کراچی کس طرح وبا سے نمٹ رہا ہے؟

ماریہ اسماعیل

صوبہ سندھ کے دارالحکومت اور روشنیوں کے شہر کراچی کونہ جانے کس کی نظرلگ گئی کے پورے شہرمیں سناٹے کاراج ہے، اس بار اس شہر کو کسی دہشتگردی نہیں بلکہ وبا نے اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے مگر اس کے باوجود چندلوگ اس وبا کوشکست دینے میں کامیاب ہوگئے جن میں سے کراچی کے علاقے ناظم آباد کی ایک نوجوان لڑکی (سیکیورٹی وجوہات کی وجہ سے ان کا نام ظاہر نہیں کیا جا سکتا) بھی ہیں۔

کورونا کا بہادری سے مقابلہ کرکے صحت مند ہونے والی لڑکی گزشتہ ماہ 9 مارچ کو وبا کا شکار ہوئی ٹھیں اور کئی دن زیر علاج رہنے کے بعد وہ اس وبا کو شکست دینے میں کامیاب ہوئیں۔

انہوں نے بتایا کہ ابتدائی طور پر انہیں صرف خشک کھانسی، بخار اورالٹیاں آئیں اور ساتھ ہی انہیں پیٹ میں درد بھی ہوا، جس وجہ سے ان کے اہل خانہ انہیں علاقے کے قریبی ہسپتال لے گئے اور ہسپتال والوں نے ابتدائی طور پر انہیں بخار و کھانسی کی ہی دوا دی مگر جب انہیں ایک ہفتہ کے بعد بھی آرام نہ ملا توان کے گھروالوں نے انہیں نجی اسپتال کی ایمرجنسی میں دکھایا، جہاں پر ان کا کورونا کا ٹیسٹ کیا گیا جو بد قسمتی سے مثبت آیا۔

انہوں نے بتایا کہ نجی اسپتال نے ٹیسٹ کے لیے11ہزار روپے کی فیس لی جو ان کے گھر والوں نے کس طرح ادا کی، وہ ایک الگ داستان ہے۔

انہوں نے بتایا کہ کورونا کا ٹیسٹ مثبت آنےکے بعد ان کے اہل خانہ نے انہیں گلزارہجری میں ایک ڈی ایم سی سرکاری اسپتال میں آئسولیشن وارڈ میں لے گئے جوایک مچھلی مارکیٹ کا سماں پیش کررہا تھا، جس وجہ سے ان کے گھروالے راضی نہ ہوئے اور وہ انہیں نجی اسپتال لے گئے مگر وہاں پرائیویٹ آئیسولیشن کی فیس 8لاکھ تھی اس میں داخل کیا گیا، بڑی مشکل سے نجی اسپتال والے راضی ہوئے کہ 4لاکھ ابھی لیں گے 4 لاکھ بعد میں لیں گے۔ اس طرح میں 10 دن میں کروناوائرس کوشکست دے کر ہسپتال سے باہر آگئی، مگر میرے گھروالوں کو کروناوائرس ہوگیاجواس وقت زیرعلاج ہیں۔

سرکاری اعداد و شمار و صوبائی وزیر صحت عذا پچوہو کے مطابق سندھ میں کروناوائرس کے کیسں 881ظاہرہوئے ہیں، جن میں سے کراچی میں 395کیس ظاہرہوئے ہیں، کراچی میں 13افراد فوت ہوگئے ہیں جب کہ کراچی میں ہی سندھ کے دوسرے شہروں ٹنڈومحمد خان اوراسلام کوٹ کے 2 رہائشی بھی فوت ہو چکےہیں، اس طرح سندھ میں فوت ہونے کی تعداد 15ہوگئی ہے۔

صوبائی وزیر نے کہاکہ فوت ہونے والے افراد کی عمریں 50سے 80کے درمیان ہیں جبکہ فوت ہونے افراد شوگ، ۔ ہائی بلڈپریشراورگردوں سمیت دیگر یماریوں میں بھی متبلاتھے۔

