سارنگ کے رنگ میں کسی استاد کو مت رنگنا

شمس بوزدار

 

گذشتہ دن سندھ کے شہر خیرپور میرس میں پیش آنے والا واقع جس نے انسایت کو شرما کر رکھ دی ۔ ویسے تو یے انسانی زوال کا کوئی نیا واقع نہیں۔ پہلے بھی پنجاب کے شہر قصور میں جنسی درندگی کے ایسے کئی واقعات رونما ہو چکے ہیں ، مگر یے واقع انسانی شعور پر ایک سیاہ دھبہ ہے ۔ اس واقع سے ہر طرف خوف کا عالم ہے ۔ کہ معصوم بچے اب کہیں بھی محفوظ نہیں۔ کیوں کہ اس واقع کا مرکزی کردار سارنگ ایک اسکول ٹیچر ہے ۔ ایک اسکول ٹیچر سارنگ کا کردار بے شرمی اور درنگی کے سوا کچھ نہیں۔ یقینن اسکول ٹیچر کا یے کردار انفرادی ہے مگر معاشرے میں یہی تاثر جائے گا کہ بچے اب درسگاہوں میں بھی محفوظ نہیں۔

بچوں کے ساتھ زیادتی انسانی شعور کی پستی ہے ۔ پھر اس شعور کی پستی کا شکار ننہی زینب کا قاتل عمران ہو یا پھر بچوں سے جنسی زیادتی کرنے والا سارنگ ۔ دونوں میں حیوانگی قدرے یکسان ہے ۔ مگر یہاں سارنگ کا کردار کچھ اور مضحکہ خیز ہے ۔

ایک ایسا شخص جو ماں باپ کی روپ میں پاپ کرتا رہا ۔ پیشے سے ایک استاد کے لئی یے کام شرمناک سے کہیں شرمناک ہے ۔ کیوں کہ اسے استاد سارنگ شر کے نام سے جانا جاتا تھا ۔ اس کا کام کردار سازی تھا مگر اس نے کردارسازی کے برعکس بی شرمی کا مظاہرہ کیا ۔
اب آتے ہیں دوسری پہلو پر جہاں سارنگ کے نام سے جڑے دو اور ناموں کا جس کا تقدس شاید کوئی نہیں جان سکتا ۔ اس میں سے ایک نام استاد ہے ۔ استاد کا درجہ ماں باپ جیسا ہے ۔ اور ان میں خوبیان پیغمبروں والی ہیں۔ میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں۔ یقینن اس کے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں۔ مگر استاد کا کردار بھی انسانیت کو اندھیروں سے نکال کر اجالے میں لانا ہے ۔ انسان کی کردار سازی کرنی ہے ۔

دوسری جنگ عظیم میں جب ہٹلر سے کہا گیا کہ ہماری قیمتی لوگ جنگ میں مارے جا رہے ہیں ۔
تو ہٹلر نے جواب دیا کہ اگر ہو سکے تو اپنے استادذہ کو کہیں چھپا لو ۔ اگر وہ بچ گئے تو یے قیمتی لوگ دوبارہ پیدا ہونگے ۔
غرض کہ استاد وہ اثاثا ہیں جو معاشرتی زندگی کی بنیاد رکھتے ہیں۔ قوموں کی ترقی کی راہ ہموار کرتے ہیں۔ استاد علم کا ذریعا ہیں۔
اگر سارنگ کی انفرادی فعل کو کسی استاد کے ساتھ جوڑا جاتا ہے تو یے معاشرے میں رہنے والے تمام استادذہ کے ساتھ زیادتی ہوگی ۔ اس تاثر سے لوگوں کی دلوں میں استاد کے لئی نفرت پروان چڑہائی جا رہی ہے ۔ جس سے معاشرے کی تباہی ہوگی ۔ اور استاد جیسا عظیم رتبہ ہمیشہ کے لئی دنیا سے اٹھ جائے گا ۔

اس واقعی میں جس دوسری پہلو کا ذکر ہے ۔ وہ سارنگ کی قومیت ہے ۔ یقینن سارنگ نے ایک گھناونا جرم کیا ۔ اور وہ اپنی کیئے کی سزا ضرور بھگتیں گے ۔ مگر شر قبیلے پر جو طنزیہ جملے کسے جا رہے ہیں۔ وہ بھی ایک زیادتی ہے ۔ پاکستان میں لاکھوں شر قبیلے کے لوگ بستے ہیں۔ کسی کی انفرادی فعل کو کسی قبیلے کے خلاف گالی کے طور پر پیش کرنا ، میں اسے اخلاقی فقدان کہوں گا ۔ بیشک مجرم سے آپ کو نفرت ہو ، مجرم ہے بھی قابل نفرت، مگر مجرم کے نام پر کسی قبیلے سے نفرت سوچ سے بالاتر ہے ۔

جب قصور میں ننہی زینب کا واقع رو نما ہوا تو اس واقعے کے مرکزی کردار مجرم عمران کو کیفر کردار تک پہنچایا گیا ۔ تختہ دار پر لٹکا کر عبرت کا نشانا بنایا گیا ۔ یقینن اسے اپنی کئی کی سزا ملی ۔ مگر وہاں مجرم عمران کو عمران کہا گیا ۔ اسے کسی قبیلے سے منسوب نہیں کیا گیا ۔
افسوس یہاں سوشل میڈیا پر کئی ایسے لوگ بیٹھے ہیں۔ جو مسلسل استاد جیسے مقدس پیشے پر لعن تعن جاری رکھے ہوئے ہیں۔ شر قبیلا کئی دنوں سے زیر عتاب ہے ۔ آخر کیوں کسی کی انفرادی فعل کو اجتماعیت کی رنگ دی جا رہی ہے ۔
جب اللہ تبارک وتعالی نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم علیہ السلام کو سجدہ کریں ۔ تمام فرشتوں نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے۔
اللہ پاک نے ابلیس کو فرشتوں کی صف سے نکال دیا ۔ اور وہ مردود اور شیطان ٹہرے۔ اس سے ثابت ہے کہ ابلیس کی انکار پر صرف ابلیس مردود ٹہرے ۔ ان کو اب فرشتوں سے منسوب کرنا گناہ ہوگا ۔

بچوں سے بی حیائی والا کردار سارنگ کا اپنا رنگ ہے ۔اور ان کا انفرادی فعل ہے ۔ اسے اپنے کئی کی سزا ضرور ملے گی ۔ مگر اس رنگ میں استاد جیسے عظیم رتبے کو رنگنا جاہلیت ہوگی ۔
نہ ہی اس رنگ میں ایک قوم کو رنگا جا سکتا ہے ۔ یے سارنگ کے اپنے رنگ ہیں ۔ اس سے کسی استاد کا یا پھر کسی شر کا کوئی تعلق نہیں۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.