سندھ کی بیٹی امہ رباب چانڈیو ، اور نام نہاد وڈیرے

تحریر|"تحریر شمس بوزدار "

ظلم تو پھر بھی ظلم ہے ، جب حد سے بڑھ جاتا ہے، تو مٹ جاتا ہے ۔ یہی آج مجھے دیکھنے کو ملا ۔

سندھ کے اندر نام نہاد وڈیرہ شاہی کی سانسیں پھولتی ہوئی نظر آ رہی ہیں۔ وہ وڈیرے جو خود کو خدا سمجھتے تھے ، غریب عوام پر جبر کرتے تھے ، ظلم کرتے تھے ، اپنی پینچائت لگا کر بے بس لوگوں پر مرضی کے فیصلے تھونپتے تھے۔ معصوم بچیوں کو قتل کے فیصلوں میں چٹی کے طور پر دشمنوں کے حوالے کرتے تھے ۔ آج وہ نام نہاد وڈیرے زمین کے اندر بلوں میں چھپنے کی کوشش کر رہے ہیں مگر زمین بھی پناہ دینے کے لئی تیار نہیں۔

"لاکھ بیٹھے کوئی چھپ چھپ کے کمیں گاہوں میں

خون خود دیتاہے جلادوں کے مسکن کا سراغ

سازشیں لاکھ اڑاتی رہیں ظلمت کا نقاب

لے کے ہر بوند نکلتی ہے ہتھیلی پہ چراغ ”

امہ رباب سندھ کی وہ بدنصیب بیٹی جس کے پورے خاندان کو دن دھاڑے نام نہاد وڈیروں کی منشاء پر قتل کیا گیا۔ مگر کئی سال گذرنے کے باوجود بھی سندھ کی بیٹی اپنے والد ، چچا اور دادا کے قاتلوں کو نہ پکڑ سکی ۔ آخر قاتل اتنے طاقتور ہیں جو تین قتل کرنے کے باوجود بھی ، ان کا سراغ لگانا مشکل ہے ؟  کیوں آج تک پکڑے نہیں جا رہے ؟ جن کے خلاف قتل کا مقدمہ درج ہے وہ آج تک کیوں آزاد پھر رہے ہیں ؟

"تم نے جس خون کو مقتل میں دبانا چاہا

آج وہ کوچہ و بازار میں آنکلا ہے

کہیں شعلہ کہیں نعرہ کہیں پتھر بن کے

خون چلتا ہے تو رکتا نہیں سنگینوں سے

سر جو اٹھتا ہے تودبتا نہیں آئینوں سے ”

ایک نہتی بیٹی اپنے خاندان کا المناک دکھ لے کر ننگے پاوں عدالتوں کی چکر کاٹ رہی ہے مگر یے نظام ظالم کی حفاظت کرتا آ  رہا ہے ، ظالم کو فائدہ پہچاتا آ رہا ہے ۔ افسوس کہ  انصاف دینے سے قاصر ہے ۔

پھر بھی سندھ کی اس بیٹی نے ظالموں کا پیچھا نہیں چھوڑا ۔ لوگ کہتے تھے یے اکیلی بچی تھک کر بیٹھ جائے گی ۔ قاتل بھی قہقہے لگاتے تھے کہ ان سے زیادہ کوئی طاقتور نہیں۔ مگر اللہ پاک بھی کسی ظالم کو اتنا مہلت نہیں دیتا کہ وہ ظالم حد سے گذر جائے ،  وہ ظلم کرتا چلا جائے ، قتل کرتا رہے ۔

ظلم جب حد سے بڑہ جاتا ہے تو مٹ جاتا ہے ، یہی میرے رب کا دستور ہے ۔

فرعون کو بھی اپنی  طاقت پر غرور تھا ۔ مگر وہ فرعون جس کے سامنے کوئی پرندہ پر نہیں مار سکتا تھا وہ ایک مچھر کے سامنے بے بس ہوا ۔