صوبائی وزیر نے مزید کہاکہ فوت ہونے والوں کچھ کی سفری ہسٹری عمرہ اورکچھ ایران سے ظاہرہوتی ہے۔

اگر ہم کراچی میں کرونا کاجائزہ لیں تو 417 کیس میں سے 31 مریض صحت یاب ہوکراپنے گھروں کوجاچکے ہیں

کراچی سب سےزیادہ تر کیس صدرٹاؤن میں 64 اس کے بعد   58گلشن اقبال میں ظاہر ہوئے۔ 35نارتھ ناظم آباد، گلبرگ میں 1، لیاری میں ایک، جمیشد ٹاؤن میں 15۔ملیرمیں 15۔گڈاپ میں 2۔نیوکراچی میں 3۔لیاقت آباد میں 5۔اسٹیل ٹاؤن میں ایک ۔کورنگی اورلاندھی میں دوظاہرہوئے ہیں ۔

محکمہ صحت کے مطابق کرونا کیسز میں سے 64 فیصد مرد جب کہ 35 فیصد سے زائد خواتین شامل ہیں ۔

حکمہ صحت کے موجب ضلع شرقی میں 14۔وسطی میں 13۔جنوبی میں 11۔غربی میں 2۔ملیرمیں 15۔اورضلع کورنگی میں ایک کروناکیس ظاہرہواہےجبکہ ہمیں یہ معلوم ہواکہ اسلام کوٹ ٹاؤن کا نوجوان کونسلرآکاش ہریشن منجائی کراچی کے این آئی سی وی ڈی میں دل کے تکلیف کے بعد پراسراطور پرفوت ہوگیا توہم نے ان گھروالوں سے رابطہ کیا تونوجوان کے چچاکمارمنجائی نے کہاکہ آکاش کودودن قبل گلے میں دردہواتھا اورفوت ہونے سے کچھ دن قبل دل کی تکلیف کے باعث این آئی سی وی ڈی میں داخل کیا گیا مگر اچانک ڈاکٹرز کا کہنا ہے اس انتقال ہوگیا جب محکمہ صحت کو پتہ چلا توانہوں نے ہمارے پورے گھراور آکاش کی لاش کے ٹیسٹ کیے جس میں گھرکے تمام افراد کے نیگیٹوجبکہ آکاش کے پازٹیورپورٹ آئی ہے۔

انہوں کہ آکاش کا انتم سنسکار کراچی میں کریں گے اس لیے یہ موذی وبا ہمارے علاقے میں نہ پھیل جائے کراچی میں کچھ ایسی نیوزآرہی تھی کہ ایدھی سینٹر اور چھپا فانڈویشن نے اپنے غسل خانے مردہ خانے اور ایمبولینس سروسزبند کردی ہیں، جس حوالے سے جب ہمیں نے ایدھی فانڈویشن کے سربراہ فیصل ایدھی سے رابطہ کیا تو انہوں نے بتایاکہ ہمیں حفاظتی تدابیرنہ ہونے کی وجہ سے اپنا سرد خانے اور ایمبولینس سروسز کوعارضی طور بند کیاتھا کیونکہ ہمیں یہ خطرا تھاکہ ہمارے کارکنان اس وبائی مرض میں متبلا نہ ہوجائیں مگر سندھ حکومت سمیت دیگرکے تعاون سے ہم نے اپنے عملے کو باقاعدہ طور پرتربیت دی ہے کہ کس طرح میتوں کولے کرآئیں ۔غسل دے کرحفاظتی تدابیرسے میتوں کودفنایا جائے ۔

چھیپا فانڈویشن کے رمضان چھیپا کہاکہ ہم نے حفاظت کے بعد اپنی ایمبولینس سروسز اور سردخانے کوکھول دیا ہے تاکہ اس مشکل گھڑی میں عوام کوریلیف مل سکے۔

