ماحولیاتی تبدیلی نے جانوروں سمیت انسانوں کا طرز زندگی بھی بدل دیا

یہ دوپہرکی سخت گرمی کا وقت تھا،  ایک شخس نارنجی جوگہ پہنے بڑی تیزی سے جارہاتھا، یہ کوئی اورنہیں بلکہ عمرکوٹ کے ایک چھوٹے سے علاقے کا استاد مصری جوگی تھا جو تیزی سے اس لیے جا رہا تھا کیوں کہ اسی علاقے میں موجود چھوٹے مندر میں اس کے طالب علم اس کا انتظارکررہے تھے۔

استاد نے جہاں نارنجی جوگہ پہن رکھا تھا وہیں ان کے کانوں میں بڑی بالیوں کو دیکھا جاسکتا تھا، احاطے میں موجود بچوں کے گروپ کے لیے کوئی ڈیسک یا بلیک بورڈ نہیں تھا اور ہر ایک زمین پر بیٹھا اپنی کلاس شروع ہونے کا منتظر تھا۔

ایک دم استاد مصری جوگی نے دو پٹاریاں نکالیں جن کے اندر دو بلیک کوبرا سو رہے تھے جو آہستہ آہستہ بیدار ہونے لگے، استاد نے اپنی بین اپنے پہلو سے لگا رکھی تھی اور پھر انہوں نے بھیڑ کی پائپ جیسی ایک خشک ہڈی اور پانی سے بھرا ایک پیتل کا لوٹا اٹھایا، انہوں نے ایک پٹاری کو کھولا اور ایک کوبرا کو باہر نکال کر اس کا سر اپنے ایک ہاتھ سے پکڑ کر کھولا،  خشک ہڈی کو اس میں داخل کیا اور پھر استاد نے لوٹے سے سانپ کے منہ میں پانی بھرنا شروع کردیا۔

استاد مصری نے طالب علموں کے گروپ کے سامنے وضاحت کی کہ جنگلوں میں سانپ اپنی خوراک خود حاصل کرلیتے ہیں مگر جب وہ ہماری تحویل میں ہوتے ہیں تو ہم انہیں دودھ اور پانی اس طریقے سے پلاتے ہیں۔

اپنے طالب علموں میں استاد کی حیثیت سے معروف استاد مصری کالونی میں رہائش پزیراپنے قبیلے کے بھی قائد ہیں، اس طرح کے سبق کا انعقاد روزانہ کی بنیاد پر نہیں ہوتا بلکہ کبھی کبھار استاد کی جانب سے بچوں سے وقت طلب کیا جاتا ہے تاکہ انہیں سانپ کو بس میں کرنے کے کچھ طریقے سکھائے جا سکیں جوہرجوگی کے لیے جاننا لازمی ہے۔

تربیت کے دوران کچھ حیران کردینے والے لمحات بھی آتے ہیں، جیسے استاد نے بچوں کے گروپ کے سامنے سانپ کی کینچلی (اتری ہوئی کھال) پیش کی جو کہ گرمیوں میں سخت درجہ حرارت کے باعث اتری تھی اور ایسے ہی کبھی کوئی جوگی کالونی کا نوجوان ناگن ڈانس سیکھ رہا ہوتا ہے۔

مذکورہ کالونی میں کسی قسم کے معمول کا تصور تک نہیں، یہ سپیروں کا گھر جوگی دارو ہے جو کبھی عمر کوٹ شہر سے ڈیڑھ کلو میٹردور واقع تھا، عمر کوٹ کی آبادی پھیلنے اور نئی رہائشی اسکیموں کے قیام کے بعد اب یہ جوگی دارو بھی شہر کے اندر آگیا ہے۔

یہاں ہر گھر میں کم از کم ایک سیاہ ہندوستانی کوبرا موجود ہے مگر بیشر افراد کے پاس کوبرا، کرایت اور وائپر جسے سانپ موجود ہیں، جنہیں مقامی طور پر لنڈی بلا کہا جاتا ہے، کسی بھی سانپ کے زہریلے دانت نکالے نہیں گئے مگر بچے انہیں کھلونا سمجھ کر کھیلتے ہیں۔

