سرکاری ملازمین ومراعات یافتہ افراد کے نام پراحساس پروگرام سے ہزاروں غریب لوگوں کونکالا  جا رہا ہے

ماریہ اسماعیل

صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں 5 اپریل کوہرطرف لوگوں کی لائنیں لگی ہوئی تھی ایسا لگ رہا تھا کہ حکومت کا لاک ڈاؤن ختم ہوگیا ہے، شہرکے مختلف ڈسٹرکٹ کےڈپٹی کمشنرز کے دفاتر کے باہر مردوں اورخواتین کی الگ الگ لمبی قطاریں لگی ہوئی تھیں معلوم کرنے کے بعد پتہ چلا کہ وزیراعظم عمران خان کے احساس کفالت پروگرام کی رجسٹریشن کے اعلان کے بعد پیسے لینے کے لیے لوگوں کی قطاریں لگی ہیں۔

ان لمبی قطاروں میں نہ تو سماجی رابطے کاخیال رکھا گیا اورنہ کسی کے منہ پر ماسک تھا، کچھ خواتین اپنے بیمار بچوں کو بھی لے کرآئی تھیں، معلوم کرنے پر متاثرین نے کہاکہ وہ صبع سے لے کرشام تک لمبی لائنوں میں کھڑے ہوئے مگر ان کا نمبر نہیں آیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے اپنے بچوں کی بھوک نہیں دیکھی جارہی ہے، ہمارا کوئی پرسان حال نہیں ہے بہتریہی ہے حکومت ہمیں کچھ گھنٹوں تک کام کرنے اجازت دے، تاکہ ہم اپنے بچوں کا پیٹ پال سکیں، کچھ متاثرین توسخت غصے میں تھے اور نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ انہیں عزت سے روزگارکرنے دیاجائے۔

ان لوگوں کو دیکھ کر مجھے یاد آیا کہ پیپلزپارٹی کے 2008 کے دورحکومت میں بھی غربت کے ختم کرنے لیے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو متعارف کرایا گیا تاکہ بدحال عوام کو کچھ ریلیف مل سکے، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی ویب سائٹ کے مطابق اس پروگرام کو 34ارب سے شروع کیا گیا مگر  2013 تک اس میں 70ارب کا اضافہ ہوگیا اور 2008 اور 2009 تک 35 لاکھ خاندانوں کی مالی مدد کی گئی، اس پروگرام میں 2012-2013تک 55لاکھ خاندان مطلب کے پاکستان کی کل آبادی کے 18فیصد لوگوں اور غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والے 40 فی صد لوگوں کی مدد کی گئی، اس کی ویب سائٹ پر ایک وضاحتی خط میں کہاگیا ہے کہ اس پروگرام میں 4کروڑ افراد کوف ائدہ پہنچ رہاتھا۔ ویب سائٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ اس پروگرام کے تحت ہر رجسٹرڈ خاندان کو 10 ہزار روپے کے حساب سے سال میں چار مرتبہ مالی امداد دی جاتی ہے اس وقت کی بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی چئیرپرسن محترمہ فرزانہ راجہ نے کہا تھا کہ اس پروگرام کو شروع کرنے کا مقصد غریب عوام کی مدد کرنا تھا تاکہ وہ اس معاشرے میں بہترزندگی گزار سکیں۔

2013 میں سوشل پالیسی اینڈڈیویلمنٹ سینٹر نے اپنی ایک رپورٹ جاری کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ 6 سال میں پاکستان میں مزید ایک کروڑ اسی لاکھ لوگ غربت کی لکیر سے نیچے جا چکے ہیں حالانکہ اس وقت بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی رقم 70 ارب تھی،  یہ پروگرام نواز شریف کے دور حکومت میں بھی جاری رہا۔

مگر2019 میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے فائدہ اٹھانے والے 8 لاکھ 25 ہزار 592 افراد کو لسٹ سے نکال دیاگیا جن میں وفاقی یا صوبائی حکومتوں کے سرکاری ملازمین اور 12 ایکڑ سے زائد زرعی زمین رکھنے والے لوگ بھی شامل ہیں اور نئی حکومت یعنی پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت تین ماہ کے معاوضے کو  5500 سے بڑھا کر 6 ہزار کرنے کا فیصلہ کیا اور ساتھ ہی اس پروگرام کا نام بدل کر “احساس کفالت”رکھ دیا گیا ۔