ہماری ملاقات ایک ایسے شخص سے بھی ہوئی جس کا کراچی میں کرونا کا ٹیسٹ پازٹیوجب کہ لاہورمیں نیگیوآیاتھا۔

محمدحینف(اس نے ہمیں ثبوت کے طورپررسیدیں بھی بتائی ہیں)نے بتایاکہ 17مارچ کواچانک میری حالت خراب ہونے کے بعد میرے دوست مجھے کروناکاٹیسٹ کرانے آغاخان لے گئے جہاں پرمیرا ٹیسٹ ہوا، انہوں نے بتایاکہ میں کراچی میں کام کرتاہوں میری فیملی بھی اسی شہرمیں ہے جس طرح عام بخار ہوتاہے اس طرح مجھے بھی ہواتھا۔

محمدحینف کے مطابق میں 18مارچ کورپورٹ لینے گیا تو مجھے کہاگیاآپ کاٹیسٹ پازٹیوآیا ہے اس لیے آپ کوآئیسولیشن وارڈ میں رکھا جائے گاجس کی فیس 6 لاکھ روپے ہے میں نے 50 ہزار روپے جمع کراودیے اور مجھے پرائیویٹ کمرہ نمبر33 دیا گیا۔ محمدحینف نے کہاکہ میں 19مارچ کوکوئی بہانہ کرکے اپنے گھر آگیا جہاں پرمیری فیملی اوردوست نے مشورہ دیا پنجاب چلا جاؤں میں مشورہ مانا اورلاہورکے اسپتال میں دوبارہ کروناٹیسٹ کرایا جس کی رپورٹ نیگیٹوآئی۔

وزیراعلی سندھ کے معاون خصوصی اور ڈسٹرکٹ سائوتھ کرونا کمیٹی کے سربراہ وقار مہدی کا رابطہ کیا گیا توانہوں نے بتایاکہ ملک کا پہلا ڈرائیور تھرو سینٹر انڈس اسپتال کے تعاون سے سب ڈویژن سول لائنز میں باغ ابن قاسم کراچی میں قائم کیا گیا انہوں نے کہاکہ ڈرائیور تھرو سینٹر میں کرونا ٹیسٹ کیلئے ہیلپ لائن پررابطہ کرکے اپائنٹمنٹ لیا جاسکتا ہے۔ وقارمہدی نے کہاکہ ڈسٹرکٹ سائوتھ میں اس وقت 57 کرونا وائرس کے مریض زیرعلاج ہیں جن کی مکمل دیکھ بھال کی جارہی ہے۔

انہوں نے کہاکہ ڈرائیور تھرو سینٹر ڈسٹرکٹ کے مختلف علاقوں میں بھی قائم کرنے کیلئے کوششیں جاری ہیں۔

ڈی سی ساؤتھ ارشاد علی سوڈھرکاکہنا ہے کہ سندھ حکومت نے انڈس اسپتال کے تعاون سے کوروناوائرس کے ٹیسٹ کومزید آسان بنادیا سب ڈویژن سول لائنز میں باغ ابن قاسم کراچی میں ڈرائیورتھروسینٹرقائم کیا گیا ہے جہاں ماہرڈاکٹرزکوتعینات کیاگیا ہے۔

ڈی سی سائوتھ ارشاد علی سوڈھرکا کہنا تھا کہ اپنے شہریوں کو ان کے گھروں کے قریب ٹیسٹ کی مثالی سہولت دے رہے ہیں، ڈرائیو تھرو سینٹر میں کرونا ٹیسٹ کیلئے ہیلپ لائن 02199203012 پر رابطہ کرکے اپنا اندراج کروا کروقت لیا جاسکتا ہے۔

