سگریٹ نوشی اور کورونا کی وبا انسانیت کے لیے سنگین خطرہ بن گئے

تحریر:ماریہ سماعیل

عالمی ادارہ صحت کے مطابق تمباکو نوشی سے ہر سال دنیا بھر میں 70 سے 80 لاکھ افراد موت کاشکار ہوجاتے ہیں، ادارے کے مطابق دنیا میں 39 فیصد مرد اور 9 فیصد خواتین تمباکونوشی کرتی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک فرد جب سگریٹ پیتا ہے تو نہ صرف وہ بلکہ اس کے اطراف میں رہنے والے افراد خاص طور پر بچے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں، تاہم وبا کے اس دور میں سگریٹوں کا ایک اور نقصان سامنے آیا ہے، جس کے مطابق سگریٹ نوشی والے افراد میں کورونا میں مبتلا ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں، امریکہ میں خوراک اور دواؤں سے متعلق امور کے نگران ادارے فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی (ایف ڈی اے)  سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ  کورونا وائرس پھیپھڑوں کو بری طرح متاثر کرتا ہے اور سگریٹ پینے والوں کے پھیپھڑے پہلے ہی کمزور ہوتے ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ کمزور پھیپھڑوں کے باعث سگریٹ نوشی کرنے والے افراد  میں اس بات کے زیادہ امکانات ہوتے ہیں کہ وہ کورونا وائرس کے باعث زیادہ سخت نقصان اٹھائیں، سگریٹ نوش افراد میں کورونا وائرس کی علامات شدید تر ہونے کا خطرہ 14فیصد زیادہ ہوتا ہے، ماہرین کا کہنا ہے کہ ان لوگوں کی علامات سنگین ہونے اور ان کے اسپتال میں داخل ہونے کی نوبت آنے کی ایک ممکنہ وجہ سگریٹ نوشی کی عادت بھی ہو سکتی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس میں مبتلا ہونے والے اکثر افراد میں علامات زیادہ سنگین نہیں ہوتیں مگر ایسے لوگ جو سگریٹ نوش تھے ان میں علامات سنگین ہونے، حتیٰ کہ نمونیا تک پہنچنے کی شرح بڑھ جاتی ہے۔

سگریٹ نوشی کے کورونا میں مبتلا کروانے کے اثرات کے علاوہ بھی اگر دیکھا جائے تو سگریٹ نوشی کے اور بھی کئی بڑے نقصانات ہیں، جسا کہ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے صحت کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں تمباکو نوشی سے پیدا ہونے والی بیماریوں سے بڑی تعداد میں لوگ ہلاک ہوتے ہیں۔ ان بیماریوں میں دل کے امراض، فالج کا حملہ اور کینسر شامل ہیں۔  پاکستان دنیا کے ان 15 ممالک میں بھی شامل ہے جہاں تمباکو کی پیداوار اور استعمال سب سے زیادہ ہے۔

اسی طرح پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے سابق صدر ڈاکٹر قیصر سجاد نے بتایا کہ’’ پاکستان میں تقریباً ایک لاکھ سے زائد افراد ہر سال تمباکو سے پیدا ہونے والی بیماریوں میں مبتلا ہو کر ہلاک ہو جاتے ہیں جن میں منہ، حلق، سانس کی نالی اور پھیپھڑوں کا کینسر شامل ہیں۔ انہوں  نے کہا کہ چھالیہ اور پان کے ساتھ تمباکو کھانے کے عادی افراد میں منہ، غذائی نالی اور معدے کے سرطان کی بیماریاں سب سے عام ہیں۔‘‘نیشنل الائنس فار ٹوبیکو کنٹرول کے چیئرمین ڈاکٹر جاوید خان نے بتایا کہ پاکستان میں کسی نہ کسی شکل میں تمباکو نوشی کرنے والوں کی بڑی تعداد موجود ہے، ’’ایک تحقیق کے مطابق ملک بھر کی تقریباً 32 فیصد بالغ مردانہ آبادی سگریٹ نوشی کرتی ہے جبکہ سگریٹ نوش بالغ خواتین، آبادی کا کُل آٹھ فیصد ہیں۔ اگر ہم تمباکو کے استعمال کو پان، چھالیہ، گٹکے یا نسوار کے ساتھ دیکھیں تو ملک کی تقریباﹰ 54 فیصد آبادی اس لت میں مبتلا ہے۔ تمباکو سے پیدا ہونے والی بیماریوں میں مبتلا ہو کر ہلاک ہو جاتے ہیں جن میں منہ، حلق، سانس کی نالی اور پھیپھڑوں کا کینسر شامل ہیں۔ انہوں  نے کہا کہ چھالیہ اور پان کے ساتھ تمباکو کھانے کے عادی افراد میں منہ، غذائی نالی اور معدے کے سرطان کی بیماریاں سب سے عام ہیں۔‘‘ماہرین نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ ملک میں اٹھارہ سال سے کم عمر کے بچوں کو سگریٹ بیچنے پر پابندی کو یقینی بنائیں اور ملک کے مستقبل کو صحت مند اور محفوظ بنائیں۔

