سانحہ بلدیہ ٹاؤن کو 8 برس بیت گئے،متاثرین آج بھی انصاف کے منتظر

آج سے آٹھ سال پہلے کراچی کے علاقے بلدیہ ٹاؤن کی ٹیکسٹائل فیکٹری میں لگنے والی آگ نے ایک ساتھ دو سو انسٹھ گھر اجاڑدیے۔۔۔کسی ماں کی گود خالی ہوئی تو کسی بیوی کا سہاگ اجڑ گیا ، کسی کے گھر کا ایک ہی کمانے والا پورے گھرکو اجاڑکرچلا گیا ۔۔

11ستمبرسال 2012 کو حب ریور روڈ پر واقع علی انٹر پرائزز میں بھڑک والی خطرناک آگ میں 259 انسانوں کی جانیں دیکھتے ہی دیکھتے جل کر خاکستر ہوگئیں۔۔

سیکڑوں ماؤں ، بیویوں اور بہنوں کی بے بسی کی انتہا تھی کہ اپنے پیاروں کو اپنی آنکھوں کے سامنے جلتا دیکھ کر بھی کچھ کر نہیں پارہی تھیں ۔۔ وہ مائیں، بیویاں اور بہنیں آٹھ سال گذرنے کے باوجود وہ کرب ،وہ درد اوروہ تکلیف اب بھی نہیں بھلا سکیں۔۔ان کے دل آج بھی اپنے پیاروں کی وہ تکلیف محسوس کررہے ہیں ۔۔اگر احساس نہیں تو صرف وقت کے حکمرانوں کو نہیں ۔۔جو آٹھ سال بعد بھی ان متاثرین کو انصاف نہیں دلا سکے۔۔۔

واقعے کا مقدمہ تو درج ہوا ، تحقیقاتی کمیٹیاں بھی بنیں اور جوڈیشل کمیشن بھی قائم ہوا مگر تاحال کوئی نتیجہ نہیں مل سکا ۔

فیکٹری مالکان 2014 میں عدالتی اجازت کے بعد ملک چھوڑکردبئی چلےگئے۔ 2015 میں ڈی آئی جی سلطان خواجہ کی سربراہی میں جے آئی ٹی بنائی گئی جس نے دبئی میں جاکر فیکٹری مالکان سے تفتیش کی جنہوں نے  اقرار کیا کہ ان سے20 کروڑ روپے بھتہ مانگا گیا تھا۔

2016  میں جے آئی ٹی پر چالان ہوا۔ اسی سال دسمبر میں رحمان بھولا کو بینکاک سے گرفتارکیا گیا۔ کیس کا مقدمہ پہلے سٹی کورٹ میں چلا اورپھر سپریم کورٹ کی ہدایات پرکیس کو انسداد دہشتگردی کی عدالت میں چلایا گیا۔ مذکورہ مقدمے میں ایم کیوایم کارکن زبیر چریا اوردیگر ملزمان گرفتار ہیں جبکہ رئوف صدیقی ضمانت پر ہیں۔بلدیہ ٹاؤن میں ٹیکسٹائل فیکٹری سانحہ کی تحقیقات میں اب تک 400 گواہوں کے بیانات قلمبند کیے جا چکے ہیں جبکہ تین تفتیشی افسران بھی تبدیل ہوچکے ہیں۔ 4 سیشن ججز نے سماعت سے معذرت کرلی تھی جبکہ 6 سرکاری وکلا نے دھمکیوں کے باعث مقدمہ چھوڑ دیا تھا۔جنوری 2019 میں کیس کے مرکزی ملزمان عبدالرحمان بھولا اور زبیر چریا فیکٹری میں آگ لگانے کے بیان سے مکر گئے۔2  ستمبر2020 کو گواہان کے بیانات اور وکلا کے دلائل مکمل ہونے پر دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے مقدمہ کا فیصلہ محفوظ کرلیا جو17 ستمبرکوسنایا جائیگا۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.