استاد مصری جوگی نے بتایا کہ اس کی وجہ جوگیوں اور ان کے ساتھ رہنے والے سانپوں کے درمیان ایک خاص تعلق قائم ہوجانا ہے۔

استاد مصری نے ایک عجیب دعویٰ کیا کہ ایک سانپ کسی جوگی بچے کو ڈنک نہیں مار سکتا اوراگر وہ ایسا کرتا بھی ہے تو بھی وہ ہمارے بچے کو نقصان نہیں پہنچاتا کیونکہ ہم لوگ سانپ کے زہر کے تریاق کا ایک قطرہ پہلی غذا کے ساتھ ہی نومولود کو دے دیتے ہیں، جس سے ان کے اندر سانپ کے زہر کے خلاف پوری زندگی کے لیے مدافعتی طاقت پیدا ہوجاتا ہے۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ خواتین جوگی عام طور سانپوں کا کھیل نہیں کھیلتیں بلکہ وہ پامسٹ یا دست شناس ہوتی ہیں جو گھر گھر جا کر قسمت کا حال جاننے میں دلچسپی رکھنے والوں کو اپنی خدمات فراہم کرتی ہیں، علاوہ ازیں وہ کانوں کی صفائی کرکے بھی پیسے کماتی ہیں، یہ کام بھی شہر میں مارکیٹ رکھتا ہے۔

ایسے افراد جو اب بھی اپنے آبائی پیشے سے جڑے ہوئے ہیں، ان کو استاد مصری جوگی کی جانب سے سانپوں کو مسحور کرنے کی کلاس کی پیشکش کی جاتی ہے، اس طرح نہ صرف یہ تاریخی ہنر خود کو محفوظ رکھے ہوئے ہے بلکہ استاد کے مطابق یہ وہ  لازمی ہنر ہے جو ان کے بالغ ہونے کے بعد کام آتا ہے۔

بچے اور بچیاں سانپوں اور دیگر حشرات سے ایسے کھیلتے ہیں جیسے وہ کھلونے ہوں، خود کو "اصل جوگی” ثابت کرنے کے لیے کالونی میں بیشتر افراد اپنے پاس متعدد چیزیں رکھتے ہیں جن کے بارے میں مانا جاتا ہے کہ وہ جادوئی اثرات رکھتے ہیں۔

اس حوالے استاد مصری وضاحت کرتے ہیں، ایسی تین اشیاء ہیں جو جادوئی اثرات رکھتی ہیں، منکا، گیدڑ سنگھی اور ہاتھا جوڑی، ان کی خاصیتوں کے پیش نظر ہم انہیں بہت مددگار تصور کرتے ہیں اور اکثر اپنے پاس رکھتے ہیں اور انہیں اپنی بیٹیوں کو شادی کے وقت بطور جہیز دینے کی کوشش کرتے ہیں۔

منکا ایک سیاہ رنگ کے پتھر جیسا دانہ ہوتا ہے جس کے بارے میں جوگیوں کا دعویٰ ہے کہ یہ درحقیقت کسی سانپ کے سر کے اندر سے نکالا گیا ہے، گیدڑ سنگھی ایک ایسے خاص گیدڑ کا سینگ ہوتا ہے، زیادہ تر سندھی جوگی کیرتھر، بھٹ جبل، دادو کی پہاڑیوں اور سندھ کے ضلع جامشورو سمیت بلوچستان کے کوہ سلیمان کے پہاڑی سلسلے میں جا کر قیمتی گیدڑ سنگھی کی تلاش کرتے ہیں، ہاتھا جوڑی ایک خاص پودے کی جڑ ہوتی ہے جو کہ کسی بند مٹھی والے انسانی ہاتھ جیسی شکل کی ہوتی ہے۔

جوگیوں کا خانہ بدوش قبیلہ اپنے بیماروں کو اکثر ہسپتال نہیں لے جاتا بلکہ بیشترروایتی طریقہ نسخوں اورعلاج پر انحصار کرتا ہے، مقدس الفاظ کے کاغذ اور سیاہ دوڑی میں بندھے تعویز کو متعدد امراض کا بہترین علاج تصور کیا جاتا ہے۔