ماہرین کے مطابق تمباکو نوشی کے باعث ہر سال ہلاک ہونے والے 80 لاکھ افراد میں سے تقریباً 6 لاکھ کے قریب افراد ایسے ہیں جو خود تمباکو نوشی نہیں کرتے۔ایسے افراد دوسروں کی تمباکو نوشی سے پیدا ہونے دھوئیں کے باعث مختلف بیماریوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں جو بعد ازاں جان لیوا ثابت ہوتی ہیں۔ان 6 لاکھ میں سے ایک تہائی تعداد کمسن بچوں کی ہے جو اپنے والدین یا دیگر اہل خانہ کی سگریٹ نوشی کے باعث موت کے گھاٹ اتر جاتے ہیں۔حال ہی میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق تمباکو نوشی کرونا وائرس سے جڑے خطرات میں اضافہ کردیتی ہے، سگریٹ نوش افراد کو کووڈ 19 سے موت کا خطرہ 50 فیصد زیادہ ہوتا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ٹیڈروس ادہانم

عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ٹیڈروس ادہانم کا کہنا ہے کہ کووڈ 19 کی وجہ سے بیماری کے سنگین ہونے اور اموات کے خطرات سگریٹ نوشی کرنے والوں کو 50 فیصد زیادہ لاحق ہوتے ہیں، ضروری ہے کہ سگریٹ نوشی ترک کر کے کورونا وائرس کے خطرات کو کم کیا جائے۔

ڈبلیو ایچ او کے مطابق دنیا بھر میں 39 فیصد مرد اور 9 فیصد خواتین تمباکو نوشی کرتی ہیں، سگریٹ نوشی کی سب سے زیادہ شرح والے ممالک یورپ میں ہیں جہاں یہ شرح 26 فیصد ہے۔اندازوں کے مطابق اگر ان ممالک کی حکومتوں نے فوری اقدام نہ کیے تو سنہ 2025 تک ان کی تعداد میں صرف 2 فیصد کمی متوقع ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق  پاکستان میں ہر سال ایک لاکھ ساٹھ ہزار سے زائد افراد تمباکو نوشی کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں ۔ پاکستان میں اس وقت2کروڑ93لاکھ افراد تمباکو نوشی کرتے ہیں ۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق تمباکو اور ایکسائز ٹیکس میں کم از کم 70فیصد اضافہ کیا جانا چاہیے۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ ایک حالیہ رپورٹ  کے مطابق تمباکو نوشی کی وجہ سے پھیلنے والی بیماریوں سے قومی خزانے کا سالانہ 400 ارب روپے سے زائد کا نقصان ہو تا ہے ۔ جبکہ تمباکو کی صنعت اس رقم کا صرف 20فیصد ٹیکس دیتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق تمباکو نوشی سے پھیلنے والی بیماریوں پر ہو نے والے اخراجات میں سے 71 فیصد کینسر،دل اور پھیپھڑوں کی بیماریوں پر خرچ ہو تا ہے،سرکاری اعدادوشمار کے مطابق  پاکستان کو گزشتہ پانچ سال کے دوران تمباکو پر ٹیکس کی مد میں209ارب روپے کا نقصان ہوا  ہے۔

پاکستان میں ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں تمباکو استعمال کرنے کے رجحان میں کمی جبکہ تیسری دنیا کے ممالک میں اس رجحان میں اضافہ ہورہا ہے۔چین میں تمباکو نوشی کرنے والوں کی تعداد امریکہ کی کل آبادی سے بھی زیادہ ہے۔

پاکستان میں تمباکو کے استعمال کے خلاف کام کرنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ملک میں ہر دوسرا شخص تمباکو کا استعمال کرتا ہے اور اس رجحان میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے ۔ پاکستان اینٹی سموکنگ سوسائٹی کے جمع کردہ اعداد و شمار کے مطابق ملک میں اکتیس کمپنیوں کے پاس سگریٹ بنانے کے اڑتیس کارخانے موجود ہیں اور سگریٹ کی فروخت کی مد میں حکومت ٹیکسوں کے ذریعے تقریباً چَالیس اَرب روپے سالانہ وصول کرتی ہے۔

