نامکمل حفاظتی اقدامات اور حکومت کی غیر سنجیدگی کورونا سے متعلق درد بڑھانے کا سبب

ماریہ اسماعیل

صوبہ سندھ کے دارلحکومت کراچی میں اگرچہ کورونا وائرس سے بھی اموات ہوئیں تاہم کورونا کی وبا کے دوران ہی 387 افراد کی پراسرار اموات کے انکشاف نے کراچی کے شہریوں سمیت پورے ملک کے عوام میں خوف بڑھا دیا تھا، یہ اموات 31 مارچ سے 13 اپریل تک ہوئیں جن کو کورونا کے پروٹوکول کے تحت دفنایا گیا۔

ان اموات کے اسباب جاننے کے حوالے سے جب جناح اسپتال کی ڈائریکٹرسیمی جمالی سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ 31 مارچ سے 13اپریل تک 121 افراد کو اسپتال میں مردہ حالت میں لایاگیا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ کورونا وائراس کی وجہ سے اسپتال میں عام دنوں کی نسبت مریضوں کی آمد 50 فیصد کم ہوگئی ہے ۔

ڈاکٹرسیمی جمالی کا کہنا تھا کہ اس وقت کورونا کی وجہ سے نہ پوسٹ مارٹم کیا جارہا ہے اورنہ کسی قسم کا ٹیسٹ کیا جاتا ہے جبکہ عام اوپی ڈی بھی بند ہے، جس وجہ سے لوگوں کی مختلف بیماریوں میں اموات زیادہ ہورہی ہیں۔

ڈاکٹرسیمی جمالی کا کہنا تھا کہ جناح اسپتال میں زیادہ ترغریب لوگ آتے ہیں جن کی ہسٹری سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ سانس کی تکلیف، شوگراور بلڈپریشر جیسی بیماریوں میں مبتلا ہوتے ہیں۔

انڈس اسپتال کے ڈاکٹرعبدالباری نے اس حوالے سے رابطہ کرنے پر بتایا کہ  گذشتہ دنوں چارمریض ایسے آئے تھے جو کچھ دیربعد فوت ہوگئے تھے۔

ان کاکہنا تھا کہ ہم ایسے مشتبہ مریضوں کا کورونا ٹیسٹ کرتے ہیں، ان مریضوں کی رپورٹ فوت ہونے کے بعد پازٹیو آئی تھی۔

ڈاکٹرعبدالباری نے یہ بتایاکہ ان کی لاش کا ایکسرا لیا گیا تھا جس میں ان کے پھیپھڑوں کی حالت بالکل ایسی تھی جیسے کورونا کے مریضوں کی ہوتی ہے، انہوں یہ بھی بتایا کہ ان کے اندرنمونیا کی علامتیں بھی پائی گئی تھیں۔

ان لاشوں کو کورونا پروٹوکول کے تحت دفنایا گیا تھا اور اس حوالے سے جب ایدھی فاؤیشن سے رابطہ کیا گیا تو اس کے ترجمان نے بتایا کہ یکم اپریل سے 13 اپریل تک ہمارے پاس 387 لاشیں آئی تھین جن کے کچھ ورثا نے ہمیں موت کا سریفکیٹ بھی دکھایا مگر ہم نے ان کوکورونا کے پروٹوکول کے تحت دفنایا کہ کیا معلوم کیسے موت ہوئی ہے۔

انہوں یہ کہاکہ ہمارے پاس سب سے زیادہ لاشیں سہراب گوٹھ کے سردخانے میں لائی گئیں۔

دوسری جانب محکمہ صحت کے حکام مطابق گذشتہ  50 روز کے دوران کورونا وائرس سے متاثر60 افراد ایسے تھے جن کا انتقال اپنے گھروں میں ہوا جن میں بظاہر کوئی کورونا کی علامات نہیں تھیں۔

 

ترجمان کے مطابق ان افراد میں سے 52 کا تعلق دارالحکومت کراچی کے 6 اضلاع سے تھا، باقی 8کا تعلق ضلع شہید بینظیرآباد اور حیدرآباد سمیت دیگر علاقوں سے تھا۔

ذرائع کے مطابق کراچی کے ضلع کورنگی سے 15، ملیرسے 10، وسطی سے9. جنوبی سے 8جبکہ شرقی اورغربی میں پانچ پانچ اموات ہوئیں، جاں بحق ہونے والوں میں کم سے کم 46 مرد اور9خواتین شامل تھیں۔