کالونی کے ایک بزرگ رہائشی دھرمون جوگی نے شکایت کی کہ سندھ حکومت کی جانب سے جوگی دڑو کے سپیروں کو زمین الاٹ کیے چار دہائیوں سے زائد عرصہ گزر چکا ہے مگر آج بھی کالونی میں بنیادی سہولیات دستیاب نہیں، یہاں نکاسی آب کا کوئی مناسب نظام نہیں،پانی کی سپلائی نہیں، اسٹریٹ لائٹس اور گلیاں وغیرہ موجود نہیں، ہم حکومت سے ان بنیادی سہولیات کی فراہمی کا مطالبہ کرتے ہیں۔

ان تمام تر مشکلات کے باوجود استاد مصری جوگی بڑے پرعزم ہیں کہ وہ سانپ پکڑنے کے فن کو اس وقت تک مرنے نہیں دیں گے جب تک بچے اسے سیکھنے کے خواہشمند ہی، ۔آپ کو ان صدیوں پرانے سانپ پکڑنے کے فن کو سیکھنے کے لیے پیدائشی جوگی ہونا پڑتا ہے کوئی بھی سیکھ کر جوگی نہیں بن سکتا۔

سندھ میں جوگی یا سپیرے ایک خانہ بدوش برادری ہے، ان میں سے بیشتر پورا سال ایک سے دوسری جگہ روزگار یا سانپ کی تلاش میں گھومتے رہتے ہیں۔ عارضی جوگی بستیاں سندھ بھر میں دیکھی جاسکتی ہیں جیسے ضلع عمر کوٹ کے علاقوں تھر نبی سر اور چیلھ بن، سکھر کا روہڑی، ٹھٹھہ کا جھمپیر اور مالکی جبکہ کراچی کا گڈاپ ٹاﺅن کے علاقے شامل ہیں ۔

ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں تین ہزار سے زاٸد سانپوں کی نسلیں ہیں جبکہ پاکستان میں تقریبا تین سو کے قریب یا اس سے زاٸد ہیں۔ جن میں پندرہ فی صد زہریلے ہیں باقی 176 فی صد اقسام سانپوں کی بے ضررہیں۔

پاکستان کے خشکی، پہاڑی اورمیدانی علاقوں میں چاراقسام کے انتہاٸی زہریلے سانپ جن میں کورایار، سنچگور، کالاناگ جس کوکوبرابھی کہتے ہیں اورجلیبیہ شامل ہیں جس کے ڈسنے سے انسان کی فوری موت ہوجاتی ہے ۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ عمر کوٹ کی جوگی کالونی کا قیام ایک پلاٹ پر عمل میں آیا جو ان جوگیوں کو سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے الاٹ کیا مگر اب جوگی داو میں ان خانہ بدوشوں کے مستقل رہائشی گھر ہیں اور استاد مصری بتاتے ہیں ستر کی دہائی کے آخر میں ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت میں ہماری برادری کی ایک لڑکی اغوا ہوگئی، ہم نے اس وقت کے ایم این اے رانا چندر سنگھ سے مدد کے لیے رابطہ کیا، انہوں نے لڑکی کو بازیاب کروایا اور بھٹو سے ہمارے لیے زمین کی درخواست کی، اس وقت سے ہم یہاں رہ رہے ہیں۔

اس کالونی میں سو کے لگ بھگ خاندان آباد ہیں، کالونی کے بیشتر گھر کسی ترتیب کے بجائے عجیب انداز سے تعمیر کیے گیے ہیں،  کچھ گھر تو درحقیقت عارضی جھونپڑیاں ہیں جبکہ دیگر سیمنٹ سے بنے گھروں میں چار دیواری ہی نہیں، اسی طرح یہاں گلیوں کا تصور تک موجود نہیں۔

