کراچی: نامورصحافی لالا صدیق بلوچ کی برسی پر اظہارکی آزادی کے عنوان سے سیمینار

کراچی میں نامورصحافی لالا صدیق بلوچ کی تیسری برسی کے موقع پر اظہارکی آزادی کے عنوان سے سیمینارمنعقد ہوا جس سے خطاب کرتے ہوئے انور ساجدی، ڈاکٹر جبارخٹک ،مظہرعباس، فاضل جمیلی، وسعت اللہ خان ، مقصود یوسفی اور دیگر کا کہنا تھا کہ سندھ کی مقامی آبادی کو منتقل کرکے یہاں نیا اسرائیلی منصوبہ بنایا جارہا ہے ۔۔موجودہ بلوچستان کلی کیمپ لگ رہا ہے ۔کہیں کسی بھی حرکت کی کوئی اجازت نہیں ۔۔حکمرانوں کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ملک کمزور ہوچکا ہے ۔۔ صحافی انور ساجدی کا کہنا تھا کہ ہم سڑکیں ، نوکریاں اور کچھ نہیں مانگتے ہمیں صرف جینے کا حق دیا جائے، پریس کلب کراچی میں منعقدہ سیمینار سے خطاب میں بلوچستان کے سابق وزیراعلی نواب باروزئی، عوامی ورکرز پارٹی کے رہنما یوسف مستی خان ، وائس فار مسنگ پرسنزکے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ، اختر بلوچ، ماھر بلوچ، ڈاکٹر توصیف شان ، صدیق بلوچ کے فرزند عارف بلوچ ، سعید سربازی،غلام نبی چانڈیو اور دیگر نے بھی خطاب کیا ۔۔اپنے خطاب میں انور ساجدی ،ڈاکٹر جبار خٹک ، مظہر عباس اور دیگر کا کہنا تھا کہ بلوچوں کی ترقی اور تعلیم کی راہیں بند کی گئی ہیں اس وقت ملک میں بلوچوں کی جان کی کوئی قیمت نہیں ،سندھ کی مقامی آبادی کو منتقل کرکے یہاں اسرائیل کا منصوبہ بنایا جارہا ہے،انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو تعلیمی اور سیاسی شعور دینے میں صدیق بلوچ کا اہم کردار تھا ، اس وقت میڈیا پر کئی بندشیں ہیں ۔۔اس کو دبایا جارہا ہے ۔۔کارکن بڑی مشکل صورتحال سے گذررہے ہیں

اس موقع پر نامورکالم نویس اور لکھاری وسعت اللہ خان اور کراچی پریس کلب کے صدر فاضل جمیلی نے عوامی آواز سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ صدیق بلوچ نے اپنی پوری زندگی صحافت کی آزادی کی جدوجہد میں گذاری ،انہوں نے اظہار آزادی پر کبھی کوئی سودیبازی نہیں کی

ان  کا کہنا تھا کہ ہم اظہار آزادی کو اپنا حق سمجھتے ہیں اور اس کے لئے جدوجہد کرتے رہیں گے

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.