قائد کے پاکستان میں قائد کے اصول کہاں؟

صدام ساگر

آج وطن عزیز ”پاکستان“ کی آزادی کا دن ہے. ہر طرف جشن کا سماں ہے، جہاں دیکہو ”اس پرچم کے ساٸے تلے ہم ایک ہیں، ہم ایک ہیں“ پہ طبقے بج رہے ہیں. آج پاکستان آزاد ہوٸے کو تہتر برس ہو چکے ہیں، ان تہتر برسوں نے ہمیں کیا دیا ہے کیا لیا ہے، کیا ہوا کیا نہیں ہوا؟ ان سوالوں سے شاید ہی کوٸی نادان ناواقف ہو. اگر یہ کہا جائے کہ ”جو ہوا وہ بہت ہوا اور ہاں خوب ہوا، اور جو نہ ہوا وہ اچھا ہوا“، تو میرے خیال سے غلط نہیں ہوگا. اس ستم کو شاید اتباق ابرک ہی صحیح معنیٰ میں جان چکے ہیں. خوب کہا کہ:

ستم یہ ہے کہ تہتر برس کا ہو کے بھی،

یہ بچہ پاٶں پہ ہم نے کہڑا ہونے نہیں دیا!

آج پیارے وطن کا یہ حال رہ گیا ہے کہ خراج تحسین اور عقیدت پیش کرنے والوں کو دیکھ کر بیشتر لوگوں کے روح کانپ جاتے ہوں گٸے. کیوں کہ آج قاٸد کے پاکستان میں قاٸد کے ہی اصول گمشدہ ہیں! سچ تو یہ ہے کہ یہ حال دیکھ کر شک ہونے لگتا کہ یہ قاٸد والا پاکستان تو نہیں ہے. قاٸد کے پاکستان کا تو بنیاد اصولوں پہ تھا.

قاٸد کا کہنا تو یہ تھا کہ پاکستان میں کسی ایک طبقے کی اجارداری نہیں ہوگی، یہ ملک امیروں، جاگیرداروں اور سرماٸیداروں کی لوٹ کھسوٹ کے لیے نہیں بنایا گیا، یہ ملک غریبوں کا ہے اور انہوں کی قربانیوں سے آزاد ہوا ہے اور انہیں یہ حق حاصل ہوگا کہ وہ ملک پر حکمرانی کریں، مگر یہ ہو نہ سکا، اب یہ عالم ہے کہ غریب اپنے وجود کے بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں، انہوں کی حکمرانی تو دور کی بات!

قاٸد کے نزدیک پاکستاں کا قیام اقلیتوں کے تحفظ بغیر ناممکن تھا مگر آج اقلیتوں کے لیے اپنی ہی زمین تنگ کی جا چکی ہے، ان کی نابالغ لڑکیاں محفوظ نہیں، انہیں زبردستی اغوا کیا جا رہا ہے، حالانکہ اقلیتوں کو ملکی آٸیں کے لحاظ سے وہ تمام حقوق حاصل ہیں جس کے بنیاد پر وہ اپنی زندگی اپنے طرز عمل اور خیالات کے مطابق گذار سکتے ہیں لیکن ستم یہ ہے کہ ان کے بنیادی انسانی حقوق کو سلب اور غضب کیا جا رہا ہے! مجال ہے جو کوٸی ان کے حق میں بات کرے، ان کی کوٸی چیخ و پکار سنے! بات تو یہ بھی ہے کہ وہ مظلوم زبان کاٹے ہوٸے لوگ اُمیدیں وابسطا کریں تو کس سے کریں؟

ویسے تو قیام پاکستان میں اقلیتوں نے بھی کردار ادا کیا اور اپنے حصے کی جدوجہد کی لیکن آج وہ تمام کردار کسی کو یاد نہیں! یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ وطن عزیز کے پرچم کا سفید رنگ اقلیتوں کی نماٸندگی کرتا ہے مگر ظلم بڑھنے بعد قومی پرچم کے سفید رنگ کا تناسب کم ہوتا جا رہا ہے! يه وقت سوچنے کا ہے اور ہمیں سوچنا چاہیے کہ آخر کیوں قومی پرچم میں سفید رنگ کا تناسب کم ہوتا جا رہا ہے؟

ہمیں تو یہ بھی سوچنا ہوگا کہ ملکی آٸین کے طرف سے حاصل ہونے والے تمام حقوق کے باوجود اسلام اباد میں مندر کی تعمیرات میں کيون رکاوٹیں کہڑیں کیے جا رہیں ہیں؟ قاٸد نے تو یہ بھی کہا تھا نہ کہ تمام شہریوں کو مساوی حقوق حاصل ہونے چاہیے اور قوم و ملت کو اپنے مذہب و رواج اور اظہار کی آزادی حاصل ہو. ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا آخر کیوں اظھار پہ پابندی ہے؟ زبان بندی کیوں ہو رے ہے؟ آزادی جو کہ ایک احساس کا نام ہے، لیکن ہم اس احساس سے محروم ہیں، آخر کیوں؟ آزادی جو کہ ایک سوچ کا نام ہے، لیکن ہماری سوچنے پہ اعتراضات، سوال کرنے پہ بھی خدشات، آخر کیوں؟

المیہ یہ ہے کہ ہمیں اظہار کا حق نہیں، اپنے راٸے قاٸم کرنا ویسے بھی جرم مانا جاتا ہے، ظلم و جبر کے خلاف اٹھانا جرم تو احتجاج کرنا بھی گناھ کبیرا، اتنی حد تک اپنے هيروز کی سالگرہ منانے کا بھی حق بھی چہین لیا گیا ہے، اگر کسی صورت میں آواز اٹہایا جاتا ہے تو وہ يا تو لاپتا گیا جاتا ہے يا، غدار اور ”را“ کا ایجنٹ ٹھرتا ہے! آخر یہ کیسی آزادی ہے کہ قاٸد کی محنت سے ملنے والی ہماری آزادی پہ حیران دنیا آج بھی آزادی کے تہتر سالا بعد بھی ہمیں حیرت سے دیکہتی ہے؟

کہنے کی حد تک یہ بات درست ہے کہ آج ”آزادی کا دن“ کا ہے، لیکن یہ بات الگ ہے کہ آج بھی وطن عزیز کے کۓ افراد لاپتا ہیں، جن کے لواحقیں آج بھی پریس کلبز پہ دربدر ہو رہے ہیں. تو معصومانہ گذارش یہ ہے کہ اج کے دن ہر سال کی طرح جہاں آپ لوگ جس جوش و خروش، عقیدت و احترام کے ساتھ ایک دن کا بوجھ اٹھا کر پہرتے ہیں تو ساتھ میں ایک اور کوشش کریں کہ اسی عقیدت سے لاپتا کیا گیا قاٸد کا پاکستان اور قاٸد کے اصول ڈھونڈنے میں مدد کریں تو مہربانی ہوگی.

خدا کرے کہ میرے اک بھی ہم وطن کے لیے،

حیات جرم نہ ہو، زندگی وبال نہ ہو.

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.