حکومت نے 8 لاکھ سے زائد افراد کو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے نکال دیا،  جن میں وفاقی یا صوبائی حکومتوں کے سرکاری ملازمین اور 12 ایکڑ سے زائد زرعی زمین رکھنے والے لوگ بھی بھی شامل تھے، وفاقی حکومت نے وظیفہ لینے والے 5 ہزار4 سو 26 ملازمین کی فہرست حکومت سندھ کے حوالے کردی ہےجس کے مطابق فہرست میں سندھ حکومت کے گریڈ 1 سے لے کر گریڈ 19 تک کے افسران شامل ہیں ۔ مذکورہ فہرست سے پتہ چلتا ہے کہ سب سے زیادہ محکمہ تعلیم و صحت کے ملازمین نے کروڑوں روپے وظیفہ حاصل کیا۔ فہرست میں محکمہ تعلیم، صحت، جناح اسپتال، چانڈکا میڈیکل کالج لاڑکانہ، بہبود آبادی، لیبر اور دیگر محکموں کے ملازمین کے نام شامل ہیں، حکومت سندھ کے محکمہ سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن نے تمام محکموں کو فہرست ارسال کرکے ہدایت کی ہے کہ بتایا جائے کہ ان کے محکمہ میں وظیفہ لینے والے ملازمین ہیں یا نہیں؟جس کے بعد حکومت سندھ کے محکموں نے تصدیق کا عمل شروع کردیا ہے۔

مذکورہ فہرست کے مطابق تعلقہ ایجوکیشن آفیسر اورنگی ٹاؤن عذراپروین، تعلقہ ایجوکیشن آفیسر نیو کراچی سومون مل، تعلقہ ایجوکیشن آفیسر کیماڑی آمنہ نسرین، ٹی ای او لیاری سیما اختر، ٹی ای او ملیر نصرت بیگم، ٹی ای او گڈاپ نصرت نسا، ٹی ای او صدر پرائمری رضیہ خاتون، ٹی ای او گڈاپ (پرائمری) ریحانہ یاسمین، روبینہ تاج انصاری، ٹی ای او گلشن پرائمری روحی یاسمین، ٹی ای او ناظم آباد رخسانہ عبدالمجید، ٹی ای او کورنگی سکینہ بانو، ٹی ای او ناظم آباد ثروت جہاں، ٹی ای او کیماڑی شہلا عابد، ٹی ای او حیدرآباد شہناز ابراہیم، ٹی ای او لیاقت آبادشبانہ مرتضیٰ نے سرکاری نوکری کے باوجود وظیفہ حاصل کیا

یہ وہ فہرست ہے جو حکومت سندھ کو وفاقی حکومت نے دی اس کے بعد اس کی انکوائری کی گئی تو مذکورہ ملازمین کے نام ظاہر ہوئے اور مذکورہ ناموں کی فہرست باقاعدہ طور پر مختلف اخبارات و چینلز پر بھی سامنے آئے۔

اسی فہرست کے مطابق ٹی ای آر سکرنڈ افروز بی بی، ٹی ای او خیر محمد جمالی، ٹی ای او مورو، ٹی ای او سانگھڑ بسم اللہ بی بی، ٹی ای او کوٹڑی نثار بیگم، ٹی ای او نوابشاہ شبانہ خاتون، ٹی ای او کنڈیارو رقیہ، ٹی ای او پڈعیدن نسیم بی بی، گریڈ 17کی ہیڈ مسٹریس بلقیس مغل، ٹی ای او ماتلی عزیزاں اور دیگر نے بھی وظیفہ حاصل کیا، فہرست میں گریڈ 1 سے لے کر گریڈ 19 تک کے افسران شامل ہیں، جنہوں نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے کروڑوں روپے وظیفہ حاصل کیا۔

نادرا نے گزشتہ 8 سال میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے فائدہ اٹھانے والوں کا تفصیلی جائزہ لیا، جس سے پتہ چلا کہ ان میں سے 5 لاکھ 25 ہزار افراد ایک یا زائد مرتبہ بیرون ملک سفر کر چکے ہیں، 44 ہزار افراد کے پاس ایک یا ایک سے زائد گاڑی یا موٹر سائیکل ہے،  36 ہزار افراد نے ایگزیکٹو فیس دے کر شناختی کارڈ بنوائے، ایک ہزار 246 افراد نے ایگزیکٹو سینٹر سے پاسپورٹ کے لیے اپلائی کیا، 30 ہزار افراد ماہانہ ایک ہزار روپے موبائل فون کا بل ادا کرتے ہیں، اوسطا ایک ہزار روپے ٹیلیفون بل ادا کرنے والوں کی تعداد 19 ہزار 686 ہے، صرف صوبہ سندھ میں گریڈ 18کے 342 افسران نے اپنی بیگمات اور اولاد کے نام سے فائدہ اٹھایا۔

بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) میں سرکاری ملازمین کے مبینہ غبن پر وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) سندھ چیپٹر نے سرکاری افسران اور ان کے اہلخانہ کے خلاف باقاعدہ تحقیقات شروع کردیں۔

ایف آئی اے حکام کے مطابق ہر صوبہ میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام پر ایک ایک انکوائری رجسٹرڈ کی گئی، اس ضمن میں ایف آئی اے سندھ نے ایک انکوائری باقاعدہ رجسٹر کردی ہے۔

ایف آئی اےحکام کا کہنا ہے کہ ایف آئی اے سندھ کے ہر تفتیشی افسر کو 50 سرکاری افسران کی فہرست فراہم کی گئی ہے ساتھ ہی سرکاری افسران کے 850 رشتے داروں کی فہرست بھی بھیجی گئی ہے، جن افسران کی فہرست ایف آئی اے سندھ کو دی گئی ہے ان تمام کا تعلق محکمہ تعلیم سے ہے۔

وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے احساس پروگرام ثانیہ نشتر نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے 8 لاکھ 20 ہزار غیر مستحق افراد کو نکال دیاہے، اس حوالے سے ثانیہ نشتر کا کہنا تھا کہ بی آئی ایس پی سے نکالے گئے افراد 2011 سے مستحق افراد کا حق کھا رہے تھے، نکالے گئے افراد کی جگہ نئے لوگوں کو شامل کیا جائے گا اور ہر سال فہرست کا جائزہ بھی لیا جائے گا-

اس حوالے سے جب ڈائریکٹر سندھ ایف آئی اے اوراس ایف آئی اے کے انکوائری سے رابطہ کیا گیا تو انہوں کسی قسمکی بات کرنے سے گریز کیا جبکہ احساس کفالت پروگرام سندھ کے ڈائریکٹر کو آر ٹی آئی کے سوالات دے گئے ہیں جس کاکوئی جواب نہیں ملا

حکومت پاکستان نے ایک کروڑ 20لاکھ خاندانوں کی کفالت کے لیے کروناوائرس کی وجہ احساس ایمرجنسی کفالت پروگرام جاری کیاہے اس حوالے کے تحت 12ہزار روپے فی خاندان تقسیم کیے جارہے ہیں ۔وزیراغطم کی معاون خصوصی ڈاکٹر ثانیہ نشر نے ٹوٹئرپر پیغام میں کہا کہ پورے پاکستان سے ہمیں وصول شدہ ایس ایم ایس کی تعداد 3کروڑ 86 لاکھ 56 ہزار 8 سو37ہے ۔انہوں نے کہا کہ احساس ایمرجنسی کیش پروگرام کے تحت ادائیگیوں کا آغاز کردیا ہے ۔جس کے تحت ملک بھر میں 17ہزار پوانئنٹس پر حفاظتی اقدامات کیے گئے ہیں۔احساس صارفین کی صحت اور تحفظ کے لیے رقوم کو بائیو میٹرک کی ادائیگی مراکز اور وہاں پرقائم کاوئزوں کی تعداد اس لیے زیادہ کی گئی کہ وہاں ہجوم جمع نہ ہوسکے ۔ثانیہ نشر نے مزید کہا کہ وزیراعظم صاحب کی حضوصی ہدایات پر اس پروگرام کو دیانت داری سے حق داروں تک ان کا حق پہنچایا جارہا ہے ۔