کراچی میں قبرستانوں کے انتظامات دیکھنے والے کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن، کنٹونمنٹ بورڈز اورنجی ایسوسی ایشنز کے اعداد و شمار کے مطابق شہرکے 41 قبرستان کے ایم سی کے ماتحت ہیں جس میں 31 میں تدفین ہورہی ہے جب کہ 10 قبرستانوں میں جگہ نہ ہونے کی وجہ سے وہاں تدفین بند کردی گئی ہے۔

کے ایم سی کے ڈیٹا کے مطابق رواں سال 4 ماہ میں سب سے کم اموات گزشتہ ماہ رپورٹ ہوئیں اور سب سے زیادہ افراد جنوری 2020 میں دفنائے گئے، اسی مہینے 2895 افراد کی تدفین ہوئی۔

سینیئر ڈائریکٹر میونسپل سروسز مسعود عالم نے بتایا کہ کراچی میں جنوری میں سب سے زیادہ ضلع وسطی میں اموات ہوئیں جب کہ 4 ماہ میں 8903 افراد کو 31 مختلف قبرستانوں میں سپرد خاک کیا گیا۔

کے ایم سی کے اعداد و شمار کے مطابق کورونا سے جاں بحق افراد کے لیے مختص قبرستانوں میں اب تک 43 افراد سپرد خاک کیا گیا ہے۔

محمد شاہ قبرستان میں32 افراد اورعظیم پورہ قبرستان میں 3 افراد کی تدفین کی گئی، جب کہ کورنگی چکرا گوٹھ اور ماڈل کالونی قبرستان میں دو، دو افراد دفنائے گئے۔

دوسری جانب سعود آباد، سلیم آباد اورنگی، سرجانی ٹاؤن اوریسین آباد میں ایک، ایک فرد کی تدفین کی گئی۔

سندھ میں جہاں کورونا سے اموات بڑھتی جا رہی ہیں، وہیں صوبے بھر میں نئے کیسز بھی تیزی سے سامنے آ رہے ہیں اور اس وقت صوبے بھر میں یومیہ 4 ہزار 64 ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں۔

صوبے میں جہاں بڑی عمر کے افراد کورونا کا شکار ہو رہے ہیں، وہیں کم عمر افراد بھی اس وبا کا نشانہ بن رہے ہیں، وزیراعلی سندھ کے مشیرمرتضی وہاب کے مطابق سندھ میں 10 سال سے کم عمر کے 182 بچوں میں کورونا وائرس پایا گیا ہے جب کہ صوبے میں 900 مریض 60 سے زائد عمر کے ہیں۔

ایک طرف جہاں صوبے میں کورونا کے مریضوں میں اضافہ ہو رہا ہے، وہیں کورونا کے مبینہ مریضوں کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات بھی عوام میں تشویش پیدا کر رہے ہیں، ایسا ہی ایک واقعہ کراچی کے جناح اسپتال میں بھی پیش آیا، جہاں کورونا میں مبینہ طور پر مبتلا نوجوان نے تیسری منزل سے چھلانگ لگ کر خودکشی کرلی تھی۔

اسپتال ذرائع اورپولیس کے مطابق خودکشی کرنے والا نوجوان نشے کاعادی تھا اور اس نے نشہ نہ ملنے پر خودکشی کی۔

جناح اسپتال کی ڈائریکٹرسیمی جمالی کے مطابق لانڈھی کے علاقے قائد آباد سے 30 سالہ نوجوان فوادعلی  کو لایا گیا تھا جو کہ نشے کا عادی تھا، ایمرجنسی میں جب اس کا معائنہ کیا گیا توفواد علی میں کورونا وائرس کی علامات پائی گئیں، جس پر اسے فوری طورپر جناح اسپتال کے وارڈ نمبر 23میں بھیجا گیا جہاں پرزیادہ ترمشتبہ مریضوں کورکھا جاتا ہے۔

 

ہم نے گزشتہ اسٹوری میں ایک حوالہ دیا تھا کہ کچھ لوگوں کا ایک شہر کی اسپتال میں ٹیسٹ منفی آیا تودوسرے شہر کی اسپتال میں مثبت آیا جبکہ ہم نے عمرکوٹ کے ایک اقلیتی نوجوان کے دل کی تکلیف سے فوت ہونے کا بھی تذکرہ کیا تھا مگر جب اس کی لاش  کا ٹیسٹ کیا گیا تواس میں کورونا کی موجودگی کا انکشاف ہوا۔