پاکستان میں تمباکو کا استعمال سگریٹ، پان، اور دیگر طریقوں سے کیا جاتا ہے جبکہ ملک میں تمباکو کی سالانہ فروخت ایک لاکھ ٹن ہے۔

ماہرِامراض سینہ پروفیسر ڈاکٹر جاوید خان نیشنل الائنس فار ٹوبیکو کنٹرول آف پاکستان کے سربراہ بھی ہیں۔ ان کا کہنا ہےکہ مغربی ممالک میں تمباکو کے استعمال پر مختلف نوعیت کی پابندیاں عائد کردی گئی ہیں جن پر سختی سے عملدرآمد بھی کیا جارہا ہے اور یہ اقدامات وہاں تمباکو کے استعمال کے رجحان میں کمی کا سبب بن رہے ہیں۔

پروفیسر ڈاکٹر جاوید خان کے مطابق مغربی دنیا میں پابندیوں کے باعث سگریٹ بنانے والی کمپنیاں پاکستان سمیت تیسری دنیا کے ممالک میں اپنی مصنوعات کی بڑے پیمانے پر تشہیر کررہی ہیں، اور یہاں پر مناسب قانون بھی نہیں ہے اور اگر ہے تو ان پر عملدرآمد نہیں ہورہا، پھر یہاں ناخواندگی زیادہ ہے اور تمباکو کے نقصانات کے بارے میں لاعلمی زیادہ ہے، لہذٰا سگریٹ بنانے والی کمپنیوں کے لیے یہاں اپنے کاروبار کو فروغ دینے کے لیے ماحول سازگار ہے اور نوجوان اس لت میں گرفتار ہورہے ہیں۔

ان کاکہناتھاکہ اس وقت ملک میں بتیس فیصد نوجوان اور آٹھ فیصد خواتین سگریٹ پیتی ہیں لیکن اگر اس میں پان، چھالیہ، گٹکا، نسوار، شیشہ اور دیگر اقسام کو شامل کرلیا جائے تو ملک کے چوّن فیصد عوام تمباکو کے نشے میں گرفتار ہیں۔

پاکستان چیسٹ سوسائٹی کے نائب چئرمین اور جناح ہسپتال کراچی میں چیسٹ میڈیسن کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر ندیم رضوی کہتے ہیں کہ پچیس سے زیادہ مہلک بیماریاں تمباکو کے استعمال سے ہوتی ہیں۔ ان کے بقول نوے فیصد پھیپھڑے کے سرطان تمباکو نوشی کی وجہ سے ہوتے ہیں، اسی طرح دمہ اور سینے کے انفیکشن کے امکانات میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ ایسے لوگ جو دن میں پچیس سے زیادہ سگریٹ پیتے ہیں، ان کو دل کا دورہ پہلے گھنٹے میں ہی جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے، جبکہ سگریٹ نوشی دماغ کی شریانوں میں خون کی گردش رکنے کا سبب بھی بن سکتی ہے جس سے فالج ہوسکتا ہے، اسی طرح اور بھی کئی بیماریاں ہیں جو تمباکو کے استعمال سے ہوتی ہیں۔

 ماہرِ امراض سینہ پروفیسر ڈاکٹر جاوید خان کا کہنا ہے کہ عالمی ادارۂ صحت نے واضح گائڈ لائن دے دیں ہیں کہ کس طرح تمباکو کے بڑھتے ہوئے استعمال کو روکا جاسکتا ہے۔انہوں نے کہاکہ سب سے پہلے تو تمباکو پر ٹیکس میں اضافہ کرنا پڑے گا، کیونکہ ملک میں سگریٹ اتنی سستی ہے کہ سات روپے میں دس سگریٹیں مل جاتی ہیں، دوسرے یہ کہ تمام پبلک مقامات کو اسموک فری یعنی تمباکو نوشی سے پاک ہونا چاہیے جو یہاں پر نہیں ہے، اور تیسری اہم بات جو حکومت کے کرنے کی ہے وہ یہ ہے کہ سگریٹ کے پیکٹ پر تصویری ہیلتھ وارننگ ہونی چاہیے جو کہ ابھی صرف لکھنے کی حد تک محدود ہے۔مغربی ممالک میں تصویر کے ذریعے بتایا جارہا ہے کہ تمباکو نوشی کتنی خطرناک چیز ہے جبکہ ہمارے پڑوسی ممالک نے بھی اس پر عملدرآمد شروع کردیا ہے مگر ہم ابھی بہت پیچھے ہیں۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.