رواں سال 2021 کا پہلا چاند گرہن سپر فلاور بلڈ مون 

تحریر:ماریہ اسماعیل

چاندگرہن ہوتاکیاہے۔چاند گرہن اس وقت ہوتا ہے جب زمین چاند اور سورج کے درمیان آ جاتی ہے جس سے چاند پر سورج کی روشنی نہیں پڑتی اور چاند نظر نہیں آتا۔

دوسرے لفظوں میں چاند گرہن کے دوران ہمیں زمین کا سایہ چاند پر پڑتے ہوئے دکھائی دیتا ہے۔جس طرح آئی اے سی کے تدریسی ہدایت نامہ میں وضاحت کی گئی ہے کہ ’سورج گرہن کیسا دکھائی دیتا ہے وہ اس چیز پر منحصر ہے کہ سورج گرہن کا زمین پر کس جگہ سے مشاہدہ کیا جا رہا ہے۔ لیکن چاند گرہن میں اس کے بالکل برعکس ہوتا ہے، اس کا مشاہدہ دنیا میں کہیں سے کیا جاسکتا جہاں سے چاند افق پر نظر آ رہا ہوتا ہے۔

  چاند گرہن تین قسم کے ہوتے ہیں۔

مکمل چاند گرہن

 ناسا کے مطابق چاند اور سورج دنیا سے دو مختلف سمتوں میں ہوتے ہیں۔ناسا کہتا ہے کہ چاند گرہن کے دوران چاند زمین کے سائے میں آ جاتا ہے لیکن اس کے باوجود کچھ روشنی چاند پر پہنچتی رہتی ہے۔چاند گرہن کے دوران سورج کی روشنی زمین کی فضا سے گزر کر چاند پر پڑتی ہے اس ہی وجہ سے گرہن کے دوران چاند سرخ نظر آتا ہے جسے ’خونی چاند‘ بھی کہا جاتا ہے۔آئی اے سی کے ہدایت نامہ کے مطابق دنیا کا قطر کیونکہ چاند کے قطر سے چار گنا بڑا ہے اس لیے مکمل چاند گرہن کا دورانیہ 104 منٹ تک ہو سکتا ہے۔اس قسم کا چاند گرہن دنیا پر بسنے والوں کو 26 مئی 2021 کو نظر آئے گا۔اگر آپ جنوبی امریکہ، جنوب مشرقی ایشیا، آسٹریلیا یا امریکہ کے مغربی حصوں میں ہوں گے اور آسمان ابر آلود نہیں ہو تو آپ ’سپر فلاور فل مون‘ یعنی پورے چاند کو گرہن لگتے تھے جو 14 منٹ تک جاری رہے گا۔

جزوی چاند گرہن

جس طرح اس کے نام سے ظاہر ہے اس گرہن کے دوران چاند پوری طرح نہیں چھپتا ہے اور صرف چاند کا کچھ حصہ ہی زمین کے سائے میں آتا ہے۔

گرہن کی نوعیت کتنے گہرے سرخ رنگ یا خاکی اور زنگ کے رنگ کی طرح ہو گی اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ زمین کا عکس چاند کی تاریک سطح پر کسی طرح پڑتا ہے۔

چاند کے تاریک اور روشن حصے کے تضاد کی وجہ سے ہوتا ہے۔ چاند کا روشن حصہ پر تو سائے کا کوئی اثر نہیں پڑتا اور کی چمک برقرار رہتی ہے لیکن زمین کے سائے میں آنے والا حصہ تاریک ہو جاتا ہے۔ناسا کے مطابق مکمل چاند گرہن کبھی کبھار ہی ہوتا ہے لیکن جزوی گرہن سال میں دو مرتبہ ہوتا ہے۔

اگلا جزوی چاہد گرہن 18 اور 19 نومبر کو متوقع ہے جو شمالی اور جنوبی امریکہ، آسٹریلیا اور یورپ اور ایشیا کے کچھ حصوں میں دکھائی دے گا۔