اسی حوالے سے خیبرپختونخواہ کے لیڈی ریڈنگ اسپتال پشاورکے شعبہ ہیماٹولوجی کی ڈاکٹرہما ریاض اورشیخ فاطمہ اسپتال پشاورکے سی ایم او ڈاکٹربلال نے بتایا کہ اگر ایک شخص کسی ایسے فرد سے رابطے میں آئے جس میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے تو ضروری نہیں کہ وہ ان میں بھی وائرس منتقل ہو جائے۔

انہوں نے کہاکہ  جہاں 100 میں سے 90 افراد کو ایسے انفیکشن ہو جائے گا تو ممکن ہے کہ 10 کو نہ ہو۔

انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کے ٹیسٹ دو اقسام کے ہوتے ہیں، اگر آپ سے خون کا نمونہ لیا جائے تو اس کا مطلب ہے کہ اس میں موجود اینٹی باڈیز سے اندازہ لگایا جائے گا کہ آپ کے جسم میں وائرس موجود ہے یا نہیں۔

اگر آپ کا سواب ٹیسٹ ہوتا ہے تو آپ کے منہ سے  نمونہ لیا جاتا ہے جو ’پولیمریز چین ری ایکشن‘ یا پی سی آر ٹیسٹ کے لیے موزوں ہے اور پاکستان میں زیادہ تر ٹیسٹ اسی طرح کی کٹس سے ہو رہے ہیں۔

ڈاکٹر ہما ریاض بتاتی ہیں کہ پی سی آر ٹیسٹ میں کسی بھی فرد سے ملنے والے نمونے کا ایک ’نان کنٹرول‘ کے ساتھ موازنہ کیا جاتا ہے، یہاں ’نان کنٹرول‘ سے مراد وائرس کی وہ جینیاتی ترتیب ہے جو اس کی پہچان ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب ان دونوں نمونوں کا موازنہ کیا جاتا ہے تو جو نمونہ کورونا وائرس کی جینیاتی ترتیب سے ملتا جلتا ہے، اسے مثبت قرار دیا جاتا ہے، اگر نمونے کی جینیاتی ترتیب چین کے شہر ووہان سے سامنے آنے والے وائرس کی ترتیب سے نہیں ملتی تو اس کا مطلب ہے کہ یہ کچھ اور ہے اوراس ٹیسٹ کا نتیجہ نیگیٹیو یا نفی میں ہوتاہے ۔

کووڈ 19 وائرس سارس کی طرح کا وائرس ہے جو پہلے سے مختلف جگہوں پر موجود ہے اس کی اپنی ایک ساخت ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس وائرس کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ وائرس جب ایک انسان سے دوسرے انسان میں منتقل ہوتا ہے تو یہ اپنی شکل بدلتا ہے۔ ڈاکٹر ہما کے مطابق اگر نمونہ صحیح طرح لیا جائے تو پی سی آر ٹیسٹ میں غلطی کی گنجائش بہت کم ہوتی ہے۔انہوں نے کہاکہ اگر مریض کا نمونہ صحیح طرح نہ لیا جائے یا اس کی مقدار ضروت سے کم ہو تو فالس یعنی غلط نیگیٹیو آ سکتا ہے۔

ان کے مطابق اس میں غلطی کی گنجائش ہوتی ہے، تاہم اگر ٹیسٹ مثبت آئے تو غلطی کی گنجائش کم ہوتی ہے کیونکہ مثبت نتیجہ تب ہی آتا ہے جب پی سی آر ٹیسٹ میں اس وائرس کی جینیاتی ترتیب سے کوئی مُوافقت ملتی ہے۔

گومل یونیورسٹی کے سنٹر فار بائیوکمسٹری اور بائیوٹیکنالوجی سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر مزمل احمد خان کا کہنا ہے کہ فالس پازیٹیو عموماً ایسے موقعوں پر آتے ہیں جہاں مریض سے لیا جانے والا نمونہ یا تو کنٹیمینیٹ ہو جائے (یعنی خالص نہ رہے)، یا ٹیسٹ کے آلات کنٹیمینیٹ ہو جائیں یا غلطی سے کسی مثبت نمونے کے ذرے کسی اور نمونے سے مل جائیں۔اگر جو شخص نمونہ لے رہا وہ ہی وائرس کا شکار ہے یا جو شخص یہ ٹیسٹ کر رہا ہے اسے یہ وائرس لاحق ہے، تب بھی غلطی سے مثبت رزلٹ آ سکتا ہے۔