ڈاکٹر ثانیہ نشر کا کہنا تھاکہ ایمزجنسی کیش امداد کے مستحق افراد اپنا شاختی کارڈز نمبر 8171 پر ایس ایم ایس کرکے رجسٹریشن کروائیں  جوپاکستان کے کسی حصے سے کیا جاسکتاہے ۔وہ ہمارے سٹسم میں آ جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مسحقین دو طرح کے ہوں گے پہلے جاری کفالت پروگرام کے 45 لاکھ موجودہ صارفین کو ماہانہ 2 ہزار روپے وظیفے کے ساتھ ساتھ اگلے چار ماہ کے لیے 10ہزار روپے کی اضافی رقم دی جائے گی جبکہ 75 لاکھ دیگر مستحقین کو چار ماہ کے لیے رقم 12ہزار دی جائے گی، 40 لاکھ افراد قومی سماجی و خوشحال سروے کے اعدادو شمار کے ذریعے اور 35 لاکھ افراد ضلع اتنظامیہ تعاون سے شامل کیے گئے ہیں۔

ڈاکٹر ثانیہ نے جس نمبر 8171 ذکر کیا اس حوالے سے ہم نے متاثرین سے بات کی( کراچی کے مختلف ڈسٹرکٹ کے لوگوں نے بات کی ہے جو بینظیر انکم سپورٹ پرو گرام میں رجسڑڈ ہیں ) تو انہوں نے بتایا کہ اس نمبر پر ایس ایم ایس کرنے پر جواب آتا ہے کہ اپنے ضلعی انتظامیہ سے بات کریں ۔ضلعی انتظامیہ درست جواب نہیں دے رہی ہے ۔اس حوالے سے جب ڈائریکٹر ایچ کیو بی آئی ایس پی سندھ فوزیہ سموں سے ٹیلی فون کے ذریعے رابطہ کیا گیا توا نہوں نے بتایا کہ ایسی کوئی بات نہیں ہے جو خواتین ہمارے پاس اپنے مسائل کسی بھی حوالے سے ہو تو ہم اس کوحل کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔انہوں نے ٹیلی فون بات کرتے ہوئے بتایا کہ میرے سامنے کچھ خواتین موجود ہیں جو مسائل لے کرآئی ہیں جبکہ وزیراغطم کی معاون خصوصی ثانیہ نشتر نے اپنی ایک ویڈیو میں کہاکہ جب 8171 پر مسیج بھیج جاتا ہے تو ہم تین طرح کے مسیج بھیجتے ہیں ایک مسیج یہ ہوتا ہے کہ آپ اس کے اہل نہیں ہے ۔دوسرا ہوتا ہے کہ انتظار جانچ پڑتال ہورہی ہے اورتیسرا ہوتاہے کہ آپ انتظار کریں کہ کس دن آپ کو روپے لینے ہیں، بعد میں ہم ایک اور مسیج کرتے ہیں کہ آپ جاکر احساس کفالت پروگرام کے تحت روپے وصول کرلیں۔

کچھ ذرائع (سکیورٹی وجوہات کی بنا پر نام ظاہر نہیں کیاجارہاہے) احساس کفالت پروگرام کی مکمل لسٹ جاری نہیں کی گئی ہے، 8لاکھ لوگوں کو نکالنے کے بعد سندھ کے لوگوں کی تعداد کم کردی گئی ہے۔

ڈائریکٹر احساس کفالت پروگرام نے ایک لسٹ جاری کی ہے جس کے مطابق سندھ کو اس وقت مجموعی طور پر 3 لاکھ 7ہزار 428روپے دے گئے ہیں ۔جن میں خواتین کو 95ہزار 419 روپے جب کہ مردوں کو 21 ہزار 209روپے دے جاچکے ہیں ۔جبکہ کراچی میں 5 ڈسٹرکٹ کواس طرح دے جارہے ہیں ۔کراچی سینٹرل کو 10330روپے  دے جارہے ہیں ۔کراچی ایسٹ کوٹوٹل روپے 21547 دے جارہے ہیں ۔کراچی ملیر کو جورقم دی جارہی ہے وہ 9220 ہے۔کراچی ساؤتھ میں ٹوٹل رقم 8441 دی گئی ہے ۔کراچی ویسٹ کو 22430 ٹوٹل رقم دی گئی ہے ۔

احساس کفالت پروگرام کے تحت مختلف سرکاری اسکولز میں سینیٹائزرز لگائے ہیں جوصبع 8 سے شام 5 بجے تک کھلے رہیں گے ۔امدادی رقم تقسیم سمیت بینک کاعملہ تعینات ہے جو مستحق خاندانوں کو بائیومیٹرک کی تصدیق کے بعد 12ہزار روپے امدادی رقم دے گا جبکہ خواتین کے لیے گھروں کے قریب سہولت دی گئی ہے پہلے مرحلے میں 23 لاکھ خاندانوں کوامداد دی جائے گی،  اگلے ڈھائی ہفتے تک 144ارب روپے تقسیم کیے جائیں گے جو مجموعی طورپر ایک کروڑ 20 لاکھ خاندانوں میں تقسیم کیے جائیں گے ۔