خفیف سا چاند گرہن

یہ گرہن اس وقت ہوتا ہے جب چاند زمین کے خفیف سے سائے کے نیچے سے گزرتا ہے جو کہ بہت ہلکہ سا سایہ ہوتا ہے۔یہ گرہن اتنے ہلکے سے ہوتے ہیں کہ ان کا انسانی آنکھ سے دیکھے جانے کا امکان اس بات پر ہوتا کہ چاند کا کتنا حصہ اس عکس کے نیچے آتا ہے۔ جتنا کم حصہ اس سائِ میں آتا ہے اتنا ہی اس بات کا امکان ہوتا ہے کہ یہ زمین پر کسی انسان کو دکھائی دے۔

یہ وجہ ہے کہ اس طرح کے گرہن کا کیلینڈر میں ذکر نہیں کیا جاتا خاص طور پر ان کیلینڈروں میں جو سائنسدانوں کے علاوہ عام لوگ کے لیے بنائے جاتے ہیں۔

سٹیلر گرہن

صرف چاند اور سورج ہی کی وجہ سے گرہن نہیں ہوتا کائنات کے دور دراز ستارے بھی گرہن میں جا سکتے ہیں۔بیمن اپنی کتاب ’السٹریٹڈ ایسٹرونومی‘ جو آن لائن پر مفت میں دستیاب ہے اس میں وجہ لکھتے ہیں پچاس فیصد ستارے دو یا دو سے زیادہ کے جھنڈ میں ہوتے ہیں ۔کیونکہ ہماری کہکشاں میں بہت سے ستارے ہیں ان میں بہت سے ستارے اپنے اپنے مداروں میں گردش کرتے ہیں جو ہماری زمین کی لائن میں آتے ہیں لہذا کسی نہ کسی مدار میں کوئی ستارہ کسی اور ستارے کے آگے آ کر اس کو تاریک کرتا رہتا ہے۔

26مئی کوچاند گرہن دن میں ہونے کے باعث پاکستان میں دکھائی نہیں دے گا۔ چاند گرہن کا آغاز پاکستان میں دن 11 بج کر 39منٹ پر ہوگا۔چاند کو مکمل گرہن 4بج کر گیارہ منٹ پر لگے گا، چاند گرہن کا اختتام شام 6بج کرپانچ منٹ پر ہوگا۔ چاند گرہن آسٹریلیا، ہانگ کانگ اور ٹوکیو میں نظر آئے گا۔ 14 منٹ کے لیے چاند سرخ ہو جائے گا۔ جزوی چاند گرہن شکاگو، ارجنٹائن اور بیجنگ میں ہوگا۔

 یہ واقعہ ایسے وقت پرعمل میں آئے گا جب ڈھائی برس میں پہلی بار مکمل چاند گرہن ہونے جارہا ہے، بڑا چاند ایسے چاند کو کہا جاتا ہے جب چاند کے مرکز اور زمین کے مرکز کے درمیان فاصلہ 357.461 کلو میٹر ہوجائے۔

چاند گرہن: سپر فلاور بلڈ مون کب نظر آئے گا، گرہن کیا ہوتا ہے اور اس کی کتنی اقسام ہیں؟
چاند گرہن: سپر فلاور بلڈ مون کب نظر آئے گا، گرہن کیا ہوتا ہے اور اس کی کتنی اقسام ہیں؟

اس کی نحوست کوختم کرنے لیے الله تعالی سے توبہ استعفرکرنے نمازحسوف دورکوت نوافل اداکرنے کے لیےکہاگیاہے ۔باقی جوہم توہمات پرستی کرتے ہیں اس کے ایسے کوئی اثرات نہیں ہوتے ہیں باقی زمین پرہوتے ہیں ماحولیات کی تبدیلی وغیرہ شامل ہیں ۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.