سندھ میں بحریہ ٹاؤن سمیت تعمیر ہونے والے غیرقانونی منصوبوں پر تحفظات کا اظہار

ورلڈ سندھی کانگریس کے رہنماء ڈاکٹر لکھو لوہانونے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق سے متعلق کونسل کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں پاکستان کے صوبہ سندھ کی کئی ایکڑ زمین پر غیر قانونی قبضے پر تحفظات ہیں، جو کہ سندھ کے شہریوں کی ملکیت ہے۔انہوں نے کہا کہ بحریہ ٹاؤن کے خلاف پاکستان کی سپریم کورٹ نے 220 ہزار ایکڑ زمین پر قبضے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے صرف 3 بلین کا جرمانہ کیا، مگر اس جرمانے کی رقم بھی حقیقی متاثرین تک نہیں پہنچائی جاسکی ۔
ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بحریہ ٹاؤن کو لائنسس مل گیا اور انہوں نے سالوں پرانی آبادیوں کو بے دخل کرکے کراچی کے ایکو سسٹم کو نقصان پہنچایا ہے۔انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے اس قسم کی ایک اور اسکیم سیکورٹی اداروں کے زیر کنٹرول قیمتی زمین پر بنائی جارہی ہے، یہ اسکیم ہزاروں ایکٹر ساحلی پٹی اور درجنوں سندھی جزیروں پر بنائی جائے گی، جس میں ڈنگی اور بنڈار جزیرے شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ انہیں تحفظات ہیں کہ یہ منصوبے سندھیوں کو اپنی ہی زمین پر اقلیت میں بدلنے کے لیئے بنائے جارہے ہیں اور سندھ کے عوام اپنی زمین پر اس قبضے کو مسترد کرتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ وہ کونسل سے مطالبہ کرتے ہیں کہ پاکستانی حکومت کو زمینوں پر غیر قانونی قبضے سے روکنے کے لیئے دباؤ ڈالا جائے، کیونکہ یہ عمل اقوام متحدہ کے اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.