یہی کچھ سردار چانڈیو اور برھان چانڈیو سے ہو رہا ہے ۔ یے نام نہاد وڈیرے بھی اپنی طاقت اور سرداری کی غرور میں حد سے نکل چکے تھے ۔ آج ان کو زمین پناھ نہیں دے رہی ۔ ایک کمزور بیٹی جس کی باتوں پر وہ قہقہے لگاتے تھے ۔مزاق اڑاتے تھے ، آج اس نہتی بیٹی نے ، ان کی زبانوں پر ہاتھ رکھ کر دبا دیا ۔ آج وہ اپنے غرور کو مٹی میں ملتے خود دیکھ رہے ہیں ،  آج ان کے پاوں میں طوق ڈالے جا رہے ہیں۔

مجھے بھی اس کیس میں قدرت کے کرشمے نظر آ رہے ہیں۔ اور کہیں لوگون کی جہالت بھی ۔

جب حضرت ابراھیم علیہ السلام کو نمردو  کے حکم پر آگ میں ڈالا جا رہا تھا تو وہی ایک چھوٹی سی چڑیا چونچ میں پانی کے قطرے لا کر آگ پر ڈال رہا تھا ۔ اب چڑیا کی چونچ میں کتنا پانی آ سکتا ہے ۔ لیکن اس چڑیا کی اپنی کوشش تھی ۔ اپنی حیثیت کے مطابق وہ آگ بجھانے میں مصروف تھی ۔

اس کے ساتھ ایک گرگٹ تھا وہ ہنس بھی رہا تھا اور مسلسل آگ کو بھڑکانے کے لئی پھونکے مار رہا تھا ۔ اب گرگٹ کے پھونکے مارنے سے کون سا فرق پڑنا تھا ۔ بس یے ان کی  فطرت تھی ، آگ کو بھجانے والا تو میرا رب تھا ۔ جس نے اپنے بندے اور اپنی نبی کی مدد کی اور اس آگ کو گلزار بنا دیا ۔

سندھ کی بیٹی بھی اپنے والد ، چچا اور دادا کے خون کا بدلا لینے کے لئی پر عزم رہی ۔ ننگے پاوں عدالتوں کی چکر لگاتی رہی ۔ مستقل مزاجی سے کیس لڑتی رہی ۔ کبھی وہ لڑکھڑا کر تھک جاتی ، پھر حوصلا کرتی رہی ۔ قاتل بھی مقامی عدالتوں پر اثر انداز ہوتے رہے اور بچتے رہے اور  چلتے چلتے یے کیس سپریم کورٹ تک پہنچا۔

اب سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ قاتلوں کو کسی بھی صورت پکڑ کر پیش کیا جائے ۔

گذشتہ دن جب پولیس نے سردار چانڈیو اور برہان چانڈیو کے محلوں کو گھیرا تو نام نہاد جمہوریت کے علمبرداروں کی چیخیں نکلنا شروع ہو گئی ۔ کہ پی پی کے رہنماوں  کو حراسان  کیا جا رہا ہے ۔نثار کھوڑو نے تو قاتلوں کی حق میں پریس کانفرنس کر ڈالا کے نام نہاد وڈیروں کی محلوں پر پولیس کا گھیراو کرنا چادر اور چاردیواری کی توہین ہے ۔

اب اس جاہل سے کوئی پوچھے چادر کسے کہتے ہیں اور چار دیواری کسے کہتے ہیں۔

وہ کسی کی چادر نہیں جو ننگے پاوں عدالتوں کے چکر کاٹتی رہی ۔ وہ کون تھی جس کی چاردیواری تو دور کی بات پوری آنگن اجاڑا گیا ، دن دھاڑے ان کے پورے خاندان کو گولیوں سے چھلنی کر دیا گیا ۔ کاش کھوڑو کے خاندان سے بھی ایسا واقعہ ہوتا ،  شرم آنا چاہیے ایسے بیہودہ انسان کو جسے سردار چانڈیو اور برہان چانڈیو کی چاردیواری تو نظر آئی مگر اس مظلوم بیٹی کی مظلومیت نظر نہیں آئی ۔

رات ایک اور پی پی رہنما ، ایک وڈیرہ ٹی وی پروگرام میں بے شرمی اور ڈھٹائی کے ساتھ قاتلوں کی دفاع کرتے ہوئے کہہ رہا تھا کہ آئی جی سندھ کو سپریم کورٹ پریشر میں ڈال کر  کارروائی کروا رہا ہے ۔ یے آئی جی بھی کیسا عجیب آئی جی ہے کبھی وہ رینجرز کے پریشر میں آ کر مجرموں کے خلاف کارروائی کرتا ہے اور کبھی سپریم کورٹ کی پریشر میں آ کر قاتلوں کے خلاف کارروائی کرتا ہے ۔ یے بات کوئی ذی الشعور نہیں کر سکتا ۔

