آلودگی کس طرح آبی مخلوق اور انسانی زندگی پر اثر انداز ہو رہی ہے؟

ماریہ اسماعیل

کراچی کے ابراہیم حیدری، یونس آباد، ہاکس بے کے قریب کلکا گوٹھ اور شمس جزیرہ سمیت دیگرعلاقے ایسے ہیں جہاں مچھیروں کی آبادی کئی صدیوں آبادی ہیں جو اپنے آباٸی پیشے کواپناتے ہوٸے زندگی  گزاررہے ہیں۔

لیکن اب مچھیروں کےان قدیم ترین گاؤں کے باسیوں کی قسمت ان کا ساتھ چھوڑ رہی ہے، کیوں کہ انہیں پاکستان کے سب سے بڑے شہرکی ہردم بڑھتی آلودگی کا سامنا ہے، انہیں کھلے سمندر میں جانے اور مچھلیوں  کی تلاش میں کئی دن گزارنے کے لیے طاقت ور موٹر بوٹس، پہلے سے بڑے جالوں اورزائد افراد کی ضرورت پڑتی ہے، کیوں کہ کوڑاکرکٹ اور غلاظت سمندر میں ڈالنے سے مچھلیاں بری طرح متاثر ہو رہی ہیں۔

ہاکس بے کے قریب کلکا پیرگوٹھ کے ماہی گیروں کی تنظیم کے رہنما محمد رمضان نے بتایا کہ یہاں پر90 فی صد آبادی ماہی گیروں کی ہے، انہوں نے کہا کہ ہمارے آباٶاجداد یہ کام کرتے تھے اب ہم بھی یہ کام کرتے ہیں۔

محمد رمضان کے مطابق کچھ سال قبل ہم روزانہ مچھلیاں پکڑ کرروزانہ  15 سے 20 ہزارروپے کماتے تھے مگراس وقت کراچی کے کارخانوں کے گندے پانی نے سمندر کے اندر تباہی مچادی ہے اور مچھلیوں کی نایاب نسل ختم ہوتی جارہی ہے۔

ان کے مطابق منیگروز کے درخت جومچھلیوں کی افزاٸش میں اہم کردار ادا کرتے تھے انہیں بھی کاٹ کر ختم کردیا گیا ہے، محمدرمضان بڑے افسردہ ہوکربتارہے تھے کہ ماہی گیر اس وقت بھوک اور بدحالی کاشکار ہیں، مچھلیاں پکڑنے کے لیے سمندر میں دورتک جانا پڑتا ہے لیکن اس کے باوجود ہمیں اتناروزگار نہیں ملتا جتنا پہلے ملتا تھا۔

نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں سمندروں میں آلودگی کے باعث آبی حیات تیزی سے مررہی ہیں، سمندری مخلوق کی متعدد اقسام نایاب ہوگئی ہیں، سمندروں میں بہایا جانے والا پلاسٹک جانور خود اور اپنے بچوں کو کھلاتے ہیں جس سے ان کی موت ہو جاتی ہے اور ہر سال کئی سو بحری پرندے، مچھلیاں،  جن میں لوٸر,تارلی, پچک,چاکو,کارڑی, دوتھر,ہیرا اور سوہا شامل ہیں مر جاتی ہیں،  جبکہ کچھووں سمیت دیگر مخلوق بھی پلاسٹک کھانے سے مر جاتے ہے۔

ایک اندازے کے مطابق تقریباً 43 فی صد بحری جانوروں، 86 فی صد سمندری کچھووں اور 44 فی صد سمندری پرندوں کے پیٹ میں پلاسٹک پایا جاتا ہے یا ان کے گرد لپٹا ہوتا ہے۔

ماحولیات سمیت دیگر منصوبوں پرکام کرنے والی تنظیم آکسفیم کی سارہ خان نے بتایا کہ سمندرکے کنارے گندگی کے ذمہ دارہم خود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سمندرمیں کراچی کی صنعتوں کا گندا پانی بغیر ٹریمنٹ کے چھوڑدیا جاتا ہے جس کی وجہ سے مچھلیوں کی نایاب نسل معدوم ہوگٸی ہے جس سے ماہی گیروں کے روزگار متاثرہورہے ہیں۔

پاکستان کا ساحل سمندر 1050 کلو میٹر پر پھیلا ہوا ہے،  اس میں 700 کلو میٹر کا رقبہ بلوچستان کے ساتھ جبکہ 350 کلو میٹر کی حدود سندھ کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔

پاکستان ہر سال سمندری سے پکڑی جانے والی کروڑوں روپے کی آبی حیات بیرون ممالک فروخت کرتا ہے، اس کے علاوہ 40 لاکھ سے زائد افراد ماہی گیری کے پیشے سے منسلک ہیں اور سمندروں، جھیلوں و دریاؤں سے مچھلیاں پکڑ کر اپنا گزر بسر کرتے ہیں مگر اب اس میں تیزی سے کمی آ رہی ہے جس کی وجہ آبی آلودگی ہے۔

ماحولیات پرکام کرنے والے سینیئر صحافی امرگورڑو نے اپنے خیالات کا اظہارکچھ اس طرح کیا کہ کراچی میں فیکٹریوں کے 5 زون بنے ہوٸے ہیں، جس میں ساٸٹ ایریا اور کورنگی سمیت دیگر شامل ہیں۔

امرگورڑونے مزید کہا کہ اس وقت کراچی کے اندر 10 ہزارفیکٹریاں اورصعنتیں کام کررہی ہیں جن کا گندا پانی سمندرمیں نالوں کے ذریعے جاتا ہے جس سے سمندری آلودگی پیدا ہو رہی ہے اور اسی وجہ سے مچھلیوں کی نایاب اقسام ناپید ہورہی ہیں ۔

امرگورڑوکے مطابق ہمارے سولڈویسٹ کاپانی بھی بغیر ٹریمنٹ کے سمندرمیں داخل کیا جاتا ہے جس طرح ابراہیم حیدری میں چینٹریاں بناٸی گٸی ہیں۔

ابراہیم حیدری کوسٹل میڈیا سینٹر کے انچارج سید کمال شاھ کا کہنا ہے کہ سمندری آلودگی اورفشنگ ٹراٸرز کے ذریعی مچھلیوں کی نسل کشی ہورہی ہے۔

انہوں بتایا کہ پہلے ایک لانچ میں ماہی گیر ایک وقت میں 20 ہزارکلومچھلی لے کرآتے تھے مگر اب بڑی مشکل سے 5 ہزارمچھلیاں لاٸی جاتی ہیں جبکہ ابراہیم حیدری کے مچھیروں کی گودی سے چند ہی گز دور کوڑے کے ڈھیر ساحل پر ڈال دیے گئے ہیں اور گاؤں کے بالکل پاس ایک بڑا گندا نالا ہے، اس سے سفید جھاگ کے نیچے دھواں دار سیاہ پانی سمندر میں گرتا ہے، یہ زہریلا سیال شہر کی پیداوار ہے۔

صوبہ سندھ کے دارالحکومت اور ملک کے معاشی حب کراچی کے پانچ صنعتی علاقوں میں دس ہزارصنعتی یونٹ ہیں جو ٹیکسٹائل سے لے کر کیمیکلز اور پینٹس تک سب کچھ بناتے ہیں،  کیمیکل فضلے کے لحاظ سے سب سے زیادہ آلودگی کا باعث چمڑا رنگنے کے کارخانے ہیں۔

حکومتی تخمینہ کے مطابق کراچی تقریباً پانچ سو ملین گیلن روزانہ کے حساب سے گندا پانی پیدا کرتا ہے، جس میں سے تقریباً پانچواں حصہ ان صنعتوں سے جب کہ باقی گھریلو یا بلدیاتی نکاس ہے”تقریباً تمام ترگھریلو یا بلدیاتی اور صنعتی گندا پانی سمندر کا حصہ بننے سے پہلے صاف نہیں ہوتا اور یہ آفت کا باعث ہے کیوں کہ اس سے مچھلی کا شکار ختم ہورہا ہے اور سمندری حیات بھی بری طرح متاثر ہورہی ہے۔

قانون کے مطابق صنعتی اداروں کے مالکان صنعتی فضلے کی صفائی اور گندے پانی کو ماحول کو نقصان پہنچائے بغیر ٹھکانے لگانے کے ذمہ دار ہیں، مگر فیکٹری مالکان کا خیال ان سے مختلف ہے۔”زیادہ تر صنعتیں پانچ یا چھ دہائیاں پہلے قائم ہوئی تھیں اور اب فیکٹریوں میں ٹریٹمنٹ پلانٹس لگانے کی جگہ نہیں ہے۔

حکومت کےپاس صنعتی گندے پانی کو صاف کرنے کا منصوبہ تو ہے مگر اس پر ابھی کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔”کورنگی انڈسٹریل ایریا میں ایک بڑا ٹریٹمنٹ پلانٹ شروع کیا گیا تھا مگر اب وہ کام نہیں کررہا۔

