ہم سب  انتہا پسندی کے کسی نہ کسی درجے پر فائز ہیں

تحریر: محمد علی حسن

معاشرہ افراد سے تشکیل پاتا ہے ، یعنی بہت سارے افراد یعنی بہت سارے ذہن اور بہت ساری شخصیات  معاشرہ کہلاتا ہے۔ ہمارا پاکستانی معاشرہ بھی مختلف فکر یں رکھنے والے لوگوں کا مجموعہ ہے ۔ کڑوڑوں لوگوں پرمحیط پاکستانی معاشرہ بڑا ہی کوئی مختلف معاشرہ ہے۔ پاکستانی معاشرہ گزشتہ کئی سالوں سے عدم برداشت کا شکار ہے اور یہ رویہ مختلف موقعوں پر نظر آتا ہےاور یہ ہی عدم برداشت ہم میں انتہا پسندی کی سوچ پیدا کرتی ہے۔

ہمارے معاشرے میں انتہا پسندی راسخ ہوچکی ہے۔ انتہا پسند یعنی عدم برداشت یعنی میں صحیح اور آپ غلط۔ انتہا پسندی کی آسان تعریف یہ ہے کہ غیر مہذب وغیر اخلاقی زبان یا رویے سے اظہار کرنایا  پھر قدم اٹھانا۔انتہا پسندسوچ اب ہر مکتبہ فکر، ہر جنس ، ہر طبقہ زندگی سے تعلق رکھنے والوں میں جابجا نظر آتی ہے۔ کوئی بات سمجھ نہ آئے تو ہم اختلاف نہیں کرتے بلکہ بد تمیزی ،بد تہذیبی کرتے ہیں۔ کسی کا موقف ہم سے مختلف ہو تو وہ ہمارے لئے ناقابل برداشت ہوجاتا ہے ۔ ہم اختلاف برائے اختلاف پر یقین رکھتے ہیں نہ کہ اختلاف برائے تعمیر پہ۔

انتہاپسند سوچ اور اظہار ہمارا اجتماعی رویہ بن چکا ہے۔یہ رویہ چند ایک کو چھوڑ کر اکثریت نے اپنا لیاہے۔ مذہبی معاملات ہو یا پھر سماجی، علمی معاملات ہو یا سیاسی یہ انتہا پسندی کا رویہ  ہرسو نظر آتا ہے۔ انتہا پسند سوچ ہونے کی بہت سی وجوہات ہیں جیسے تربیت کا فقدان ، علم کی کمی اور تحقیق سے دوری وغیرہ۔ تربیت کا فقدان نہ ہو تو انسان کی شخصیت تتر بتر ہوجاتی ہے اور وہ بنیادی تہذیب اور ادب سے نا بلد رہتا ہے۔ تحقیق سے دوری یعنی جو سنا اسے ہی سچ مانا اور خود کھوج نہ کرنا بھی  انتہا پسندی پیدا کرتی ہے۔

انتہاپسندی دراصل غیر اخلاقی رویہ اور اظہار ہے۔ یہ دراصل تنقید برائے تنقید ہے، یہ دراصل میں صحیح اور دوسرا غلط ہے، دراصل غیر مہذب زبان ہے،یہ دراصل غیر اخلاقی برتاؤ ہے،یہ دراصل بزور طاقت اپنی بات منوانا ہے،یہ دراصل اسلحہ سے اپنی بات منوانا ہے،یہ دراصل دوسرے فرقے کو کافر قرار دینا ہے،یہ دراصل دوسرے مذاہب پر کیچڑ اچھالنا ہے۔

انتہا پسندی کا رویہ ہمارے اندر رچ بس گیاہے۔ انتہاپسند رویے کسی بھی معاشرے کے لئے زہر قاتل ہوتا ہے اور وہ معاشرے سے برداشت ختم کردیتا ہے اور معاشرے میں فکری افلاس پیدا کرتا ہے جس کے باعث معاشرہ علمی اور سماجی طور پر بانجھ ہوجاتا ہے۔اس طرح کے معاشرے میں علمی بحثیں کم ہوجاتی ہیں اور الجھن اور جذبات بڑھ جاتے ہیں۔

ہم ہراس چیز کے لئے انتہا پسندانہ رویہ اختیار کرتے ہیں جو ہمارےشعورمیں نہیں آتا یا پھر ہمارے عقیدے سے متصادم ہوتا ہے۔معاشرے میں اگر ترقی کرنی ہے تو انتہا پسند فکر سوچ کو ختم کرنا ہوگا جس کے لئے طویل المعیاد پلان درکار ہے جس میں علم اور تربیت پر زور دیا جائے کیونکہ اگر اس فکر پہ توجہ نہیں دی گئی توملک یا کوئی بھی معاشرہ ترقی کی راہوں پر گامزن نہیں ہوسکتا ہے۔

بلاگر ایک صحافی اور کالم نگار ہیں۔ آپ سے ٹویٹر آئی ڈی پر @abidiviews پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.