کراچی میں مختلف ڈسٹرکٹس کے علاقوں میں مراکز بنائے گئے ہیں جس میں ڈسٹرکٹ ایسٹ میں گلشن اقبال میں وفاقی اردو یونیورسٹی، ڈسٹرکٹ سنیٹرل میں نارتھ ناظم آبادمیں عبدالله کالج فار وومین،  ڈسٹرکٹ ساوتھ لیاری میں گورنمنٹ گرلز کالج سکینڈری اسکول غازی محمدبن قاسم آگرہ تاج۔ڈسٹرکٹ ویسٹ اورنگی میں گورنمنٹ ڈگری کالج اورنگی۔ڈسٹرکٹ کورنگی میں شاھ فیصل گورنمنٹ سکینڈری اسکول کورنگی نمبر 4، ڈسٹرکٹ ملیر ابراہیم حیدری میں سویڈیشن کالج قائد آباد، رعنا لیاقت اسکول یونین کونسل 22 گلشن حدید، ڈگری کالج زراق آباد اور گورنمنٹ گرلز کالج گل رعنا بکڑا پڑی شامل ہیں ۔

دوسری جانب آئی جی سندھ آفیس کے ترجمان نے کہاکہ رقم کی تقسیم رینجرز سمیت دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نگرانی میں ہو رہی ہے جبکہ کرونا کے حوالے سے ایس او پی پہلے سے جاری کردی گئی  ہیں، تعینات فورس کوضروری سامان چہرے کے ماسک، دستانے، صابن و سینیٹائزز دیے جارہے ہیں، ترجمان کے مطابق رقوم کی تقسیم کے وقت آس پاس کوئی بھیڑ یا مجمع نہیں ہوگا۔ سماجی رابطے اور ماسک لگانے کا خیال رکھا گیاہے، پولیس عملے میں خواتین اور مرد شامل ہیں، اگر کسی بھی قسم کی شکایت جس میں رقوم کی کٹوتی ہو یا پھر ہنگامہ آرائی تو ایسے افراد کو گرفتار کیا جارہاہے ۔ آئی جی سندھ کے آفیس ترجمان نے کہا کہ کراچی میں اب تک ایسی کوئی شکایت نہیں ملی ہے کہ کسی نے متاثرین سے رقم طلب کی یاکٹوتی کی ہے

اس باتوں پر عمل درآمد کو دیکھتے تو کچھ علاقوں واقعی نظر آیا جس میں ڈسٹرکٹ ساوتھ کاعلاقے شامل ہیں جہاں پر سماجی رابطہ رکھا گیا اور پرسکون ماحول میں امدادی رقم تقسیم کی گئی ۔مگر کراچی کے کچھ ایسے بھی علاقے تھے (جس میں کورنگی اورسینڑل کا علاقہ شامل ہیں )جہاں حکومت سندھ کے احکامات کی دھجیاں اڑائی گئیں، پولیس اورینجرز کچھ کر نہیں پارہی تھی، جس میں ایک لمبی قطاریں، بھوک اورپریشانی سے بےحال لوگوں کو نہ تو سماجی رابطے  کا خیال تھا اور نہ ماسک لگانے کا، جب متاثرین سے پوچھا گیا تو وہ غصے سے پھٹ پڑے انہوں نے کہا ہم کرونا سے نہیں بھوک سے مرجائیں گے ۔ہم پر رحم کیا جائے۔کچھ خواتین ایسی بھی تھیں جو شکاتیں کر رہی تھی کہ ہم شاختی کارڈ اور بے نظیر انکم سپورٹ کارڈ لے گئے تو ہمیں منع کردیا گیا کہ یہ بینظیر انکم سپورٹ کارڈ بلاک ہوگیا ہے جبکہ ہم نے کہا اب کیا کیا جائے تو انہوں نے کہا میڈیا کہ سامنے بات کرو جاکر تو کچھ ہوگا، کچھ متاثرین کا کہنا ہے کہ ہمیں صبح سے آئے شام ہو جاتی ہے مگر پیسے نہیں ملتے، اس سے بہتر ہمیں کام کرنے دیا جائے ۔انہوں نے وزیراغطم اور وزیراعلی سندھ سے اپیل کی کہ احساس کفالت پروگرام کے روپے عزت سے دیے جائیں تاکہ ہم گھروں میں آرام سے بیھٹے رہیں۔