ڈاکٹر تسلیم کاکہناتھا کہ سب سے پہلے مریض سے ہسٹری معلوم کی جاتی ہے

ڈاکٹر طاہرشمسی کاکہناہے کہ کوروناوائرس سے نمٹنے کے لیے کوئی ویکسین نہیں ہے ۔

ویکسین لگنے سے قوت مدافعت کانظام وائرس کے خلاف اینٹی باڈیز بناتاہے اوروائرس کے حملے کی صورت میں ایٹی باڈیزسے بے اثرکردیتی ہے۔

انہوں نے کہاکہ جب ویکسین نہ تھی توپیسیوامیونائزیشن کی جاتی تھی لہذاحکومت کوتجویز دی ہے کہ کروناوائرس سے بچنے کاایک طریقہ یہی ہے جو100سال سے رائج ہے جس میں پلازمااکٹھاکرکے اس کوتیار کیاجاتاہے جس میں 2ہفتے لگتے ہیں ۔

دوسری جانب پاکستان پیرامیڈیکل ایسویشین کے جنرل سیکریٹری ڈاکٹرقیصرسجاد کاکہناہے کروناوائرس کی دواہم علاماتیں بخارشروع ہوتاہے جس کے بعد خشک کھانسی ہوتی ہے ۔

جسم میں درد شروع ہوتا ہے، تھکاوٹ کااحساس ہوتاہے،  کبھی کھبی متلی اورستی ہوتے ہے، انہوں نے کہاکہ یہ نمونیا کی بگڑی شکل ہے اس میں کینسربھی ہوسکتا ہے اس سے بچاؤ کا واحد حل سماجی رابطوں کوکم کرناہے

ماہرڈاکٹرحفیظ کاکہناہے کہ کروناوائرس کامریض سب زیادہ خطرناک اپنے گھروالوں کے لیے ہوتاہے اس لیے اس کو15دنوں کے لیے آئسولیشن وارڈ میں رکھا جاتاہے اوراچھی خوراک بھی دی جائے

ڈاؤ یونی ورسٹی  آف ہیلتھ سائنسز کے وائس چانسلر پروفیسر محمد سعید قریشی نے کہا ہے کہ کورونا ایمرجنسی کے باعث ٹیسٹ کرنے کی صلاحیت بڑھاتے ہوئے اسے ایک ہزار روزانہ تک لے جایا جا رہا ہے۔

ڈاؤ اسپتال میں عام مریضوں کے لیےمفت ٹیلی میڈیسن کلینک کا بھی آغازکیا گیا۔

انہوں نے کہاکہ فی الحال ڈاؤ لیب اوجھا کیمپس میں تین سو کورونا ٹیسٹ روزانہ کی بنیاد پرکرنے کی صلاحیت ہے انہوں نے بتایاکہ اب تک ہمارے یہاں ہونے والے سیکڑوں ٹیسٹ کے بعد وہ کہہ سکتے ہیں کہ مثبت آنے کی اوسط نوفیصد ہےانہوں نے کہاکہ صوبے میں اسکریننگ کا عمل تیز کیا جارہاہے یہ اسی سلسلے کی کڑی ہے۔

انہوں نے بتایاکہ ڈاؤ میں چودہ آئسو لیشن بیڈ ہیں جبکہ اس وقت ہمارے یہاں کورونا کے دس مریض زیرعلا ج ہیں جن میں چار وینٹی لیٹر پر ہیں جہاں تک  کورونا سے متاثر مریضوں کا صحت یابی کا تعلق ہے جوکہ آیا صحت یاب ہی ہوکر کرگیا ہے اب تک ہمارے یہاں کورونا سے صرف دو اموات ہوئی ہیں ان میں سے ایک کو بڑی عمر کے ساتھ  ہارٹ، بلڈپریشر شوگر وغیرہ  کے مسائل بھی تھے دوسرے کے ساتھ ایسا مسائل نہیں تھے انہوں نے بتایا کہ ڈاؤ میں بھی دنیا بھر کی طرح کورونا کے علاج کے لیے کلوروکوئین ایزی تھرومائیسین کے مرکب سے علاج ہورہاہے اس کے مثبت نتائج آرہے ہیں لیکن سوفیصد نتائج  نہیں آرہے ہیں تاہم اس علاج کے حوالے سے ہمارے یہاں ایک تحقیقی ٹیم کام کررہی ہے جو مریضوں کی چوبیس گھنٹے نگرانی کرکے اس مرکب کے اثرات کا مکمل تجزیہ کررہی ہے اس ریسرچ کے مکمل ہونے بعد ہی کورونا سے اس کے ذریعے علاج پر رائے دی جاسکے گی ۔

