بھارت میں اپنے ہی لاشوں کو اٹھانے سے انکاری، پیسے دے کر کاندھا  دلوانے پر مجبور

بھارت میں کورونا وبا نے اس قدر خوف و دہشت پھیلا دی ہے کہ اب لوگوں نے لاشوں کو کندھا دینے سے بھی انکار کر دیا ہے، خواہ وہ انکے اپنے عزیز و اقارب ہی کیوں نہ ہوں۔

کورونا کے عہد میں اب کسی کی موت پر تعزیت کے لیے آنا تو دور کی بات، آخری رسومات میں شرکت کے لیے چند لوگوں کو اکٹھا کرنا بھی مشکل ہوگیا ہے، یہاں تک کہ قریبی رشتہ دار بھی متوفی کو کاندھا دینے سے کترا رہے ہیں، جس کی وجہ سے میت کو شمشان گھاٹ تک پہنچانا بھی ایک مسئلہ بن گیا ہے۔

کورونا بحران میں بھارت کی روایتی انسانی ہمدردی بھی بظاہر ختم ہو گئی ہے، انسانی بے بسی کا عالم یہ ہے کہ کوئی کسی کی مدد کے لئے تیار نہیں، اب  لوگ اپنے عزیز و اقارب کی لاشوں کو کندھا دینے کے لیے کرائے پر افراد کی خدمات حاصل کر رہے ہیں اور لاش کو منزل تک پہنچانے کے لیے پانچ سے دس ہزار روپے تک فی کس ادا کرنے پڑ رہے ہیں۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ جہاں کورونا سے مرنے والوں کی لاشیں شمشان گھاٹ لے جانے کے لیے انکے اپنے ہی منہ پھیر رہے وہیں، وہیں مسلم نوجوانوں کی طرف سے رضاکارانہ طورپر یہ خدمت انجام دینے کی خبریں مسلسل آرہی ہیں اور مسلمانوں کی ایسی خدمات کی تعریف بھی ہو رہی ہے۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.