اس حوالے بھی ڈائریکٹر ایچ کیو بی آئی ایس پی سندھ فوزیہ سموں سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا یہ بات بالکل درست ہے کہ ہم نے کچھ لوگوں جن میں مرد اور خواتین شامل ان کے کارڈز بلاک کردیے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ نادرا اور جو علاقے یوسی سمیت دیگر لوگوں کے ذریعے سروے کیا جس میں کچھ ایسے خاندان بھی ہمیں ملے جو اس پروگرام کے حقدار نہیں ہیں، احساس کفالت پروگرام کامقصد اس رقم کو حقداروں تک پہنچاناہے۔ احساس کفالت پروگرام میں کراچی کے بیشتر علاقوں میں ایسی بزرگ خواتین اور مرد حضرات ملے جنہوں نے روتے ہوئے بتایا کہ ہمیں احساس کے مسیج تو آئے مگر روپے مل نہیں رہے، ایسے ایک 78سالہ بزرگ جمیل احمد سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے روتے ہوئے بتایا کہ مجھے احساس پروگرام کے تحت ایک مسیج آیا کہ آپ اس کے اہل ہیں مگر جب میں لینے گیا تو انہوں نے کہاکہ آپ کو یہ رقم نہیں مل سکتی کیونکہ آپ کے انگوٹھے کے نشان واضح نہیں ہیں۔ جمیل احمد نے کہاکہ 78سال کے بعد مجھے معلوم ہوا میری کوئی شاخت ہی نہیں ہے انہوں کہاکہ روپے دینے ہیں تو دیں ایسی باتیں نہ کریں کہ انگوٹھے کے نشانات واضح نہیں ہیں۔ یہ صرف جمیل احمدکی شکایت نہیں ایسے بہت سے بزرگ ہیں جو ایسے حالات میں اپنے پیٹ کے لیے لائن میں کھڑے ہوتے ہیں ۔یہ بات جاننے کے لیے دوبارہ فوزیہ سموں سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہاکہ زیادہ عمرہونے کی وجہ سے پریشر کم ہو جاتا ہے جس وجہ سے یہ سب کچھ ہو رہا ہے مگر اس نے یہ نہیں بتایا کہ ان غریب بزرگوں کی مددکرنے لیے کونسا طریقہ استعمال کریں گے ۔ثانیہ نشتر نے اپنے بیان میں کہاکہ ہم نے 50 لاکھ خاندانوں میں 60 ارب سے زائد رقم تقسیم کرچکے ہیں ۔ہمارے مسیج کا ٹائم بھی 19اپریل تک مکمل ہو چکا ہے جبکہ ہم ایک فیز مکمل کرکے دوسرے فیز میں رقم تقسیم کررہے ہیں ۔

اس حوالے صوبائی وزیر ناصر شاھ سے جب رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ انہوں نے وفاقی حکومت سے ان خدشات کا ذکر پہلے کیا تھاجب رجسٹریشن ہورہی تھی کہ ہمیں شکایات موصول ہو رہی تھیں کہ ایس ایم ایس پر کٹوتی مختلف موبائیل کمپنیاں کر رہی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ یہ امداد اچھی بات ہے مگر مستحقین کو ملنی چاہے انہوں نے کہاکہ کچھ علاقوں سے رقم کی کٹوتی کی شکایت ملیں جس کے بعد ان لوگوں گرفتار کیا گیاہے ۔ناصرشاھ نے کہاکہ امدادی رقم میں کسی بھی قسم کی کریشن کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

تحریک انصاف کے رہنما حلیم عادل شیخ سے جب بات کی تو انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کے شکر گزار ہیں جنہوں نے ایسے حالات عوام کی مشکلات کا احساس کیا۔انہوں نے کہاکہ اب تک احساس کفالت ایمر جنسی پروگرام کے تحت20اپریل تک 15لاکھ 73ہزار149لوگوں میں 18ارب 87کروڑروپے تقسیم کیے گیے  اوریہ سلسلہ جاری رہے گا

 

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.