کالونی کے ہر گھرمیں چھ سے آٹھ بہن بھائی ہیں، ہر بچہ اپنے بالوں کا رنگ سیاہ سے گولڈن ہوتے دیکھتا ہے جو ان کے اندر پروٹین کی شدید کمی کی تصدیق کرتا ہے، خواتین سونے و چاندی کے پرانے انداز کے زیورات پہنتی ہیں اور لگ بھگ ہر خاتون کی کہنی، گردن یا ہاتھوں پر روایتی ٹیٹوز موجود ہوتے ہیں، برادری کی کم سن بچیوں کے جسموں پر یہ ٹیٹوز کم عمری میں ہی بنا دیئے جاتے ہیں۔

ماضی میں سندھی جوگیوں میں ہندو اور مسلمان دونوں شامل ہوتے تھے مگر وقت گزرنے کے ساتھ بیشتر مسلمان جوگیوں نے سانپوں کو پکڑنے کا آبائی پیشہ ترک کردیا، تعلیم حاصل کی اور سرکاری و نجی ملازمتیں حاصل کرلں، کچھ مسلمان جوگی اب بھی موجود ہیں مگر ان کی تعداد بہت کم ہے، یہ رجحان ہندو جوگیوں کو بھی اپنی گرفت میں لیتا نظر آتا ہے۔

ماحولیاتی تنزل، بڑھتی آبادی، جنگلات کی کٹائی اور جنگی حیات میں ناپسندیدہ انسانی مداخلت کے باعث یہ جوگی ناگ یا سانپ کواس طرح آسانی سے ڈھونڈ نہیں پاتے جیسے پہلے پکڑ لیتے تھے، وقت گزرنے کے ساتھ لوگوں کے اندر بھی سانپوں اور سپیروں میں دلچسپی کم ہوئی ہے جس کے نتیجے میں جوگیوں کی نئی نسل بھی اپنے آبائی پیشے کو ترک کرنے لگی ہے۔

مشہورکالم نگار اورسانپوں پرریسرچ کرنے والےثناءالله خان اپنے ایک رسرچ کالم میں لکھتے ہیں کہ سانپوں کی قلت کی سب سے بڑی وجہ اسمگنگ کا دھندا ہے جو اپنے عروج پرہے، سانپوں کے شکاری روزانہ بڑی تعداد میں سانپ پکڑ کرملک اوربیرون ملک اسمگل کرتے ہیں۔

ان کے مطابق یہ دھندا ٹھٹھہ میں بہت عروج پرہے، مکلی اورٹھٹھہ کی پہاڑی اورساحلی پٹی پر بڑی تعداد میں نایاب اقسام کے سانپ پاٸے جاتے ہیں، جن میں کوبرا، واسینگ، واٸپر،کھپرا، لنڈی، سنگچوراوردیگر شامل ہیں، مکلی کے جوگی شکاری ہرماہ ایک ہزارسے پندرہ سوسانپ پکڑ کرملک اوربیرون ملک اسمگل کرتے ہیں ۔

ماہرماحولیات اورآٸی یو سی کے ندیم بجیرسے جب اس حوالے سے پوچھا  گیا توانہوں نے سانپ کے اقسام کی ناپید کی دو وجوہات بتائیں، جس میں اسمگنگ کرنا اورماحولیاتی تبدیلی کے باعث ایکوسٹسم میں تبدیلی آنے سے سانپوں کی قلت ہے، انہوں نے مزید بتایا کہ 2 یا 3 سال تک خشک سالی رہے گی تو کچھ کیڑے مکوڑے بھی ختم ہوتے جاٸیں گے جوسانپ کی خوراک میں شامل ہوتے ہیں اگر وہ ختم ہورہے ہیں تو ماحولیاتی تبدیلی کے باعث ظاہرہے سانپ کی اقسام بھی ختم ہوتی جاٸے گی ۔

انہوں نے بتایا کہ کچھ جڑی بوٹیاں جس کوسانپ کھاتے ہیں تووہ بھی ایکوسٹسم کے باعث ختم ہورہی ہیں تو سانپوں کے کم ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے، اس کے علاوہ ماضی میں رینگنے والے جانوروں کی اسمگلنگ اور باہر کی مارکیٹوں میں فروخت کرنے کے باعث سانپوں کی مختلف اقسام ختم ہوتی جارہی ہیں جس وجہ سے وہ جوگیوں کومشکل سے مل رہے ہیں۔

 

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.