بحریہ انتظامیہ بوکھلاہٹ کا شکار ہے: انڈیجنس رائٹس الائنس

کل چھ جون کو جو کچھ ہوا وہ کسی ڈھکا چھپا نہیں ـ بحریہ ٹاؤن کی قبضہ گیریت اور سندھ کے زمینوں پر غیر قانونی ہاؤسنگ پراجیکٹس کے خلاف سندھ ایکشن کمیٹی کے اعلان پر پورے سندھ کے عوام نے یکجا ہو کران کے خلاف اپنا فیصلہ دے دیا کہ تمام اسرائیل نما بستیاں سندھ کے عوام کو نامنظور ہیں ـ دھرنے میں اتنی بڑی تعداد میں لوگ دیکھ کر بحریہ ٹاؤن اور اس کے سرپرست بوکھلاہٹ کا شکار ہوئے اور اسی بوکھلاہٹ میں شرپسند عناصر بھیج کر دھرنے کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی، جب جلسہ جاری تھا تو اسٹیج سے بار بار ان شرپسندوں کے طرف اشارہ کیا جاتا جارہا ۔۔کہ یہ ہمارے ساتھ نہیں انہیں گرفتار کر لو ـ مگر نہ پولیس اور نہ ہی بحریہ کے گارڈز نے انہیں روکنے کی کوشش کی ـ حالانکہ یہ وہی پولیس اور بحریہ کے گارڈز تھے جنہوں ایک مہینے پہلے مقامی لوگوں کی زمینوں پر قبضہ کرنے کے لیئے نہ صرف مقامی خواتین پر تشدد کیا بلکہ فائرنگ بھی کرتے رہے ـ اور کل ان کا یوں خاموش رہنا اس بات کی دلیل ہے کہ یہ جلاؤ گھیراؤ ایک خاص منصوبے کے تحت کیا گیا، یہ منصوبہ موجود دھرنے اور مقامی لوگوں کی جہدوجہد کو کاؤنٹر کرنے کے لیے گیا ـ دھرنے کے بعد بحریہ ٹاؤن کی انتظامیہ نےخود کو مظلوم بنا کر پیش کرنا شروع کیا اور تین ایف آئی آر بھی کٹوادیں ۔۔ جن میں ایس ٹی پی کے سربراہ قادر مگسی، ایس یو پی کے سربراھ جلال محمود شاہ، جسقم کے چیئرمین صنعان قریشی، قومی عوامی تحریک کے سربراھ ایاز لطیف پلیجو،مشتاق سرکی، سندھ انڈیجینئس رائیٹس الائینس کے خالق جونیجو سمیت گل حسن کلمتی، جھانزیب کلمتی کے نام دیئے گئے ہیں ـ ان کے ساتھ ان زمینوں کے مالکان کے نام بھی دیئے گئے جن کی زمینوں پر پچھلے مہینے بحریہ ٹاؤن نے قبضہ کرنے کی کوشش کی جس کے بعد مزاحمت پر یہ چھ جون کا دھرنے کا فیصلہ سندھ ایکشن کمیٹی کیا ـ جیسے ہی تھوڑ پھوڑ کا عمل شروع ہوا گل حسن کلمتی، خالق جونیجو، جھانزیب کلمتی دھرنے سے اٹھ کر چلے گئے ـ ایف آئی آر میں ان کو نامزد کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ بحریہ ٹاؤن سندھ انڈیجینئس رائیٹس الائینس کے تحریک سے خوفزدہ ہے اور انہیں اس طرح جھوٹے ایف آئی آر میں نامزد کر کے جھکانا چاہتی ہے ـ انہی ایف آئی آر میں جن مقامی لوگوں کے نام دیئے گئے ہیں وہ اس دھرنے میں شامل ہی نہیں تھے اور جو شامل تھے انہیں اس تھوڑ پھوڑ سے پہلے ہی وہاں سے جانے کو گیا تھا اور وہ چلے گئے تھے ـ جن مظلوم زمین کے مالکوں کو نامزد کیا گیا ہے ان میں جان شیر جوکھیہ وہ ہیں جن پر پچھلے مہینے بحریہ ٹاؤن کی انتظامیہ نے تشدد کیا تھا جان شیر کا جرم یہ تھا کہ اس نے اپنی زمین پر بحریہ ٹاؤن کے انتظامیہ کو کام کرنے سے روکا جب اس نے مزاحمت کی تو اس پر تشدد کیا گیا ـ شعور بیدار کرنے والی بہادر بہن کے بھائی کزن اور رشتہ دار آج کے اس ایف آئی آر میں نامزد کر دیئے گئے جن میں  منور، اورنگ زیب، علی حسن جوکھیہ اور اکرم جوکھیہ شامل ہیں ـ ان کا قصور صرف یہ ہے کہ یہ بحریہ ٹاؤن کو اپنی زمینیں نہیں دینا چاہتے ـ یہ ہیں وہ حقائق جن کی بنیاد پر یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ کل جو تھوڑ پھوڑ ہوئی ہے جو جلاؤ گھیراؤ کیا گیا اس کا مقصد دھرنے کو سبوتاژ کرنے کے ساتھ سندھ انڈیجینئس رائیٹس الائینس کے جہدوجہد کو کاؤنٹر کرنے کے ساتھ یہاں کے مقامی لوگوں کو مجبور کرنا کہ وہ اپنی زمینیں کوڑیوں کے مول ملک ریاض کو بیچ دیں ـ اس کے ساتھ اس کا مقصد ملک ریاض کو مظلوم بنا کے پیش کرنا بھی ہے ـ پچھلے کئی دنوں سےسوشل میڈیا پر سندھ کے شاعروں، ادیبوں ، صحافیوں اور وکلا نے ملک ریاض کے خلاف کھل کر لکھا ہے۔۔ سندھ بھر میں ملک ریاض کے خلاف احتجاج ہوا جس  کے اثرات کو زائل کرنے کے لیئے کل جو کچھ انہوں نے کرایا وہ ان کے مطابق ضروری تھا ۔۔

سندھ انڈیجینئس رائیٹس نے تمام جھوٹے ایف آئی آرز کو رد کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ یہ سارے ایف آئی آر ختم کیے جائیں ـ جنہوں نے لوٹ مار کی، جلاؤ گھیراو کیا ان کی نشاندہی کے لیئے ایک آزاد تحقیقاتی بورڈ تشکیل دے کر آزاد تحقیقات کر کے انہیں قرار واقعی سزا دی جائے ـ

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.