پاکستان میں کورونا کے باعث دماغی امراض میں بے تحاشا اضافہ 

تحریر|ماریہ اسماعیل

ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ پاکستان سمیت دنیا بھرمیں کورونا کے باعث ذہنی ونفسیاتی امراض میں شدت پیدا ہوگٸی ہے جسے کورونا فوبیا بھی کہا جا رہا ہے اور دیکھا گیا ہے کہ لوگوں میں نئے قسم کے دورے اورڈپریشن کی کیفیت میں بھی اضافہ سامنے آیا ہے۔

کورونا کی وبا کے باعث ملک میں بڑھتے نفسیاتی مسائل کے حوالے سے نجی اسپتال آغاخان کے شعبہ نیورولوجی کے سربراھ  ڈاکٹرواسع نے بتایا کہ پاکستان میں آبادی کا34 فی صد لوگ مختلف دماغی امراض کاشکار ہے۔

ان کاکہنا تھا کہ ذہنی مسائل سے دوچار افراد کے یومیہ ایک ہزار فعال کیس سامنے آرہے ہیں، انہوں نے کہاکہ مریضوں اور امراض کی روک تھام کے لیے ترجیحی اقدامات کی ضرورت ہے۔

دماغی امراض کی ماہرڈاکٹر فوزیہ صدیقی کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ زیرعلاج مرگی کے کٸی مریضوں میں کورونا لاک ڈاٶن کے باعث خاص قسم کے دورے پاٸے گٸے جو کہ محضوص حالات اوردماغ پراثرات کی وجہ سے ہوٸے۔

پاکستان میں ساٸیکاٹرک سوساٸٹی کے صدرڈاکٹراقبال آفریدی نے کہا کہ کورونافوبیا کے نام سے نٸی نفسیاتی بیماری ہمارے سامنے آرہی ہے جس نے دماغی صحت پرمنفی اثرات مرتب کیے۔

پاکستان میں نیوروساٸیکاٹرک  کے  11 فیصد مریض ہیں جب کہ صحت کے معاملات پر جی ڈی پی کا محض ڈھائی فیصد حصہ خرچ ہوتا ہے، حالیہ اعداد وشمار سے پتہ چل رہا ہے کہ کورونا پھیلنے کے دوران لوگوں کی مجموعی طور پرذہنی صحت بہت زیادہ اثرمرتب ہوئے ہیں۔

ایک غیرسرکاری تنظیم مشعل پاکستان کے چیف ایگزیکٹواورورلڈ اکنامک فورم کے ممبرایکسپرٹ نیٹ ورک عامرجہانگیرنے کہا کہ دماغی صحت پاکستان میں تحقیق کے سب سے زیادہ نظراندازکیے جانے والے شعبے میں سے ایک ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری قوم متعدد چیلنجوں کاسامنا کررہی ہے، جس کے بارے میں پالیسی سازوں کوعوامی پالیسی کے ڈزائن اورمناسب وساٸل کی تقسیم کے لیے تحقیقی اعدادوشمار کی ضرورت ہے۔

ان کاکہنا ہےکہ چالیس سال سے مسلسل دہشتگردی کے خلاف جنگ کرنے سے ہمارے معاشرے پرذہنی صحت کے سنگین اثرات مرتب ہورہے ہیں۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں 5 کروڑ افراد ذہنی امراض کاشکارہیں، جن میں بالغ افراد کی تعداد ڈیڑھ سے ساڑھے تین کروڑ کے قریب ہے جب کہ ایک اندازے کے مطابق ہم میں سے ہرتیسرا آدمی ڈپریشن کا شکارہے۔

تاٸیوان سانکاٹرک ریویو 2020 میں شاٸع پاکستان ساٸکاٹرک سینٹرفاٶٹین ہاٶس اورشوکت خانم ریسرچ سینٹرکی مشترکہ تحقیق کے مطابق پاکستان میں 220 ملین آبادی کے لیے صرف 400 تریبت یافتہ ماہرنفسیات ہیں جبکہ 15ملین افراد ایک جیسی بیماری میں مبتلا ہیں جوکہ ذہنی بیماری کی ایک شکل ہے۔

پاکستان ایک روایتی معاشرہ ہے جہاں ذہنی امراض پریا اس کے متعلق غیرفعال سلوک پربات کرنے کی اتنہاٸی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق ذہنی مساٸل کا شکارافراد کے ساتھ تفریق برتنا غیرذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہے  اورایسے افراد کومزید تناٶ زدہ حالات سے دوچارکرنا وہ عوامل ہیں جن کی وجہ سے دماغی صحت میں بہتری کے اقدامات کے نتاٸج حوصلہ افزا نہیں ہوتے۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.