معذرت کے ساتھ میں پوچھنا چاہتا ہون جناب عبدالباری پتافی سے کہ اگر آئی جی  سپریم کورٹ کی پریشر میں آ کر ایک قاتل کی گرفتاری کرتا ہے تو آپ کو کیوں تکلیف ہو رہی ہے ۔ آپ کی حکومت  نے  تو ہمیشہ قاتلوں کی دفاع کی ۔ آپ ان قاتلوں کی دفاع کر کے کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ کہ تین سال گذر جانے کے بعد بھی یے کیس منتقی انجام کو نہ پہچے ۔

جن پر قتل کے ایف آئی آر درج ہیں۔ وہ مفرور رہیں۔ وہ دندناتے پھریں۔ وہ قہقہے لگاتے پھریں۔ اور آپ نے یے بھی کہا کہ امہ رباب کو اتنا پروٹوکول کیوں دیا جا رہا ہے ۔ کیا سندھ پولیس فریال ٹالپور کی حفاظت کے لئی ہے، جسے ہر طرح کا پروٹوکول دیا جاتا رہا جب وہ صوبائی اسیمبلی کی ممبر بھی نہیں تھی ۔

آپ کے اپنے گھوٹکی میں جام مہتاب ڈھر کے پیچھے بیس بیس پولیس کی گاڑیاں تھی اور وہ دعوت نامے کھاتے پھرتے تھے ۔ یاد رہے مہتاب ڈھر بھی کسی اسیمبلی کا ممبر نہیں۔ آپ لوگوں کو آئینہ دیکھنے کی عادت نہیں۔ اگر کوئی دکھا دے تو برداشت نہیں ہوتی ۔ آپ سندھ کی بیٹی امہ رباب چانڈیو کو یہے کہہ رہے ہیں کہ ان کو پروٹوکول نہ دیا جائے تاکہ وہ قاتل وہ درندے اس نہتی بیٹی تک پہچ جائیں۔ یہی ہے آپ لوگوں کی جمہورت تو میں ہزار بار لعنت بھیجتا ہوں ایسی جمہوریت پر ۔

قاتل کتنا بھی طاقتور ہو اسے کے آگے بھی ایک طاقتور ذات ہے ۔وہ بہتر انصاف کرنے والا ہے ۔  آج یے وڈیرے بھی اس طاقت کے سامنے بے بس ہیں۔ امہ رباب چانڈیو اور یے عدالتیں  تو صرف ایک بہانا ہیں ۔ قاتلوں کی رسی کہیں اور سے کھینچی جا رہی ہے ۔

کل تک وہ قہقہے لگاتے تھے آج وہ سانس بھی نہیں لے پا رہے ۔ ان کی سانس حلق میں پھنس کر رہ گئی ہے ۔ ان کے پاوں میں طوق ڈالے جا رہے ہیں۔ اور انقریب ان کے گردنوں میں بھی پھندا ڈالا جائے گا ۔ یے میرے رب کا وعدہ ہے ۔ جو ضرور پورا ہو کر رہے گا ۔

"ظلم کی بات ہی کیا‘ ظلم کی اوقات ہی کیا

ظلم بس ظلم ہے ‘آغاز سے انجام تلک

خون پھر خون ہے سو شکل بدل سکتا ہے

ایسی شکلیں کہ مٹاؤ تو مٹائے نہ بنے

ایسے شعلے کہ بجھاؤ تو بجھائے نہ بنے

ایسے نعرے کے دباؤ تو دبائے نہ بنے ”

سندھ کی بیٹی تم نے وڈیرا شاہی کو پاش پاش کر کے رکھ دیا ۔ ایک عورت ہو کر آپ نے فرعونوں کا مقابلہ کیا ۔ مستقل مزاجی سے کیس لڑتی رہی ۔ اور اپنے والد چچا اور دادا کے قاتلوں کو کیفر کردار کے قریب پہچا دیا ۔

میری بہن تجھے میرا سلام ۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.