ڈگری ڈگری ہوتی ہے

شمس بوزدار

آج مجھے نواب اسلم رئیسانی کا قول یاد آ رہا تھا ۔ جب کچھ سیاستدانوں کی ڈگریاں مشکوک پائی گئیں تو نواب اسلم رئیسانی صاحب نے ایک منتق پیش کی کہ ڈگری ڈگری ہوتی ہے، پھر اصلی ہو یا نکلی۔

مجھے نواب صاحب کی اس بات پر ذرا بھی شک نہیں، کہ ڈگری ڈگری نہیں ہوتی۔ مگر ڈگری دینے والے اور ڈگری لینے والے کا کردار مشکوک ہوتا ہے ۔ اور پھر اس جعلی ڈگری سے کوئی ادارہ بچ نہ سکا۔

چاہے پھر ہمارے قانون ساز ادارے ہوں یا پھر بیوروکریسی ہر جگہ جعلی ڈگری والوں کی بھر مار ہے۔ بس موقع جیسی غنیمت نظر آئے، تو نوازنے والے بھی دیدہ دلیری سے نواز دیتے ہیں۔ اور جن کو نوازہ جاتا ہے وہ بھی پھتر کے خدا بن جاتے ہیں۔ غرض کے دونوں کا کردار بھوکے بھیڑیے جیسا ہوتا ہے ۔

افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے ملک میں کوئی سزا اور جزا کا قانون ہے ہی نہیں۔ قانون کی جال میں صرف کمزور پھس جاتے ہیں ، جس کو اس ملک کا قانون مکڑی کے جالے کی طرح جکڑتا لیتا ہے ۔

قانون سے یاد آیا ، قانون کی للکار صرف میرے وطن کی غریبوں کے لئی قھر ہوتا ہے۔ قانون سے پنگا مت لینا ، قانون اپنا راستہ خود اختیار کرتا ہے ۔

جب صلاح الدین نامی ایک ذھنی معذور شخص نے غلطی سے منہ چڑہانے کی کوشش کی تو ، قانون کی غیرت نے لچکارے مارے ، اور صلاح الدین دوسرے دن کی سورج نہ دیکھ سکا۔

جی بات جعلی ڈگری کی ہو رہی تھی ، پھر میں قانوں کی منہ چڑہانے کی بات کرنے لگا ہوں، میں کمزور انسان ہوں ، میری جرئت نہیں۔ قانون سے پنگا لوں ۔

البتہ قانون کی منہ پر کالک ملنے والے دیدہ دلیری سے توا پھیر دیتے ہیں۔ مگر اس وقت قانون حرکت میں نہیں بلکہ قانون لیٹ جاتی ہے اور بااثر اوپر سے راستہ بنا کر گذر جاتے ہیں۔

ہم اس ملک میں رہتے ہیں جہاں غریب چور کے ہاتھ کاٹنے کے بجائے زبان کاٹی جاتی ہے ، کہ بولنے کے قابل ہی نا رہے۔قانون نافذ کرنے والوں کا بھی اپنا دستور ہے ، پھر کہیں جعلی مقابلوں میں ہاف فرائی اور کہیں فل فرائی کی مثالیں بھی ملتی ہیں۔ اس کے برعکس امیر چور کو ہار پہنائے جاتے ہیں ،پروٹوکول بھی قانون کی نگرانی میں ملتا ہے ۔

نظام کو گدلا کیا گیا ، کہیں دیکھتے ہیں، جعلی پولیس والے ، ناکے لگا کر ہر آنے جانے والوں کی جیب صفایا کرتے ہیں ، کہیں وردی میں ملبوث ہو کر گھروں میں ڈکیتیاں کرتے ہیں۔

بلکل اسی طرح جعلی ڈاکٹر جعلی ڈگری پر سرجن بن جاتے ہیں۔ کبھی کسی کے گردے نکال رہے ہوتے ہیں تو کبھی کسی کو غلط انجیکشن لگا کر ابدی نیند سلا دیتے ہیں۔

کہیں جعلی ڈگری والے ٹیچر بن کر کئی نسلیں برباد کرتے ہیں تو کہیں جعلی ڈگری والے پائلٹ بن کر جہاز اڑاتے ہیں۔

