وزیراعظم اور وزرا منفی بیانات کا سلسلہ ختم کریں اور عوامی مسائل پر توجہ دیں

تحریر: م ش خ

تحریر: م ش خ

اپوزیشن اپنے حقوق اور عوام کے حقوق کے لیے ماری ماری پھرتی ہے اور حکومت اپنی صلاحیتوں کا پرچم اٹھائے ثابت قدم ہے، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ عوام اس ملک میں رہنے والے افسروں اور عوامی نمائندوں کی قابلیت اور صلاحیت سے محروم ہو چکی ہے۔

اپوزیشن کے پاس شور مچانے کے علاوہ کوئی کام نہیں اور وہ اپنے ووٹرز کو یہ باور کراتی ہے کہ تمھارے مفادات کے لئے ہم نے جان کی بازی لگا دی ہے اور اپوزیشن والوں کو معلوم ہے جو برسر اقتدار ہیں یہ ہمارے قبیلے کے لوگ ہیں، اس جھگڑے میں قانون اپنی موت مر چکا، ہر جگہ لاقانونیت کے بادلوں نے بسیرا کر رکھا ہے، جو ٹیکس دیتے ہیں وہ بھی اور جو نہیں دیتے ہو بھی لاقانونیت کے تحت زندہ ہیں۔

ہمارا ملک وہ ملک ہے، جہاں ہر جرم کی سزا تو قانون کی کتابوں میں موجود ہے، پھر بھی نئے قوانین کی بارش ہوتی رہتی ہے مگر اس بارش میں بڑے بڑے محل تو جوں کے توں رہتے ہیں، ہاں غریبوں کے مکان اپنی معیاد پوری کئے بغیر گر جاتے ہیں اور قانون کی جو کتابیں ہیں، لائبرریوں کی ذینت بن گئی ہیں۔

اب ملک کے وزیر داخلہ شیخ رشید ہیں، شیخ کی معنی نصیحت کرنے والا کے ہوتے ہیں، اب شیخ صاحب آگئے ہیں اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ چاروں صوبوں میں جو لاقانونیت کا جھنڈا بلند ہو چکا ہے شاید اب منہ کے بل گرے، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شاید اب اندھیر نگری کا قانون لپیٹ دیا جائے، یقیناََ وزیراعظم نے یہ فیصلا بہت سوچ سمجھ کر کہا ہے۔

ٹی وی چینلز پر تجزیہ کار اپنی اپنی رائے دیتے ہیں، گذشتہ دنوں پاکستان کے مایہ ناز تجزیہ نگار ڈاکٹر جباز خٹک نے ارباب اختیار اور اپوزیشن کے حوالے سے ”ہم ٹی ہی“ پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صورتحال بہت نازک ہے۔ انہوں نے بے مقصد تصادم کے مذمت کی اور کورونا پر تفصیلی روشنی ڈالے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ انہوں نے روایات کی پاسداری کا نقشہ بہت خوبصورتی سے پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ معیشت، صحت، تعلیم اور انصاف پر ہمیں توجہ دینی ہوگی۔ انہوں نے مہنگائی جو افراتفری کا شکار ہو چکی ہے پر جس طرح روشنی ڈالی سندھ کی عوام انہیں خراج تحسین پیش کرتی ہے۔ انہوں نے بحیثیت سینئر تجزیہ نگار عوام کو واجب الاحترام قرار دیا اور عوامی مشکلات کے لئے صراط مستقیم کی بات کی۔ ہمارے ہاں چیلنجز پر تجزیہ نگار سیاست دانوں کے ذوق کو دیکھتے ہوئے گفتگو کرتے ہیں، جبکہ ڈاکٹر جبار خٹک صاحب اس بانجھ نظام کو موثر نظام کی صورت میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ مجھے کراچی سے لیکر خیبر تک سے ناظرین نے ای میل کئے کہ ڈاکٹر جبار خٹک کی حکمت و دانشمندانہ گفتگوسے یہ مصنوعی ریت کی دیواریں ضرور گر جائیں گی اور یقیناََ وہ عوام کی بات کرے ہیں اور امید ہے کہ اس قوم کے طرز زندگی میں تبدیلی ضرور آئے گی۔

بحیثیت صحافی کے میں سمجھتا ہوں پاکستان سپر پاور ہے اور مزے کی بات دیکھیں یہ اعزاز صرف پاکستانی قوم کو حاصل ہے ہمارے ملک میں مسائل کے پہاڑ عوام کے کندھوں پر ہیں، جس کی کوئی حکمت عملی نہیں ہے۔ سیاستدان ملک کی بہتری کے لیے نکل رہے ہیں تو پھر ابتر اس ملک کو کس نے کیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے یہ کام بہت اچھا کیا جو ازل کے دشمن تھے اور ایک دوسرے کی انسانیت سوز تذلیل کرتے تھے، جو 30 سال قوم کے لئے کچھ نہ کر سکے ، والہانہ غریب اور مفلس عوام کے لیے بھونڈے دلائل دے کر لبیک لبیک کی آوازیں گا رہے ہیں کہ عوام کی اور ہماری ترجیحات ایک ہیں۔

سعادت حسن منٹو سے کسی نے پوچھا کیا حال ہے آپکے ملک کا، انہوں نے کہا بلکل ویسا ہی ہے، جیسا جیل میں ہونے والی نماز جمعہ کا ہوتا ہے، اذان فراڈیا دیتا ہے، امامت قاتل کراتا ہے اور نمازی سب کے سب چور ہوتے ہیں۔ اپوزیشن کو چاہئے کہ آنے الیکشن کا انتظار کے، کیونکہ اب تعلیم یافتہ طبقہ ووٹ نہیں دیتا مگر 25 جولائی 2018 کو تبدیلی کے وعدے پر تعلیم یافتہ طبقہ بھی خان صاحب کو ووٹ دینے گیا، یہ وہ لوگ تھے، جنہوں نے ووٹ دینا ہی چھوڑ دیا تھا اور پھر کراچی والوں نے بھی وزیراعظم عمران خان کو بھرپور ووٹ دئے۔

تقریباََ ڈھائی سال ہوگئے ہیں خان صاحب کو بحیثیت وزیراعظم کے، لہذا اب وزیراعظم، وفاقی وزرا، صوبائی وزرا اور مشیر حضرات اور ارباب اختیار کو چاہئے کہ منفی بیانات کا سلسلہ ختم کریں، معتبر جمہوری نظام کے لیے کمر کس لیں، عوامی سطح پر خوبصورت سرگرمیوں کو فروغ دیں تاکہ اکتاہٹ کا سفر ختم ہو۔ ملکی عدلیہ اور فوج کے ساتھ مل کر قابل ستائش اقدام اٹھاہیں اور عوام کی طرز زندگی میں تبدیلی لائیں، تمام وفاقی، صوبائی وزرا، مشیر حضرات آبرومندانہ طریقے سے عوامی مسائل پر توجہ دیں۔

 

 

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.