کراچی میں کوڑے کرکٹ کے لیے جگہیں متعین نہیں، اس وجہ سے کوڑا کرکٹ یا ٹھوس فضلہ، جس میں پلاسٹک بھی شامل ہوتا ہے، سمندر میں براہ راست یا بارشی نالوں میں پھینک دیا جاتا ہے جومون سون کے سیلاب کے بعد بالآخر سمندر میں جا گرتا ہے۔

تحفظ ماحولیات کے صوبائی ادارے سندھ اینوارمنٹل پروٹیکشن ایجنسی (سیپا) کے اعداد وشمار کے مطابق بہت سا فضلہ مویشیوں کی بہت بڑی مقامی کالونی سے بھی آتا ہے، جس میں دس لاکھ کے قریب جانور ہیں جن میں گائے اور بھینسیں شامل ہیں، یہاں پیدا ہونے والا فضلہ بھی سمندر ہی میں ڈالا جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق سمندری و نہری آلودگی کے باعث ملک میں کھکا اور بچھوال نسل کی مچھلیاں نایاب ہو گئی ہیں، گندے پانی کی خطیر مقدار موجود ہونے کی وجہ سے یہ اقسام تیزی سے مر رہی ہیں۔

ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ مچھلیوں کی نسلوں کو بچانے اور ان کی پرورش کے لئے فیکٹریوں کے خلاف کارروائی کرنا ہو گی جبکہ نہری و سمندری آلودگی کو روکنے کے لئے قانون بنانے کی ضرورت ہے۔

نہری آلودگی کی تازہ مثال یہ ہے کہ حال ہی میں دریائے سندھ سے 25 سے 30 نایاب ڈولفن مردہ حالت میں ملی ہیں، یہ ڈولفنز روہڑی کے نزدیک دریائے سندھ کے کنارے سے محکمہ وائلڈ لائف کو ملیں، اس کے علاوہ کراچی کے ساحل سی ویوپر بڑی تعداد میں مچھلیاں اور دیگر سمندری مخلوق مردہ حالت میں پاٸے جاتی ہے۔

ڈبلیو ڈبلیوایف کے ٹیکنیکل ایڈواٸزرمعظم خان سے جب اس حوالے سے پوچھا گیا توانہوں نے  بتایا کہ مون سون کے خاتمے کے بعد سمندر کے پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے آبی حیات ساحل پرآجاتی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ مردہ مچھلیوں کاساحل پرآنا ماحولیاتی آلودگی کا سبب نہیں ہوتی ہے یہ ہرسال کا معمول ہے تاہم اس کی بروقت صفاٸی ناگزیز ہے۔

اقوام متحدہ کے ماحولیاتی ادارے کے مطابق بحری آلودگی کی 80 فیصد وجہ زمینی ذرائع (دریاؤں کی آلودگی، شہروں اور صنعتوں سے خارج ہوتا گندا پانی وغیرہ) پے جب کہ دس فیصد موسمیاتی اوردس فیصد بحری ذرائع ہیں۔

رپورٹ کے مطابق روزانہ کراچی اور لاہور کا پانچ سوملین گیلن اور صنعتوں سے خارج ہونے والا 97 فیصد تک گندا پانی نالوں اور دریاؤں کے ذریعے سمندر کا حصہ بن رہا ہے۔

کراچی کا 82 فیصد گندا پانی صاف کئے بغیر ہی سمندر کی نذر کیا جارہا ہے، کراچی کی صعنتوں اوررہاٸشی علاقوں کا استعمال شدہ نصف سے زاٸد پانی ملیراورلیاری ندیوں کے ذریعے سمندر میں جاتاہے، حالانکہ قواعد کی روسے گھریلواورصعنتوں کے استعمال شدہ پانی کوٹریٹمنٹ پلانٹ کے ذریعے دوبارہ استعمال کے قابل بنایا جاسکتا ہے جس سے پانی کی قلت بھی دورہوسکتی ہے۔

انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر اینڈ نیچرل ریسورسز(آئی یو سی این) پاکستان سے وابستہ معروف ماہر ماحولیات کا کہنا ہے کہ آلودگی نے مچھلی کے شکار اورسمندری حیات کو بری طرح متاثر کیا ہے۔”مقامی افراد کو بعض اوقات سبز کچھوے اورفیل ماہی (سمندری میمل) ایسے جانور بھی مردہ حالت میں ساحل کے ساتھ ساتھ ملتے ہیں، جن کی نسلیں معدوم ہورہی ہیں۔

ان کی موت آلودگی کے باعث ہوتی ہے، خاص طور پر پلاسٹک کے فضلے کے سمندر میں پھینکنے سے اور صنعتی فضلے کے سمندر میں گرنے سے مچھلیوں کی بہت سی اقسام اب بحیرہ عرب میں نایاب ہو چکیں ہیں۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.