بلوچستان کو اس کے وسائل نہیں دیے جارہے ، میرحاصل بزنجو

عوامي آواز رپورٽ
aaaaa
عوامي آواز رپورٽaaaaa

بلوچ قومپرست رہنما اور سربراہ نیشنل پارٹی میر حاصل بزنجو نے کہا ہے کہ بلوچستان کو جتنی بجٹ دی جاتی ہے اس میں یہ صوبہ کبھی ترقی نہیں کرسکتا۔۔ آپ جب تک ہائی ویز کا پورا کوٹا بلوچستان کو نہیں دیں گے جو اس کی سائز کے حساب سے بنتا ہے تب تک یہ صوبہ ترقی نہیں کرسکتا،نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ آج بھی اگر ہم بلوچستان کی غربت کوسنجیدگی سے لیں، لوچستان کی ناخواندگی اور بلوچستانٓ کی تعلیم کو ہی سنجیدگی سے لیں تو مسئلہ حل ہو سکتا ہے ۔۔بلوچستان کو جس فنڈ کی ضرورت ہے وہ اسے مل نہیں رہا ۔۔اور جتنے فنڈز مل رہے ہیں وہ صحیح طور پر استعمال نہیں ہورہے۔این ایف سی ایوارڈ جس وقت ملا تھا اس وقت بلوچستان کو سب سے زیادہ پیسے ملے تھے لیکن افسوس کہ وہ سارے پیسے یونہی ضائع ہوگئے جس  کا پوچھنے والا کوئی نہیں تھا۔۔اس وقت اوپر پیپلز پارٹی کی حکومت تھی انہوں نے پوچھا نہیں کہ ہوا کیا۔وہ بہت بڑا پیسہ تھا جو ضایع ہوا ۔۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ سارا پیسا اس وقت کرپشن کی نظر ہوگیا

یہ کرپشن پرانے لوگوں سے پھیلی اور جب تک انتخابات نہیں ہوں گے  نئی قیادت کو آگے نہیں لائیں گے ان سے جان نہیں چھوٹےگی ۔۔حاصل بزنجو کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں اب وہ سرداری نظام نہیں رہا ۔۔وہاں پر اب سرداروں کی وہ پہلی جیسی حیثیت نہیں رہی ۔۔سرداراپنی جگہ پر لیکن وہ جو چھوٹے چھوٹے نمائندے جو ایک دو بار منتخب ہوکر آئے ہیں وہ تو ان سرداروں سے بھی بڑے سردار بن گئے ہیں ۔۔اب تو ایک مافیا آرہا ہے ۔۔الیکشن میں اب تو ڈرگ مافیا بھی آرہا ہے ۔اس لئے اب تو بہت مشکل صورتحال پیدا ہورہی ہے ۔۔بلوچستان کے الیکشن میں پیسے کی ریل پیل اتنی ہوتی ہے کہ ایک صوبائی سیٹ 44 سے 45 کروڑ روپے میں خریدی جاتی ہے۔۔انہوں نےکہا کہ بلوچستان کو پچھلا بجٹ بھی آدھا دیا گیا۔۔ پھر یہ کہا جاتا ہے کہ یہ کون سان تیر ماریں گے۔۔ابھی تک یہاں پر کوئی نئی ڈیولپمنٹ نہیں ہوئی ۔۔جس کو ہم کہیں کہ صورتحال صحیح ہوئی ہے ۔۔ایک جام صاحب کچھ نہیں کر سکتا ۔۔وہ نیچے جو ایک ٹیم ہے ۔۔وہ ہر تین مہینے بعد بلیک میل کرتی ہے تو اس بلیک میلنگ میں آپ پھنس جاتے ہیں ۔۔لیکن چونکہ یہ آوے کا آوا بگڑا ہوا ہے ۔۔اس لئے انہیں اس کا رزلٹ نہیں ملتا ۔۔ یہ جو ہمارے منسٹر، ایڈوائزر ہیں اس سے زیادہ ہماری بیورو کریسی بدتر ہے ۔۔حاصل بزنجو کا کہنا تھا کہ وہ جہاں کھڑے تھے آج بھی وہیں پر ہیں بلوچستان میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ۔۔انہوں نے کہا کہ وہ آج بھی وہیں کھڑے ہیں اور وہی حرکتیں کررہے ہیں ۔۔ جو دھاندلی ہم نے 73 میں کی تھی آج بھی وہی کررہے ہیں۔۔آج جس طرح سیاستدانوں میں پولرائزیشن ہے اس سے پہلے کبھی نہیں ہوئی۔۔آپ کے پی میں دیکھیں بلوچستان میں یا کسی اور صوبے میں ہر جگہ یہی پولرائزیشن چل رہی ہے جس کو آپ روک نہیں سکتے ۔۔۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.