لاک ڈاؤن سے انسانوں کی طرح جانور بھی متاثر

ماریہ اسماعیل

کراچی میں کورونا وائرس کی وبا کے باعث لاک ڈاؤن سے انسان توانسان جانوربھی پریشان ہوگئے ہیں، چڑیا گھرمیں موجود جانوروں اورپرندوں پرایک اداسی چھائی ہوئی ہے،  گنجائش سے چھوٹے پنجروں میں بے حال جانوروں کو متواتر خوراک فراہم کرنا بھی مسئلہ بن گیا ہے۔

کورونا وائرس کی وبا سے 23 مارچ سے سندھ حکومت کی جانب سے لاک ڈاؤن نافذ ہے، جس وجہ سے کے ایم سی کے انتظامات کے تحت کراچی شہر میں چلنے والے تین بڑے چڑیا گھرویران ہوگئے ہیں، جانوروں اورپرندوں پراداسی چھائی ہوئی ہے اور ساتھ ہی ان کے رویوں میں بھی بڑی تبدیلی آئی ہے۔

کراچی کے تین بڑے چڑیا گھروں میں آسٹریلیا کے طوطے، مور، بنگالی ٹائیگر، ہرن، کالاہرن، چیتے، افریقی  چیتے، اونٹ، ہاتھی، ببرشیر،لومڑیاں، پطخیں، مگرمچھ، ذرافہم، بن مانس، کچھوے اور شترمرغ سمیت دیگر جانورشامل ہیں۔

اس حوالے سے گارڈن کے علاقے میں واقع چڑیا گھرمیں کام کرنے والے ایک ملازم نے بتایا کہ بہت سارئ جانوراورپرندے لوگوں کی بھیڑ دیکھ کر بہت خوش ہوتے ہیں مگرلاک ڈاؤن ہونے کی وجہ لوگوں کے نہ آ پانے سے جانوراورپرندے بھی اداس ہوگئے ہیں ۔

چڑیا گھر کا جب جائزلیا تومعلوم ہوا کہ جنگل کے بادشاہ ببر شیر سمیت دیگر ایسے جانوروں کے لیے ان کی گنجائش سے چھوٹے پنجرے ہیں، اس حوالے سے جب چڑیا گھر گارڈن کے ڈائریکٹر کنورایوب سے بات کی تو انہوں نے بتایا کہ کے ایم سی کی جانب سے مقررہ بجٹ نہ ملنے کی وجہ سے چڑیا گھرمالی بحران کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم چڑیا گھر کوعالمی معیار کے مطابق نہیں بنا سکتے ہیں، انہوں نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ جانوروں کے لیے جس طرح کے پنجرے ہونے چاہے، انہیں ان سے چھوٹۓ پنجروں میں رکھا جارہا ہے ۔

کنورایوب نے مزید کہا کہ کے ایم سی کی فنڈنگ کے باوجود چڑیا گھر ایک خود کفیل ادارہ ہے، ہر سال 14لاکھ 34 ہزارافراد یہاں آتے ہیں اورایک ماہ میں ایک لاکھ 19ہزارسے زائد آمدنی ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے ایم سی کا سالانہ بجٹ 5 کروڑ کا ہے جوزیادہ تر بڑے جانوروں میں خرچ ہوجاتا ہے،   25سے 30 لاکھ جانوروں کی ادویات پر خرچ ہوجاتے ہیں۔

کنورایوب کا کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے ہمارا اسٹاف 25 سے 30 فی صد رہ گیا ہے،انہوں نے بتایا کہ 2015 سے 2016 تک سندھ حکومت نے 10کروڑ کی گرانٹ دی تھی،  دوسری بار2017 اور2018 کو13کروڑ ملی اس کے بعد پھرنہیں ملی، اس کی وجہ یہ تھی کہ ترقیاتی کام کی وجہ سے ہم نے کچھ عرصے کے لیے چڑیا گھرکو بند کردیا تھا مگراب امید کرتے ہیں کہ سندھ حکومت گرانٹ جاری رکھے گی ۔

انہوں نے کہا کہ دوسری بڑی وجہ کراچی کے چڑیا گھر میں ایک عرصے سے خالی آسامیوں پر بھرتیوں کا نہ ہونا بھی ہے جس کے سبب ہمیں پہلے ہی ملازمین کی کمی کا سامنا تھا اور اب لاک ڈاؤن نے مزید تنگ کردیا ہے لیکن ہماری ٹیم اپنے تمام کام سرانجام دینے کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔

چڑیاگھرمیں گذشتہ 26 سالوں سے کام کرنے والی زویوجسٹ عابدہ رئیس نے جانوروں کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ چڑیا گھر میں ممالیہ جانوروں کی 30 اسپیشیز ہیں اور ان اسپیشیز کے 136 اقسام کے ممالیہ جانورہیں جبکہ یہاں پرندوں کی 22 اسپیشیز ہیں اور ان کی 396 اقسام کے پرندے موجود ہیں۔ اسی طرح یہاں رینگنے والے والے جانداروں کی 17 اسپیشیز ہیں اور ان اسپیشیز کے 184 قسم کے رینگنے والے جانور چڑیا گھر میں رکھے گئے ہیں۔

چڑیاگھرمیں ہاتھیوں کی حفاظت پرماموریوسف نے لاک ڈاؤن کے حوالے سے بتایاکہ ہم تو روز ہی آرہے ہیں، چاہے جتنی بھی مشکل ہو کیونکہ یہ جانور ہم سے مانوس ہیں اور ہم سے ہی سنبھلتے ہیں، ہم اگر گھر پر بیٹھ جائیں گے تو یہ کھانا کس سے مانگیں گے؟ ہم صبح 8 بجے سے شام 6 تک ان کے ساتھ ہی رہتے ہیں،  یہ کیلا، گنا، شکر قندی، بھٹہ، تربوز اور گاجر کھانا پسند کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ انہیں ہر 2 گھنٹے بعد کھانے کی ضرورت ہوتی ہے، ہم صبح صفائی کے لیے انہیں دوسرے پنجرے میں لے جاتے ہیں، پانی ڈال کر ان کو فریش کردیتے ہیں، یہ پانی سے کھیلتے ہیں، ہم لوگ بھی ان کے ساتھ پانی میں نہاتے ہیں، مستی کرتے ہیں، یہ مستی میں خوب چیختا چلاتا ہے اور جب غصے میں ہوگا تو اپنے کان کھڑے کر لے گا۔

ڈائریکٹر کنورایوب نے بتایا کہ روزانہ کی بنیاد پرشیروں کو4 من گوشت دیا جاتا ہے،انہوں نے بتایا کہ شروع میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے مشکلات پیش آرہی تھی مگر اب کچھ معاملات بہتر ہوگئے ہیں ۔

جیسے کہ ڈائریکٹر کنورایوب نے خالی اسامیوں کے حوالے بات کی تواس کے لیے کے ایم سی سے رابطہ کیا توان کی انتظامیہ نے بتایا کہ چڑیا گھرمیں ایک ڈاکٹرکام کررہا ہے جبکہ ڈاکٹرز،مالی اورزو کیپر کی 100 اسامیاں خالی ہیں جبکہ جانوروں کی دیکھ بھال کے لیے کسی بھی قسم کی بھرتیاں نہیں کی جارہی ہے ۔

کے ایم سی انتظامیہ نے مزید بتایا کہ ملازم اورڈاکٹرز ریٹائرڈ ہونے بعد نئی بھرتیاں نہیں کی گئی ۔

چڑیا گھر کے ایک ہی ویٹرینن ڈاکٹر عامر اسمٰعیل سے رابطہ کیا توانہوں نے بتایا کہ ‘1998میں چڑیا گھر کے اندر ہی جانوروں کا ہسپتال بنایا گیا تھا، جہاں آپریشن کرنے سے لے کر ایکسرے کرنے کی سہولت بھی ہے، ہم نے جانوروں کے چھوٹے موٹے آپریشن سے لے کر ان کے سی سیکشن تک کیے ہیں۔

یہ توچڑیا گھر ہے مگرکراچی شہر میں کچھ جگہیں ایسی بھی ہے جن کوکبوتر چوک بھی کہا جاتا ہے، جہاں کراچی کے شہری کبوتروں کودانہ پانی دیتے ہیں کبوتران کو بڑے شوق سے کھاتے ہیں مگر لاک ڈاؤن کی وجہ وہ کبوترچوک بھی متاثرہوئے ہیں۔

کراچی شہرمیں کبوتروں کی سب سے بڑی چورنگی سندھ سیکریٹریٹ کے سامنے ہے۔ نیوٹاؤن چورنگی، جوہرچورنگی، ایم جناح روڈ، جناح اسپتال سمیت دیگر علاقوں میں بھی شہری نہ صرف ان پرندوں کو خوراک دیتے ہیں بلکہ اپنے بچوں اورفیملی سے ساتھ تصویریں بھی بنواتے ہیں مگر لاک ڈاؤن کی وجہ یہ جگہیں ویران ہوگئیں ہیں ۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.