ڈاکٹر مزمل کے مطابق فالس نیگیٹیو کی ایک وجہ وائرل لوڈ کا کم ہونا بھی ہو سکتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ وائرس کی مریض میں مقدار کم ہے۔ ڈاکٹرمزمل کا کہنا ہے کہ  ممکن ہے کہ عام پی سی آر ٹیسٹ میں کم وائرل لوڈ والے مریضوں کے نمونوں کو نیگیٹیو قرار دے دیا جائے اور جب زیادہ حساس آلات پر ٹیسٹ کیا جائے تو وہ مثبت آئے۔

ڈاکٹر مزمل کا دعوی ہے کہ چین میں ایسے واقعات ہوئے ہیں جن میں مریض کا ’ریئل ٹائم پولیمریز چین ری ایکشن‘ ٹیسٹ یا آر ٹی پی سی آر کے ذریعے کیا جانے والا ٹیسٹ نیگیٹیو آیا لیکن زیادہ حساس ڈیجیٹل ’ڈراپلیٹ چین ری ایکشن‘ ٹیسٹ یا ڈی ڈی پی سی آر ٹیسٹ سے اسی نمونے میں وائرس کی تشخیص ہو گئی۔

پاکستان نرسزایسوسیشن سندھ کے صدرغلام دستگیراوڈانو کا کہنا ہے کہ ڈاکٹرز اور نرسزسمیت دیگر  میں کورونا وائرس سامنے آنے کی سب سے بڑی وجہ غیر معیاری حفاظتی سامان کا ہونا ہے، اب تک سندھ میں پچاس سے زاہد نرسز، 104سے زائد  ڈاکٹرز اور کئی ہیلتھ ہروفیشنلز کورونا وائرس کا شکار بن چکے ہیں۔

غلام دستگیراوڈانوکے مطابق کراچی میں بھی ڈاکٹرزاور نرسز میں مہلک مرض کی تشخیص ہوچکی، جبکہ وائرس سامنے آنے کی سب سے بڑی وجہ غیر معیاری حفاظتی سامان کا ہونا ہے، اسپتالوں میں پرسنل پروٹیکٹو ایکیوپمنٹس کی کمی بھی کورونا پھیلاؤ کی بڑی وجہ ہے۔

پاکستان نرسز ایسوسیشن کورڈینیٹر آصف خان کا کہنا تھا کہ اسپتالوں میں عالمی ادارہ صحت کے تجویز کردہ این 95 ماسک کی جگہ غیر معیاری ماسک کی فراہمی جاری ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ عالمی سطح پر کورونا وائرس سامنے آنے کے بعد ملک میں مناسب وقت ہونے کے باوجود ہنگامی اقدامات نہیں کیے گئے، الزامات کے کھیل میں اگر ہیلتھ پروفیشنلز کے لیے مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو اس کا کورونا کے خلاف مہم کو نقصان ہوگا، کورونا کے خلاف لڑنے والے نرسز، ڈاکٹرز اور پیرامیڈکس ان کے خاندانوں کی انشورنس کو بھی یقینی بنایا جائے۔

انڈس اسپتال کے ڈاکٹرعبدالباری کا کہنا ہے کہ ڈیڑھ مہنیے میں جتنے کیسزرپورٹ ہوئے وہ چند دنوں میں ڈبل ہوگئے ہیں۔ انہوں نے خبردارکیا کہ کورونا کا پیک مئی کے تیسرے ہفتے میں شروع ہوگا۔

انہوں نے بتایا کہ کراچی میں فرئٹ لائن پرڈاکٹرزسیکڑوں کی تعداد میں متاثر ہوکر قرنطینہ میں چلے گئے ہیں، اس کی سب سے بڑی وجہ ہیلتھ اسٹرکچر کمزور ہے۔

دوسری جانب ڈاکٹر قیصر سجاد نے کہا کہ بیان نہیں کرسکتے ہیں کہ کورونا سے صورتحال کس قدر خطرناک ہوسکتی ہے، انہوں کہا کہ ایک توہمارے پاس بیڈ اوروینٹی لیٹرز کی تعداد کم ہے دوسری طرف ڈاکٹرز بڑی تعداد میں کروناسے متاثرہورہے ہیں۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.