اپنی منجی تھلے ڈانگ پھیر لیں

تحریر: شمس بوزدار

جناب ایس ایس پی گھوٹکی عمر طفیل صاحب , جب سے اہل قلم نے احتجاج کی کال دی , کیونکہ وہ حق بجانب ہیں ۔ ان پر تشدد ہوا  اور ان کو اپنی فرائض سے زبردستی روکا گیا، ان کے ساتھ کرمنلز جیسا سلوک کیا گیا ، ان کو گھسیٹا گیا اور اس پر بدترین تشدد کیا گیا ۔

بجائے اس  کے کہ  اہل قلم کو ساتھ بٹھا کر ان کی تحفظات کو دور کرتے ، نجی ٹارچر سیلز کے بارے میں کمیٹی بناتے اور حقیقت تک پہنچتے ۔ اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے ان اہلکاروں کے خلاف ایکشن لیتے جو عدالتوں سے مبرا ہو کر اپنی عدالت لگا کر بیٹھے ہیں ۔

افسوس یہ سب کچھ تو نہ ہو سکا مگر کچھ نامقول لوگ آپ کے حق میں بھنگڑے ضرور  ڈال رہے ہیں ۔سوشل میڈیا پر آپ کے حق میں نعرے اور صحافیوں پر سخت تنقید کر رہے ہیں ۔ مگر عوام خوب جانتی ہے کہ کون کہاں کھڑا ہے ۔

اس بات پر آپ کو بھی کامل یقین ہے کہ آپ کی  صفوں / فورس میں بھی کالی بھیڑیں ہیں  ، اور آپ کو یہ بھی معلوم ہے کہ  ان کالی بھیڑوں کے نجی جیل / ٹارچر سیلز بھی ہیں ۔ جو لوگوں کو گرفتار نہیں  بلکہ اغوا کرتے ہیں اور تاوان طلب کرتے ہیں ۔

دوسری صورت میں ان ہی غریب لوگوں کو کچے کے ڈاکووں کے ہاتھ فروخت کرتے ہیں یا پھر سودا سمجھ نہ آئے تو ہاف فرائی کرتے ہیں۔

جناب اعلی بجائے میڈیا اور سوشل میڈیا پر پزیرائی حاصل  کرنے یا پھر سستی شہرت حاصل کرنے کے لئےفضول مشیروں سے قصیدے لکھوائیں ۔ اپنی فورس کے اندر کالی بھیڑوں کو پہچان لیں ۔ آپ کے ہی لوگ آپ کے لئی نئی مصیبتوں  کا دروازہ کھول رہے ہیں ۔ آپ کو اپنے ایک بازو یعنی پرنٹ اور الکٹرانک میڈیا کے سامنے لا کر  کھڑا کر رہے ہیں ۔

یہی میڈیا آپ کو حقیقت دکھاتا ہے ۔ جس سے نہ صرف آپ کے ادارے کے ساتھ ساتھ  معاشرے کی اصلاح ہوتی ہے ۔ یہی میڈیا آپ کو اچھائی بھی اور برائی دکھاتا  ہے تاکہ آپ مجموعی حالات سے آگاہ رہیں ۔

مگر افسوس کچھ نامقول لوگ پولیس اور میڈیا کو آمنے سامنے لاکر  کھڑا کر رہے ہیں ۔ جس سے پولیس کا  مورال عوام کی نظروں میں گرتا جا رہا ہے ۔

آج یہ لوگ جو آپ کے قصیدے پڑھ  رہے ہیں یہی آپ کے بازوں کاٹ رہے ہیں ۔ ابھی بھی وقت ہے کہ اپنی فورس کی اصلاح کرکے عوام کی دکھ درد کو کم کریں ، اہل قلم کے ساتھ محاذ آرائی کے بجاء ان کرمنل کے خلاف ایکشن لیں ۔ جو بے گناہ یا معمولی جرائم میں ملوث لوگوں کو نجی زندان (ٹارچر سیلز) میں رکھ کر تاوان طلب کرتے ہیں ۔

تاوان نہ ملنے کی صورت میں ہاف فرائی کرتے ہیں ۔ اور پھر یہی معمولی مجرم آنے والے وقت میں عادی مجرم اور ڈاکو بنتے ہیں ۔ جن کو ڈاکو بنانے والے آپ کے ہی فورس کے لوگ ہیں ۔

اس لئی ابھی بھی وقت ہے کہ بجاء  اپنی میڈیا اور سوشل میڈیا کو سامنے لا کر حقائق کو مسخ کریں یا پھر اپنے صفون میں موجود کرمنلز کی پردہ داری کریں ۔ اپنی منجی  تھلے ڈانگ پھیر لیں ۔ نقص آپ کی منجی کے نیچے سے ہی آپ کو ملے گا ، صحافیوں کو زدو کوب کرنے سے نہیں ۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.