پروفیسرمحمد سعید قریشی نے کہاکہ کورونا ایمرجنسی کے باعث ہماری اوپی ڈیز بند ہوگئی ہیں جس سے عام امراض کے مریضوں کو پریشانی ہورہی ہے اس کےلیے ڈاؤ یونیورسٹی اسپتال میں ایک مفت آن لائن کلینک شروع کیا جارہاہے جس میں ہمارے ماہر ڈاکٹرز صبح نوبجے سے دوبجے تک ہفتے میں چھ دن  فرائض انجام دیں گے مفت ٹیلی میڈیسن کلینک چھ گھنٹے پیر تا ہفتہ خدمات انجام دیں گے ۔گائنی ،میڈیسن،سرجری اور سائیکاٹری کے مریض ماہرین سے مفت مشورے لے سکیں گے اور دوا بھی تجویز کی جاسکیں گی انہوں نے بتایا کہ کلینک سے فون نمبر پررابطہ کرکے استفادہ کی جاسکتاہے

ایکسیوسینٹرحسن اسکوائر میں کوروناوائرس کے مریضوں کے 1200بستروں پرمشتمل فیلڈ آئیسولیشن سینٹر کوکھول دیاگیاہے۔

انتظامیہ نے بتایاکہ آئیسولیشن سیٹنرزکوڈبلیوایچ اوکے اصولوں کے تحت تیار کیاگیا ہے ۔

کروناوائرس کے مکمل خاتمے تک یہ کام کرتارہے گا۔  صوبائی محکمہ صحت کی جانب سے 900 ڈاکٹروں، پیرا میڈیکل و نرسنگ عملے کی تعیناتیوں کے احکامات جاری کردیے گئے ہیں۔

محکمہ صحت کا عملہ 3 شفٹوں میں تعینات کیا جائے گا،عملے کوایکسپو اسپتال میں علیحدہ سے قیام، طعام کی بھی سہولیتیں فراہم کی جائیں گی، اپنی پیشہ وارانہ ڈیوٹیاں دینے والے عملے کو اسپتال ہی میں 15 دن تک قرنطینہ میں بھی احتیاط کے طور پر رکھاجائے گا

ماہرین صحت کاکہناہے کہ ہم کیا وبائی امراض سے نمنٹنے کے لیے ٹرینڈ ہیں؟ پرسنل پروٹیکٹیو ایکوئیپمنٹ کے بغیر ان سے کام کروانا قتل کے مترادف ہے۔ پھر یہ بھی سوچنا ہوگا کہ ان 50 ہزار لوگوں کا کھانا کون لائے گا؟ یہ وائرس ائیربورن ہوکر قریب کن بستیوں میں جائے گا۔

میڈیکل اور انسانی فضلہ کیسے ٹھکانے لگایا جائے گا۔  شہر کے بیچوں بیچ یہ قرنطینہ سینٹرز کورونا کو پھیلانے کے ہاٹ اسپاٹس نہ بن جائے ۔

اس لیے اس بات کو سمجھنا ہم سب کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان کا ہیلتھ انفرااسٹکچر کہیں سے بھی اس قابل نہیں ہے کہ وہ اس وبا کا مقابلہ کرسکے۔ ہم اگر ٹیسٹنگ اور وینٹی لیٹرز میں اپنی استعداد کو بڑھا سکیں تو ایک قابلِ ستائش کام ہوگا۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.