضوی شکل (یعنی انڈے کی شکل) کا ہوتا ہے، اسی وجہ سے اگر دوربین سے چاند کا مشاہدہ کیا جائے تو ہمیں اس بات کا ادراک ہوتا ہے کہ چاند اپنی چکر میں زمین سے دور یا قریب ہوتا رہتا ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ ضروری نہیں کہ جب سورج یا چاند گرہن ہو تو چاند زمین سے ٹھیک 3 لاکھ 80 ہزار کلومیٹر کے فاصلے پر ہو بلکہ چاند اگر گرہن کے وقت زمین سے دور ہوگا تو سورج کو مکمل ڈھانپ نہیں پائے گا، یہی وجہ ہے کہ ہمیں سورج گرہن کی مختلف اقسام دیکھنے کو ملتی ہیں۔

اکثر لوگوں کا جو سائنسی علم سے مکمل طور پر ناآشنا ہیں ان کا کہنا ہے کہ گرہن کے وقت سورج سے کچھ خاص طرح کی شعاعیں نکلتی ہیں جو انسانوں پر اثرانداز ہوکر بہت سے حادثات کا سبب بنتی ہیں، لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ ان لوگوں نے جدید سائنس کے اس دور میں رہتے ہوئے بھی ان شعاعوں کا نام نہیں بتایا۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسی کوئی شعاعیں موجود نہیں جو انسانوں پر اثرانداز ہوں بلکہ سائنسدان اور آنکھوں کے ماہرین گرہن کو برہنہ آنکھ سے دیکھنے سے اس لئے منع کرتے ہیں کیوں گرہن کے وقت جب چاند سورج کو مکمل ڈھانپ لیتا ہے تو اس وقت سورج کی روشنی مدھم ہوجاتی ہے لیکن جیسے ہی چاند سورج کے سامنے سے ہٹنے لگتا ہے تو سورج کی تیز روشنی آنکھوں میں اچانک پڑنے سے آنکھوں کا پردہ یعنی ریٹنا جل سکتا ہے جس سے آپ کی بینائی ہمیشہ کے لیے جاسکتی ہے وہ بھی بنا تکلیف کے (کیونکہ ریٹنا میں درد محسوس کرنے والے خلیے موجود نہیں ہوتے)۔

اگر آپ یہ سوچ رہے ہیں کہ کیا صرف گرہن کے وقت ہی یہ تیز روشنی نکلتی ہے؟ تو ایسا ہرگز نہیں ہے، سورج کو کبھی بھی برہنہ آنکھ سے نہیں دیکھنا چاہے اور اگر آپ سورج گرہن کا لطف اٹھانا چاہتے ہیں تو ایکس رے کا پیپر یا عام سن گلاسز استعمال کرنے کے بجائے صرف سرٹیفائیڈ شمسی عینکوں یا13 اور 14 نمبر ویلڈنگ گلاس کا استعمال کریں۔یہ بات بھی اکثر کہی جاتی ہے کہ حاملہ عورت کو اگر سورج یا چاند گرہن کے وقت لوہے کی کسی بھی تیز چیز، جس میں کینچی، چھری، وغیرہ شامل ہیں کا استعمال کرے تو پیدا ہونے والا بچہ معذور پیدا ہوگا، اس بات میں رتی بھر بھی حقیقت نہیں ہے۔اس چیز کو غلط ثابت کرنے کے لیے کبھی کسی عام انسان نے تجربہ بھی نہیں کیا کیونکہ ہر کسی کو اپنے بچے پیارے ہوتے ہیں ۔لیکن سائنسدانوں نے یہ سب تجربات جانوروں سے لے کر انسانوں تک کیے ہوئے ہیں، معذور بچے کا پیدا ہونا صرف ایک اتفاق یا کسی اور جینیاتی بیماری کا نتیجہ ہو سکتا ہے جو کہ ماں کو حمل کی حالت میں ساسوں/ماؤں کی جانب سے شدید گھبراہٹ کا شکار کرنے کے نتیجے میں ‘ہارمونز کا توازن’ خراب ہونے سے ہوسکتا ہے لیکن ایک فلکیاتی عمل کا انسانی زندگی سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

اگر اسلام پوائنٹ سے دیکھا جائے اس کی نحوست کوختم کرنے دورکوع نوافل نمازکسوف  پڑھنے کوکہاگیاہے۔

سورج یا چاند گرہن کے بارے میں خوف و ہراس پھیلانے والوں کی باتوں پر کان نہ دھریں بلکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم خود اور اپنے بچوں کو بھی گھر میں سورج گرہن پروجیکٹر یا پھر دوربین (فلٹر کے ساتھ) کے ذریعے سورج اور چاند گرہن دکھانے کی کوشش کریں،کیونکہ جب تک پاکستان میں علم عام نہیں ہوگا، نجومی اور غیر سائنسی لوگ اسی طرح کی باتیں عوام میں پھیلاتے رہیں گے۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.