حال ہی میں پی آئی اے کے اندر جعلی ڈگریوں کی انکشاف نے قومی ایئر لائن کو ہلا کر رکھ دیا۔ پاکستان میں جہازوں کا کریش ہونا معمول بن گیا۔ انکشاف ہوا کہ پی آئی اے کے اندر گراونڈ اسٹاف سے لے کر پائلٹس تک کی ڈگریاں مشکوک ہیں، جن کو گراونڈ کر دیا گیا ، سول ایوی ایشن جیسے حساس ادارے میں اس طرح کی جعلسازی سے نہ صرف ملکی نقصان ہوا بلکہ ملک کی جگ ہسائی بھی ہو رہی ہے ۔

ایک جعلی ڈگری والا پائلٹ جھاز اڑاتا ہے ، اور کئی لوگ سفر کرتے ہیں۔ اسی طرح سے مختلف حادثات میں کئی قیمتی جانوں کا ضیاع ہوتا رہا ہے ، کئی گھروں کے چراغ بجھتے رہے ہیں ۔ نہ کوئی انکواری رپورٹ سامنے آتی تھی اور نہ ہی کوئی مشکوک کردار سامنے آتے تھا ۔

کچھ دن گذرتے ، لوگ حادثے کو بھول جاتے تھے ۔ مگر جن کے پیارے ، جن کے چشم و چراغ ، جن گھروں کے کفیل لمحوں میں بھسم ہو جاتے تھے ، جن کی لاشیں مسخ ہو کر گھروں میں جاتی تھیں، وہ کبھی ایسی غلفت کو نہیں بھولے ۔ مگر ان بچاروں کے بس میں صرف اپنے پیاروں کے لئی دعائوں کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا تھا ۔

میں داد دیتا ہوں ، پی ٹی آئی حکومت کو جس نے قلیل وقت میں ابتدائی رپورٹ پبلک کی اور عوام کو آگاہ کیا کہ حال میں ہونے والا واقع قدرتی نہیں تھا۔ بلکہ انسانی غلطی کی وجہ سے پیش آیا ۔ اس کے بعد جعلی ڈگری ہولڈرز کو بے نقاب کرنا ضروری تھا۔ مانتے ہیں کہ وزیر موصوف کی عجلت اور اپوزیشن لیڈرز کی تنقید کی وجہ سے یے مسئلہ عالمی لیول پر اجاگر ہوا ۔ جس سے ملک کی نہ صرف جگ ہسائی ہوئی بلکہ پی آئی اے کی بیرونی پروازوں پر بھی عارضی طور پر پابندی عائد ہوئی ۔ جس سے نہ صرف پی آئی اے مزید مالی بحران کا شکار ہوگا۔ بلکہ ملک کی اکانومی پر بھی اس کے منفی آثار نمایاں نظر آئیں گے ۔

اب حکومت وقت کو طے کرنا ہے کہ نہ صرف پی آئی اے کے اندر سے گند صاف کرنا ضروری ہے بلکہ تمام اداروں میں چھپے ان کالی بھیڑوں کی نشاندھی کر کے سخت سزائیں دی جائیں ۔ چاہے وہ قانون ساز اداروں میں ہوں ، بیوروکریسی میں ہوں ، پی آئی اے یا ریلوے میں ہوں، ایف بے آر میں ہوں، میڈیکل کے شعبے میں ہوں ، یا پھر سکیورٹی اداروں میں۔ ایک واضع پالیسی اختیار کی جائے کہ نہ صرف جعلی ڈگری ہولڈرز اس ملک کے لئی کینسر ہیں۔ بلکہ اس سے بڑے کینسر وہ ہیں جو ایسی ڈگریاں جاری کرتے ہیں۔ یا پھر سہولت کاری کرکے کہ قومی اداروں میں بھرتی کرواتے ہیں۔

یے بات نہ ہو کہ ڈگری ڈگری ہوتی ہے بس مٹی پاو ۔ اگر ایسی پالیسی رہی تو یے ملک کبھی بھی آگے نہیں بڑھ سکے گا ۔ نہ ہی اس ملک کی اکانومی بہتر ہو سکے گی ۔ اس کینسر کا علاج صرف کیموتھراپی ہے ، جس کے لئی حکومت وقت کے لئی مشکلیں ضرور آ سکتی ہیں مگر مشکل حالات میں ملکی مفاد کو دیکھنا بھی ضروری ہے ۔

شمس بوزدار

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.